بہاولپور؛ برصغیر کی دوسری سب سے بڑی اسلامی ریاست

برصغیر پاک وہند کی دوسری بڑی اسلامی ریاست بہاول پور کی بنیاد 1727ء میں نواب صادق محمد خان عباسی اول نے رکھی اور تحصیل لیاقت پور کا قصبہ اللہ آباد ریاست کا پہلا دارالخلافہ قرار پایا۔

1258ء میں ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد کی تباہی کے بعد عباسی شہزادوں نے سندھ کا رخ کیا۔ امیر چنی خان عباسی کو اکبراعظم کے بیٹے سے پنج ہزاری کا منصب عطا ہوا اور اوباڑو سے لاہوری بندر تک کا علاقہ اجارہ پر دے دیا گیا۔

امیرچنی خان کی اولاد میں مہدی خان اور داؤد خان کے خاندانوں میں جھگڑا اُٹھ کھڑا ہوا۔ مہدی خان کی اولاد کلہوڑے کہلائے جنہوں نے صدیوں تک سندھ پر حکومت کی اور مقامی قبائل نے ان کا ساتھ دیا جبکہ عرب قبائل نے داؤد خان کی اولاد کا ساتھ دیا جو ’’داؤد پوتا عباسی‘‘ کہلائے۔ ریاست بہاول پور کے بانی نواب صادق محمد خان اول عباسی امیر داؤد خان کی تیرھویں پشت سے تھے۔ عباسی داؤد پوتوں نے صادق آباد، خانپور، منچن آباد، شہر فرید، اوچ وغیرہ کے علاقے اور ریاست جیسلمیر، ریاست بیکانیر کلہوڑوں سے فتح کر کے موجودہ ریاست بہاول پور کی بنیاد رکھی۔

نواب صادق محمد خان اول عباسی نے 1739ء میں نادر شاہ درانی سے نواب کا خطاب حاصل کیا۔ اس طرح اس کی حکمرانی موجودہ ریاست بہاول پور کے علاوہ شکار پور، لاڑکانہ، سیوستان، چھتار وغیرہ کے علاقوں پر تسلیم کی گئی۔ (جس کی یادگار بہاول پور شہر میں شکارپوری گیٹ ہے)۔ نواب صادق محمدخان اول عباسی کے بیٹے نواب بہاول خان عباسی اول نے 1774ء میں دریائے ستلج کے جنوب میں تین میل کے فاصلے پر ایک نئے شہر بہاول پور کی بنیاد رکھی اور ریاست کے وسط میں ہونے کی بنا پر اسے ریاست کا دارالخلافہ قرار دیا گیا۔

نواب بہاول خاں ثانی کے عہد میںاس ریاست کو ’’دارالسرور بہاول پور‘‘ کا سرکاری نام دیا گیااور اسی نام کا سکہ اور مہریں استعمال ہوتی تھیں۔ ریاست بہاول پور کے بارہ نوابوں میں سے نواب بہاول خاں ثالث بالخیر ، نواب فتح خاں، نواب صادق محمد خاں چہارم (صبح صادق) اور آخری نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی کے ادوار کو ترقی وخوشحالی اور بہترین نظامِ حکومت کے حوالے سے خاص اہمیت حاصل ہے۔

نواب سر صادق محمد خاں خامس عباسی 30 ستمبر 1904 کو بروز جمعہ دولتِ خانہ عالیہ بہاول پور کی عمارت میں پیدا ہوئے، وہ اپنے والد نواب حاجی محمد بہاول خان خامس عباسی کے اکلوتے فرزند تھے۔ 2 سال کی عمر میں والد کے ساتھ سفرِ حج کیا، جس سے واپسی پر دورانِ سفر نواب بہاول خان کا انتقال ہو گیا۔ 15مئی 1907ء کو سر صادق کو ریاست کا حکمران بنانے کا اعلان کیا گیا مگر ریاست کے انتظام اور نواب صاحب کی تعلیم و تربیت کے لیے حکومتِ برطانیہ نے آئی سی ایس آفیسر سر رحیم بخش کی سربراہی میں کونسل آف ریجنسی قائم کی۔

نواب صاحب نے ابتدائی عربی، فارسی اور مذہبی تعلیم اپنے اتالیق نامور علمی شخصیت علامہ مولوی غلام حسین قریشی سے حاصل کی، 3 سال کی عمر میں تخت نشین ہونے والے شہزادے کی شخصیت کو نکھارنے کے لیے ان کی مذہبی، تعلیمی، فوجی اور انتظامی ہر لحاظ سے اعلیٰ ترین تربیت کی گئی،یہی وجہ ہے کہ 1911ء میں ہونے والے دہلی دربار میںصرف سات سال کی عمر میںاپنی فوج کی کمان کرتے ہوئے شہنشاہ برطانیہ جارج پنجم کے سامنے پیش ہوئے۔

1913ء میں تعلیم اور امورِ ریاست کی تربیت کے لیے لندن بھیجا گیا۔ 1915؁ء سے 1921ء تک ایچی سن کالج لاہور میں زیرِ تعلیم رہے۔ 1921ء میں ہِز رائل ہائینس پرنس آف ویلز کے ایڈی کانگ مقرر ہوئے۔ مارچ 1924ء کو لارڈ ریڈنگ وائسرائے ہند نے بہاول پور آ کر نورمحل میں منعقدہ تقریب میں نواب سر صادق کی رسمِ تاجپوشی ادا کی اور مکمل اختیارات تفویض کیے اور اسی موقع پر ’’صادق ریڈنگ لائبریری‘‘ کی عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا جو اب سنٹرل لائبریری کے نام سے موسوم ہے اور پنجاب کی دوسری بڑی لائبریری ہے، جس میں نادر ونایاب مخطوطات، قدیم و جدید اخبارات و رسائل اور لاکھوں کی تعداد میں کتب موجود ہیں۔

اس لائبریری میں ایک لاری کا بھی انتظام کیا گیا، وہ خواتین جو پردے کی پابندی کی وجہ سے گھروں سے باہر نہیں جاتی تھیں ان کے لیے اس لاری میں سفری لائبریری کا انتظام کیا گیا اور خواتین کلرک گھروں میں جا کر کتابیں جاری کرتیں اور واپس لاتیں۔

اس کے علاوہ صادق گڑھ پیلس اور صادق ایجرٹن کالج (ایس ای کالج) کی لائبریریاں بھی نادر و نایاب کتب کے حوالے سے مشہور ہیں۔ سر صادق دنیا بھر سے جو کتب منگواتے، اس کے تین نسخے منگواتے، ایک صادق ریڈنگ لائبریری (سنٹرل لائبریری)، دوسرا صادق گڑھ پیلس لائبریری اور تیسرا صادق ایجرٹن کالج کی لائبریری کے لیے۔ ریاست بہاول پور میں ہمیشہ علم وادب کی سرپرستی کی گئی۔

نواب صاحب مرحوم اور ان کے پیشروؤں نے ہمیشہ تعلیم کی ترویج کے لیے اقدامات کیے۔ ابھی سرسید کی علمی تحریک اپنے آغاز میں ہی تھی کہ اس وقت نواب سر صادق کے دادا نواب صادق محمد چہارم (المعروف صبح صادق) نے 1886ء میں’’ صادق ایجرٹن کالج‘‘ کا افتتاح کیا جہاں 1892ء میں ڈگری کلاسز کا اجراء کیا گیا۔

برصغیر کے ممتاز ماہرینِ تعلیم کا تقرر ایس ای کالج میں کیا گیا، جن میں بابو پرسنا کمار بوس بطور پہلے پرنسپل، پروفیسر لالہ رام رتن، پروفیسر مرزا اشرف گورگانی، مولوی محمد دین، پروفیسر وحید الدین سلیمؔ پانی پتی نمایاں نام ہیں۔ نواب سر صادق نے اقتدار سنبھالتے ہی 1925ء میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ دینی تعلیم کے لیے مدرسہ صدر دینیات کو ترقی دے کر جامعۃ الازہر کی طرز پر جامعہ عباسیہ قائم کیا۔ یہ پورے برصغیر میں اپنی نوعیت کا واحد ادارہ تھا، جہاں تمام مکاتبِ فکر کے علماء و اساتذہ تعلیم دیتے تھے اور اسی طرح تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے طلبہ اکتسابِ فیض حاصل کرتے تھے۔ جامعہ عباسیہ میں دینی و مشرقی علوم کے ساتھ ساتھ ریاضی، انگریزی اور سائنس کی لازمی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ طب یونانی کی تعلیم کے لیے 1926ء میں جامعہ عباسیہ کا ذیلی ادارہ طبیہ کالج بھی قائم کیا گیا جو اس وقت پنجاب کا واحد سرکاری طبیہ کالج ہے۔

ریاست کے طول وعرض میں قائم تمام دینی مدرسوں کے لیے اسے Examining Authority کا درجہ بھی حاصل تھا اور جامعہ کو ہی سند جاری کرنے کا اختیار تھا۔ اس کے علاوہ صرف جامعہ کے دارالافتاء کو ہی فتویٰ جاری کرنے کا اختیار تھا اور وہی عدالتوں میں قابل قبول تھا۔ نامور عالم دین علامہ غلام محمد گھوٹویؒ کو پہلا شیخ الجامعہ مقرر کیا گیا۔

ریاست کے طول وعرض میں موجود تمام مکاتبِ فکر کے مدارس میں صرف جامعہ عباسیہ کا منظور شدہ نصاب پڑھانے کی اجازت تھی (تاکہ فرقہ واریت کو روکا جا سکے)۔ مختلف ادوار میں مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ، حضرت غلام محمد گھوٹویؒ(شیخ الجامعہ)،مولانا احمد علی بلوچؒ، مولانا فاروق احمد ؒ، مولانا صادق محمدؒ، مولانا عبید اللہ، قاضی منظور احمدؒ ، مفتی محمد امین، مولانا محمد امیر، مولانا ناظم ندوی، مولانا ادریس کاندھلویؒ ،علامہ شمس الحق افغانیؓ اور علامہ سید احمد سعید کاظمیؒ جیسی نابغۂ روزگارشخصیات برصغیر کی عظیم دینی درسگاہ جامعہ عباسیہ سے وابستہ رہیں اور اس ادارے نے ہزاروں ایسے علماء پیدا کیے جو اپنی مثال آپ تھے۔

یہ ادارہ ترقی کرتے ہوئے آج ’’دی اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاول پور‘‘ کے نام سے پاکستان کا نامور ادارہ ہے، جہاں 45 سے زائد شعبوں میں ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح تک تعلیم دی جا رہی ہے۔ تعلیم نسواں کے لیے صادق گرلز سکول اوران کی اعلیٰ تعلیم کے لیے صادق گرلز کالج قائم کیے گئے اور طالبات کو لانے اور واپس پہنچانے کے لیے بس کا انتظام بھی کیا گیا۔ صادق گرلز کالج ترقی کرکے اب خواتین یونیورسٹی کی حیثیت اختیار کر چکاہے۔

فنی تعلیم کے لیے صادق کمرشل انسٹی ٹیوٹ قائم ہوا جواَب صادق کامرس کالج کے نام سے پوسٹ گریجوایٹ تک طلبہ کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کر رہا ہے۔ نواب سر صادق نے ریاست بھر میں طلبہ و طالبات کے لیے تعلیمی اداروں کا جال بچھا دیا، جہاں سب کے لیے تعلیم مفت تھی اور ہونہار طالب علموں کو وظائف بھی دیے جاتے تھے۔اساتذہ کی تربیت کے لیے بہاول پور، خان پور اور چشتیاں میں نارمل سکول قائم کیے گئے جو بعد میں ترقی کر کے ایلیمنٹری کالجز میں تبدیل ہو گئے۔

ریاست کے طلبہ کی اعلیٰ اور پروفیشنل تعلیم کے لیے برصغیر کے تمام اہم اداروں میں سیٹیں مقرر کی گئیں اور یہ طلبہ ریاست کے خرچہ پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے تھے۔ لاہور اور کراچی میں نواب مرحوم نے بہاول پور ہاؤسز میں ہاسٹل تعمیر کیے جہاں ریاست کے ان طلبہ کے لیے رہائش اور خوراک کا مفت انتظام تھا۔

قیام پاکستان کے بعد نواب سر صادق مرحوم کا سب سے بڑا کارنامہ ایچی سن کالج کی طرز پر1954؁ء میں صادق پبلک سکول جیسے اعلیٰ معیاری ادارے کا قیام ہے۔اس ادارے کے لیے نواب صاحب مرحوم نے اپنی  450ایکڑ ذاتی زمین کے علاوہ تعمیروترقی کے لیے فنڈزفراہم کیے اور ایچی سن کالج کے معروف استاد اور ماہرِ تعلیم خان انور سکندر خان کو اس ادارے کا پہلا پرنسپل مقرر کیا۔

1928ء ستلج ویلی پراجیکٹ کا افتتاح جس کے تحت دریائے ستلج پر تین ہیڈ ورکس سلیمانکی، ہیڈ اسلام اور ہیڈ پنجند تعمیر کیے گئے اور پوری ریاست میں نہروں کا جال بچھا دیا گیا اور غیر آباد زمینوں کی آباد کاری کے لیے مختلف علاقوں سے آبادکاروں کو ریاست میں آباد ہونے کی ترغیب دی گئی۔ نئی منڈیاں اور شہر ہارون آباد، فورٹ عباس، حاصل پور، چشتیاں ، یزمان، لیاقت پور اور صادق آباد بسائے گئے۔

یہیں سے نواب سر صادق اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے درمیان لازوال دوستی کا رشتہ قائم ہوا۔ریاست کے اس وقت کے وزیراعظم سر سکندر حیات (یونینسٹ رہنما) نے ریاست کے خلاف درپردہ سازش کا آغاز کیا اور ستلج ویلی پراجیکٹ کے بقایا جات کے حوالے سے مرکزی حکومت کو لکھا کہ ریاست قرضہ کی ادائیگی نہیں کر سکتی، لہذا صادق آباد اور کوٹ سبزل کے علاقہ جات ریاست سے لے لیے جائیں۔

ریاست کے اس وقت کے ہوم منسٹر اور نواب مرحوم کے اتالیق مولوی غلام حسین قریشی مرحوم نے اس سازش کو بے نقاب کیا اور نواب مرحوم کو اپنے قانونی مشیر سے مشورہ لینے کا کہا۔اس مقدمہ کی پیروی اس وقت کے ریاست کے قانونی مشیر قائدِ اعظم محمد علی جناح نے کی اور مقدمہ کا فیصلہ بہاول پور کے حق میں ہوا۔ قائد اعظم کے مشورے پر نواب صاحب نے اس سازش کے سرغنہ سر سکندر حیات کو نہ صرف عہدے سے برطرف کر دیا بلکہ فوراً ریاست بدر کر دیا گیا۔

1930ء میں سر صادق نے ریاست کپور تھلہ میں جامع مسجد تعمیر کرائی اور مہاراجہ کپور تھلہ کی فرمائش پر خود اس کا افتتاح کیا۔ 3 دسمبر 1930ء کو سر راس مسعود (وائس چانسلر) کی دعوت پر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے سالانہ کانووکیشن کی صدارت کی اور اس وقت ایک لاکھ روپے کی خطیر رقم بطور عطیہ دی۔ 28 دسمبر 1930ء کو انجمن حمایت اسلام لاہورکے سالانہ جلسہ کی صدارت کی اور گرانقدر مالی امداد کی۔ اپریل 1931ء میں طبیہ کالج دہلی کے کانووکیشن کی صدارت کی اور گرانقدر مالی امداد کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ برصغیر کے طول و عرض میں نواب صاحب کی طرف سے کیے جانے والے تعلیمی اور رفاحی اقدامات بے شمار ہیں جن میں سے چند کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔

1908ء میں ندوۃالعلماء لکھنؤ کے لیے نواب صاحب کی والدہ محترمہ کی طرف سے دی جانے والی پچاس ہزار روپے کی مالی امداد کے جواب میںعلامہ شبلی نعمانی نے شکریہ کا خط تحریر کیا جو محافظ خانہ (محکمہ دستاویزات) بہاو ل پور میں محفوظ ہے۔ پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس کا سینٹ ہال (جہاں اس وقت یونیورسٹی کالج آف انفارمیشن ٹیکنالوجی قائم ہے) سرصادق نے تعمیر کرایا اور اس عمارت کی پیشانی پر آج بھی نواب صاحب کے نام کی تختی موجود ہے۔

کنگ ایڈورڈمیڈیکل کالج کابہاول پور بلاک نواب صاحب کی یادگار ہے۔ اسی طرح ایچیسن کالج کا بورڈنگ ہاؤس (بہاول پور ہاؤس) نواب سر صادق کی یادگار ہیں۔ جن تعلیمی اداروں اور رفاحی اداروں کی مستقل سرپرستی اور مالی معاونت کرتے رہے، ان میں انجمن حمایت اسلام لاہور، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، ندوۃالعلماء لکھنؤ، دارالعلوم دیوبند، مظاہر العلوم سہارنپور، جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی، انجینئرنگ کالج لاہور اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد دکن، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، انجینئرنگ کالج لاہور، ڈاؤ میڈیکل کالج کراچی، داؤ انجینئرنگ کالج کراچی وغیرہ میں بہاول پور سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کے لیے علیحدہ نشستیں مختص تھیں۔ ریاست کی طرف سے لاہور کے بہاول پور ہاؤس اور کراچی کے الشمس میں طالب علموں کے لیے رہائش کا انتظام تھا اور ان کو وظائف بھی دیے جاتے تھے۔ 27 فروری 1934ء کو نواب صاحب کی تعلیمی خدمات کے اعتراف کے طور پر رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر وُلز نے بہاول پور آ کر صادق گڑھ پیلس میں منعقدہ تقریب میں انہیں ایل ایل ڈی کی اعزازی ڈگری دی۔ 1935ء میں ہی کوئٹہ کے زلزلہ زدگان کے لیے امدادی ٹرین روانہ کی۔

اسی سال فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے تقریباً سو افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔ سامان کے لیے جو فوجی گاڑیاں اور موٹریں بحری جہاز پر ساتھ لے گئے، سب سعودی حکومت کو بطور تحفہ دے دیں، مسجد نبویؐ میں قیمتی فانوس لگوائے۔ اسی سال جولائی میں جامع مسجد دہلی کی طرز پر ’’جامع مسجد الصادق‘‘ کی ازسرِ نو تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھا جو اس وقت پاکستان کی چوتھی بڑی مسجد ہے۔ جامع مسجد کے اخراجات کے لیے کثیر زرعی رقبہ وقف کیا۔ اس کی تعمیر میں سنگِ سرخ اور سنگِ مرمر کا استعمال کیا گیا ہے۔

جمعۃ المبارک کا سب سے بڑا اجتماع جامع مسجد الصادق میں منعقد ہوتا اور بلا تخصیص مسلک سب لوگ جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کو ترجیح دیتے تھے۔ حضرت شیخ الجامعہ مولانا غلام محمد گھوٹویؒ تمام عمر جمعہ کی نماز جامع مسجد اور عیدین کی نماز مرکزی عید گاہ میں (باوجود مسلکی فرق کے) آخری شاہی خطیب حضرت مولانا قاضی عظیم الدین علویؒ کی امامت میں ادا کرتے رہے، اسی سال شہر سے باہر عید گاہ کی تعمیر کرائی۔

ماہرینِ علم وفن ، ادبا، شعراء اور علماء کی ہمیشہ قدردانی کی جاتی رہی۔ چنانچہ قائدِ اعظم اور علامہ اقبال بہاول پور کے قانونی مشیر رہے۔ سرشیخ عبدالقادر (مدیرِ مخزن) 1942ء سے 1946ء تک بغداد الجدید ہائی کورٹ بہاول پورکے چیف جسٹس رہے۔ ابوالاثر حفیظؔ جالندھری بطور درباری شاعربہاول پور میں ملازم رہے۔

1943ء میں نواب سر صادق کی سرپرستی اور سر عبد القادر کی صدارت میں صادق ایجرٹن کالج (ایس ای کالج) میں آل انڈیا مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا جس کی تین نشستیں منعقد ہوئیں اور برصغیر کے طول و عرض سے نامور شعراء کرام نے اس میں شرکت کی۔ نواب سر صادق کے مطابق دبیر الملک الحاج عزیز الرحمٰن عزیزؔ نے پہلی بار سرائیکی کے قادر الکلام صوفی شاعر حضرت خواجہ غلام فریدؒ کا کلام ’’دیوانِ فرید‘‘ ترجمہ اور تشریح کے ساتھ 1942؁ء میں عزیز المطابع پریس سے شائع کیا۔

ریاست کے طول و عرض میں موجود بزرگانِ دین اور اولیاء اللہ کے مزارات کی تعمیر اور مرمت کی گئی۔ 1950ء میں صادق ایجرٹن کالج میں عالمی سائنس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں دنیا بھر سے سائنسدانوں نے شرکت کی، اس موقع پر سائنسی نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا۔

1952ء میں پیرا میڈیکل سکول، نرسنگ سکول اور ایل ایس ایم ایف کلاسز کا اجراء کیا گیا۔ اس سال علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ کی سربراہی میں ریاست میں تعلیمی اصلاحات اور نصاب کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کمیشن قائم کیا گیا۔ بہاولپور میں حج کے موقع پر تین ماہ کی چھٹی مع ایڈوانس تنخواہ دی جاتی تھی۔ بہاول پور حکومت کی طرف سے مکہ اور مدینہ میں سرائے موجود تھیں جہاں بہاولپور کے حجاج کے لیے مفت رہائش اور خوراک کا انتظام ہوتا تھا۔آخری عشرہ رمضان میں تمام مساجد میں حکومت کی طرف سے مرمت اور سفیدی کی جاتی تھی۔

اسی طرح ہندوؤں اور سکھوں کو بھی اپنے مذہبی تہواروں پر مسلمانوںکے مساوی حقوق حاصل تھے۔دورانِ تعلیم وفات پا جانے والے ملازموں کی بیواؤں اورنابالغ بچوںکے لیے پنشن مقرر کی جاتی تھی۔ بہاول پور اور ڈیرہ نواب صاحب میں یتیم خانے قائم کیے، جہاں مفت رہائش ، خوراک کے علاوہ ذہین طلبہ کے لیے وظائف کا انتظام موجود تھا۔ اردو اور سرائیکی کے معروف شاعر اور مصنف پروفیسر عطا محمد دلشاد کلانچوی مرحوم ، ٹیکنیکل ہائی سکول کے سابق پرنسپل عبدالقادر جوہرؔ اور کئی مشاہیر نے یتیم خانہ میں پرورش پائی۔ بہاول پور میں مہاجرین کی آبادکاری کے لیے نئی وزارت قائم کی گئی جس کے ذریعے مہاجرین کو ریاست بہاول پور میں باعزت طریقہ سے آباد کیا گیا۔

الغرض ریاست بہاول پور صحیح معنوں میں ’’دارالسرور‘‘ تھی۔ امیرانِ بہاول پور خاص طور پر نواب سر صادق نے صحتِ عامہ کے حوالے سے قابلِ قدر خدمات سرانجام دیں۔ بہاول پور میں 1867ء میں باقاعدہ محکمہ صحت کی بنیاد رکھی گئی اور ایک انگریز ڈاکٹر Mr. Deane کو انچارج مقرر کیا گیا جس کی نگرانی میں پوری ریاست میں ڈسپنسریاں قائم کی گئیں اور ریاست میں پھیلنے والی وباوؤں چیچک، طاعون، Scurvy وغیرہ کی روک تھام کے لیے ویکسی نیشن کا انتظام کیا گیا۔ بہاول پور میں  Scurvyکی وبا عام تھی جس کا سبب زیرِ زمین پانی میں سلفر اور آرسینک کی زیادتی تھی۔ سر صادق نے اس کی روک تھام کے لیے ہنگامی اقدامات کیے۔ میٹھے پانی کے کنویں کھدوائے گئے۔

ستلج ویلی پراجیکٹ کے زیرِ اہتمام نہروں کے جال بچھ جانے کی وجہ سے زیرِ زمین پانی کی خرابی دور ہو گئی۔ نواب صادق محمد خاں چہارم کے عہد تک چوک بازار میںایک مرکزی اقامتی ہسپتال موجود تھا۔ ملکۂ وکٹوریہ کی وفات پر یادگار کے طور پر 1906 ؁ء میں بہاول وکٹوریہ ہسپتال قائم کیا گیا جس کے لیے برٹش گورنمنٹ نے بھی مالی امداد فراہم کی۔ ڈاکٹر رام دیال اس ہسپتال کے پہلے انچارج مقرر ہوئے۔ ڈاکٹر عمربخش، ڈاکٹر دیوان علی، ڈاکٹر یعقوب بیگ اور ڈاکٹر محمد دین وغیرہ کے نام آج بھی زبانِ زدِ عام ہیں۔ ملکہ وکٹوریہ کے دور اقتدار کی گولڈن جوبلی کی یادگار کے طور پر 1892؁ء میں اندرونِ شہرجوبلی زنانہ ہسپتال قائم کیا گیا ہے،جہاں خواتین اور بچوں کا مفت علاج معالجہ ہوتا تھا، یہ ہسپتال اب بھی موجود ہے۔

بہاول نگر اور احمدپور شرقیہ میں بھی خواتین کے علاج معالجے کے لیے زنانہ ہسپتال قائم کیے گئے۔ 1930؁ء میں بہاول وکٹوریہ ہسپتال میں توسیع کی گئی، نیا ٹی بی وارڈ، نیا آپریشن تھیٹر اور بستروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔ 1938؁ء میں سرجن ڈاکٹر جمیل الرحمٰن (موجودہ وفاقی وزیر مملکت برائے تعلیم و داخلہ میاں بلیغ الرحمان کے دادا )کی سربراہی میں ایکسرے کا شعبہ قائم کیا گیا۔پوری ریاست میں ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کا جال بچھا دیا گیاجہاں علاج کی مفت سہولیات کے علاوہ مریضوں کو خوراک بھی مہیا کی جاتی تھی۔

صادق گڑھ پیلس میںکیمپ ہسپتال اور سٹاف ڈسپنسری کے علاوہ فوج کی ضروریات کے لیے 1911؁ء میں بہاول پور میں کمبائنڈ ملٹری ہسپتال اور ڈیرہ نواب صاحب میں کیولری ہسپتال قائم کیے گئے۔ جیلوں میں قیدیوں کے علاج معالجے کے لیے ڈسپنسریاںاورمیونسپل کمیٹیوں کے زیرِ انتظام شہروں میں سٹی ڈسپنسریاں قائم کی گئیں۔ ڈاکٹرز، نرسوں، ڈسپنسرز اور حکیموں کو ملک کے دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ تنخواہیں اور مراعات دی جاتی تھیں۔1953-54؁ء میں بہاول وکٹوریہ ہسپتال میں بڑے پیمانے پر توسیع کی گئی۔

ای این ٹی، آئی وغیرہ کے لیے علیحدہ شعبے قائم کیے گئے۔نرسنگ سکول اور پیرا میڈیکل سکول قائم کیے گئے۔ طب یونانی کی ترویج کے لیے ریاست کے شہروں میں شفاخانے قائم کئے گئے۔ مشہور ناول نگار بشریٰ رحمٰن کے والد حکیم عبدالرشید کو اس منصوبے کا پرنسپل مقرر کیا گیا۔ سر صادق کے دور میں شہر کے تمام تعلیمی اداروںمیں طلبہ کا مفت معائنہ کیا جاتا۔ حکومت کی طرف سے ہر چھ ماہ بعد طلبہ کے دانتوںکے مفت معائنے کے لیے ڈینٹل سرجن ڈاکٹر گِرداری لال کو مقرر کیا گیا۔

اسلامی روایات کی علمبردار ریاست بہاول پور میں ننگے سر پھرنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ ہندو مسلم سب کے لیے لازم تھا کہ وہ بغیر سر ڈھانپے گھر سے باہر نہ نکلیں۔ترکی ٹوپی درباری لباس (یونیفارم) کا اہم حصہ تھی۔ سرخ یا کلیجی رنگ کی بانات کی ترکی ٹوپی پہننے کا رواج عام تھا۔ فوجی وردی کے ساتھ خاکی رنگ کی ترکی ٹوپی استعمال کی جاتی تھی جس پر ریاست کا پیلیکن والا سرکاری مونو گرام ہوتا تھا۔ نواب صاحب ، شہزادگان اور شاہی خاندان کے افراد بعض اوقات سفید ترکی ٹوپی کا استعمال بھی کرتے تھے۔

نواب صاحب کی فوج کے گھڑ سوار جاں نثار محافظ دستہ کے سپاہی سیاہ رنگ کی ترکی ٹوپی پہنتے تھے۔ روایات کی پابندی کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ پرائم منسٹر کرافٹن اور پرائم منسٹر کرنل ڈرنگ بھی نواب صاحب کے سامنے پیش ہوتے تو ترکی ٹوپی ضرور پہنتے تھے۔ کرافٹن کی کار میں ترکی ٹوپی کا ڈبہ ہر وقت موجود ہوتا تھا، وہ جیسے ہی صادق گڑھ پیلس میں داخل ہوتا، فلیٹ ہیٹ اتار کر ترکی ٹوپی پہن لیتا۔ تقسیم برصغیر کے وقت انڈین نیشنل کانگریس اور جواہر لال نہرو کی طرف سے نواب سر صادق کو بے شمارآفرز کی گئیں کہ وہ اپنی ریاست کا الحاق ہندوستان سے کر دیں مگر نواب صاحب نے اس موقع پر یہ تاریخی جملہ کہا کہ:

’’میرا سامنے کا دروازہ پاکستان میں اور پچھلا دروازہ ہندوستان میں کھلتا ہے اور ہر شریف آدمی اپنے سامنے کے دروازے سے آمدروفت زیادہ پسند کرتا ہے‘‘ اس طرح 1947ء میں قیام پاکستان کے وقت سب سے پہلے نواب سر صادق نے اپنی ریاست بہاول پور کا پاکستان سے الحاق کیا، ریاست کے وزیر اعظم نواب مشتاق احمد گورمانی نے پاکستان کے قیام کے تین دن بعد عید الفطر کے موقع پر عید گاہ میں اس الحاق کا اعلان کیا۔ اس موقع پر سر صادق نے اپنی فوج پاکستان آرمی میں ضم کر دی۔ قائداعظم بطور گورنرجنرل حلف اٹھانے کے لیے نواب صاحب کی ذاتی رولز رائس کار میں جائے تقریب پر تشریف لے گئے۔ قائد اعظم کو قیام پاکستان سے تین دن قبل بہاول پور کی فرسٹ انفنٹری بٹالین نے گارڈ آف آنر اور رائل سیلوٹ پیش کیا۔

حکومت پاکستان کو قیام کے بعد خزانہ خالی ہونے پر نواب سر صادق محمد خان عباسی نے ابتدائی طور پر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے لیے 7 کروڑروپے اور بعد ازاں 2 کروڑ روپے ، پھر 22 ہزار ٹن گندم اور مہاجرین کے لیے 5 لاکھ روپے دیے۔ بہاول پور میں مہاجرین کی آبادکاری کے لیے نئی وزارت بحالیٔ مہاجرین بنائی گئی جس کے ذریعے مہاجرین کو ریاست بہاول پور میں باعزت طریقہ سے آباد کیا گیا۔ اور مخدوم الملک غلام میراں شاہ (سابق گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود کے دادا، بہاول پور کے وزیر اعلیٰ مخدوم حسن محمود کے والد اور سابق وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کے نانا) کو وزیر مہاجرین بنایا گیا۔

نواب آف بہاول پور کی ملکیت کراچی (ملیر) میں واقع شمس محل جو 45 ایکڑ پر واقع تھا، گورنر جنرل قائد اعظم کی نجی رہائش گاہ بنا دیا گیا۔ 3 اکتوبر 1947ء کو نواب آف بہاول پور نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے۔ دستاویز کی تیاری کے لیے قائد اعظم نے نواب آف بہاولپورکو اپنی مرضی کی شرائط پر معاہدہ تیار کرنے کے لیے کہا۔ قائد اعظم نے اس معاہدہ پر 5 اکتوبر 1947ء کو دستخط ثبت کیے۔ اس طرح ریاست کو یہ اعزاز حاصل ہو ا کہ وہ پاکستان میں شامل ہونے والی سب سے پہلی ریاست تھی۔

1727؁ء سے 1955؁ْ؁ ء تک قائم رہنے والی بر صغیرپاک وہند کی دوسری بڑی اسلامی ریاست بہاول پور، ہر دور اور ہر اعتبار سے اسلامی تہذیب وتمدن کا نمونہ تھی۔ ریاست کے باشندوں کے درمیان بِلا تخصیصِ رنگ ونسل اور مذہب رواداری کا رشتہ قائم تھا۔یہ اسلامی ریاست دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو بھی اسلام کے اصولوں کے عین مطابق پوری مذہبی آزادی عطا کرتی تھی۔ بھائی چارہ، مذہبی رواداری اور امن وامان اس اسلامی ریاست کا خاصہ تھے۔ یہ ریاست اسلامی تہذیب وتمدن کا نمونہ اور امن کا گہوارہ تھی جہاں بلاتخصیص رنگ ونسل اور مذہب رواداری کا ایسا لازوال رشتہ قائم تھا جہاں مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے درمیان تعصبب تو دور کی بات ہے، ہندوؤں، مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان جو رواداری دیکھنے میں آتی تھی، فی زمانہ ناپید ہے۔

اسی مذہبی رواداری کے پیش نظر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے غیر مسلم خاندان بھی ریاست میں آ کر نہ صرف آباد ہوئے بلکہ مطمئن زندگی گزارتے رہے۔ریاست کی تعمیر وترقی میں مسلمانوں اور غیر مسلموں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ زندگی کے ہر شعبہ میں مسلم اور غیر مسلم اکٹھے کام کرتے نظر آتے۔تعلیمی ادارے ہوں یا دفاتر، نجی محفلیں ہوں یا تہوار سب ایک دوسرے کا احترام کرتے نظر آتے۔شادی بیاہ اور غمی کی محفلیں ہوں یا سرکاری تقریبات مسلم اور غیر مسلم اکٹھے نظر آتے۔

اگر غیر مسلموں کی بارات کسی مسجد کے سامنے سے گزرتی تو احترام میں بینڈ باجے بند کر دیے جاتے۔ عیدین کے موقع پر ہندو حلوائی قسم قسم کی مٹھائیاں تیار کرتے۔ مذہبی تقریبات اور تہواروں میں ایک دوسرے کا احترام ملحوظِ خاطر رکھا جاتا۔ جس طرح مسلمان ملازمین کو حج کے موقع پر چھٹی اور پیشگی تنخواہ دی جاتی ، اسی طرح ہندوؤں اور سکھوں کو بھی ان کے تہواروں کے موقع پر چھٹی اور پیشگی تنخواہ دی جاتی تھی۔ نواب سر صادق کے عہد میں مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے درمیان کبھی کوئی تنازع دیکھنے میں نہیں آیا۔

جمعہ کی نماز ہو یا عیدین سب ایک ہی شاہی خطیب قاضی عظیم الدینؒ کی امامت میں ادا کرتے نظر آتے۔ میلاد النبیﷺ کی محفل ہو یا شبِ معراج، ہر مکتبہ فکر کے لوگ جامع مسجد الصادق میں اکٹھے ہوتے ۔ ان محافل میں نواب سر صادق بذاتِ خود بھی شرکت کرتے۔ اگر کوئی اہم مذہبی مسئلہ پیش آتا تو اس کے حل کے لیے تمام علماء کا متفقہ اجلاس بند کمرے میں منعقد کیا جاتا اور جس بات پر سب متفق ہوتے، اسے قانون کا درجہ دیا جاتا۔ صادق ایجرٹن کالج بہاول پور کی بنیاد رکھی گئی تو جگن ناتھ کالج ڈھاکہ کے بنگالی ہندو پروفیسر بابو پرسنا کمار بوس کو اس کا پہلا پرنسپل تعینات کیا گیا۔ اسی طرح پروفیسر لالہ رام رتن کالج کے قیام کے وقت ہی ریاضی اور تاریخ کے پروفیسرمقرر ہوئے۔

جسٹس مہتہ اودھو داس بہاول پور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور وزیرِ قانون رہے۔ اپنی انصاف پسندی کی وجہ سے مسلم ، غیر مسلم سب میں مقبول تھے۔انہوں نے پُرخطر وقت میں بہاول پور اور نواحِ بہاول پور کے انتظامات کو بحال رکھنے میں محنت سے کام کرنے کا قابلِ تقلید نمونہ قائم کیا۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے تہواروں پر ان کے مکان پر عوام الناس کا رش دیکھنے میں آتا۔ پنڈت لعل جی پرشاد سینئر وزیر رہے ۔وہ لوگوں کو فوری انصاف مہیا کرنے کے لیے رات گئے تک دفتری کام جاری رکھتے اور اس سلسلے میں اپنے آرام وسکون کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ان کی وفات پرحکومتِ بہاول پور نے ان کی خدمات کے اعزاز میں لعل جی سرائے اور لعل جی تالاب بنوائے۔ دیوان آسانند، جسٹس فتح چند، اور بہاول پور کے تاریخی ادارے صادق ڈین ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر چمن لال جتانہ کا شمار ریاست کی ہر دلعزیز شخصیات میں ہوتا ہے۔

چمن لال جتانہ انگریزی کے ماہراستاد اور بہترین منتظم تھے۔ ہندو مسلم طالب علموں سے یکساں شفقت مظاہرہ کرتے۔ پگڑی اور شیروانی پہنتے تو کوئی اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ ہندو ہیں یا مسلم؟ ہر سال میٹرک کے پاس آؤٹ ہونے والے طالب علموں کے لیے الوداعی تقریب کے موقع پر ہیڈ ماسٹر صاحب 20 سنہری باتیں بہترین پائیدار کاغذ پر شائع کرا کر ہر طالب علم کو اپنے دستخطوں کے ساتھ بطور تحفہ عنایت کرتے الغرض نواب سر صادق کا بہاول پور ایک ایسا خطۂ اُلفت تھا جہاں ہر طرف امن کا دور دورہ تھا، باشندگانِ ریاست ایک دوسرے کا احترام کرتے دکھائی دیتے۔

اگر ہم ذرا سوچیں تو ہمیں اندازہ ہو گا کہ برصغیر میں اُس وقت بھی ایک خطہ ایسا موجود تھا جو نظریہ پاکستان کے تقاضے پورے کر رہا تھا یعنی مشرقی اقداراور تہذیب، اُردو کی ترویج واشاعت اور اسے سرکاری و دفتری زبان کا درجہ حاصل ہونااور اس کے علاوہ اس خطے میں ایک ایسی مکمل اسلامی ریاست موجود تھی جو دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو بھی اسلام کے اصولوں کے عین مطابق پوری مذہبی آزادی عطا کرتی تھی۔

نواب سر صادق کا انتقال 24 مئی 1966؁ء کو لندن میں اپنی رہائش گاہ سرے کاؤنٹی میں ہوا اور ان کا جسدِ خاکی پاکستان لایا گیا۔ اس روز ہر آنکھ اشک بار تھی۔ ڈیرہ نواب صاحب کی عید گاہ میں خطیبِ ریاست حضرت قاضی عظیم الدین علویؒ نے نماز جنازہ پڑھائی اور نواب صاحب کی میت کو21 توپوں کی سلامی دی گئی اور پاکستان آرمی کی توپ گاڑی میں پورے فوجی اور سرکاری اعزاز کے ساتھ قلعہ ڈیراور لے جایا گیا جہاں شاہی قبرستان کے اندر مقبرہ نوابین میں دفن کیا گیا۔