میڈیا مثبت قوتوں کی حوصلہ افزائی کرے

انتخابات کے نقشے سے اندازہ ہورہا ہے کہ خدانہ کرے یہ انتخابات ہماری جمہوریت کے تابو میں آخری کیل نہ بن جائیں۔


Zaheer Akhter Bedari January 31, 2013
[email protected]

پاکستان کی سیاست عشروں سے لوٹ مار، بدعنوانیوں اور نااہلیوں کی جن دلدلوں میں دھنسی ہوئی ہے اس کی بہت ساری وجوہات ہیں، ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میڈیا نے ان بے غرض قوم و ملک کے بہی خواہ سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو عوام میں بڑے پیمانے پر روشناس کرانے' ان کے حقیقت پسندانہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے 'ان کی قیادت کو عوام میں متعارف کرانے میں بوجوہ انتہائی بخل کا مظاہرہ کیا ہے ۔ اس حوالے سے یہ بات بھی درست ہے کہ بائیں بازو کی حیثیت سے شناخت کیے جانے والے سیاسی رہنما اور سیاسی پارٹیوں نے وسائل کی کمی، افرادی قوت کی کمزوری کی وجہ سے پاکستانی سیاست میں نیشنل عوامی پارٹی کے بکھر جانے کے بعد کوئی نمایاں کردار انجام نہیں دیا لیکن اپنی اس کمزور پوزیشن کے ساتھ بھی وہ آج اپنی قوت اپنے وسائل کے مطابق اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پرنٹ میڈیا تو کسی حد تک ان کی سرگرمیوں کو کوریج دے رہا ہے لیکن الیکٹرانک میڈیامیں ان کی کوریج نہ ہونے کے برابر ہے۔

27 جنوری کو حیدر آباد پریس کلب کے آڈیٹوریم میں عوامی ورکرز پارٹی کی ایک بڑی کانفرنس ہوئی جس سے عوامی ورکرز پارٹی کے صدر عابد حسن منٹو اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں اختر حسین، یوسف مستی خان، عثمان بلوچ، فاروق طارق وغیرہ نے خطاب کیا۔ اس کانفرنس کا ذکر پرنٹ میڈیا میں کسی حد تک آیا لیکن الیکٹرانک میڈیا روایتی طور پر اس کانفرنس کو وہ کوریج فراہم نہ کرسکا جس کی وہ مستحق تھی۔ اسی طرح 28 جنوری کو انجمن ترقی پسند مصنفین کے زیر اہتمام جناح میڈیکل کالج کراچی میں ڈاکٹر محمد علی صدیقی مرحوم کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک بڑی تعزیتی تقریب منعقد ہوئی ۔

جس سے عابد حسن منٹو کے علاوہ کئی ادبی شخصیتوں اور سیاسی رہنماؤں نے خطاب کیا، لیکن الیکٹرانک میڈیا اس تعزیتی ریفرنس سے بھی لاتعلق رہا۔ میڈیا اور خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا پچھلے کئی برسوں سے نہایت جرأت کے ساتھ ہمارے طبقاتی مظالم کے شکار غریب خاندانوں کے مسائل کو ہائی لائٹ کر رہا ہے، یہ ایک مثبت رویہ اور پالیسی ہے جس کی وجہ سے اس ملک کے اٹھارہ کروڑ غریب اور مظلوم عوام میں طبقاتی شعور اور اپنے حقوق کا احساس پیدا ہورہا ہے، لیکن یہ کوششیں ادھوری اور نامکمل اس لیے محسوس ہورہی ہیں کہ ان اٹھارہ کروڑ مظلوم عوام کو اس ظالمانہ طبقاتی نظام سے نجات دلانے والی ان سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں کے پروگرام کو عوام تک نہیں پہنچایا جارہا ہے جو عشروں سے اس مہم میں تن من دھن کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔

اس تناظر میں جب ہم میڈیا کی ترجیحات پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ عجیب و غریب مناظر ہمارے سامنے آتے ہیں کہ چھوٹی چھوٹی سیاسی پارٹیوں، چھوٹے چھوٹے فرقہ پرست گروہوں کی بے معنی اور عوام کو تقسیم کرنے والی اور عوام میں نفرتیں پیدا کرنے والی سرگرمیوں کو تو بھرپور کوریج دی جارہی ہے، سیاسی جوڑتوڑ، سیاسی ہیراپھیری، سیاسی بددیانتیوں کو تو بھرپور جگہ دی جارہی ہے لیکن اس ملک اور اس ملک کے عوام کو ان آلائشوں سے نجات دلانے کی جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ اچھوتوں کا سا سلوک کیا جارہا ہے۔ ہمارا ملک اس وقت جس سیاسی انارکی، سماجی انتشار، فکری بحران، اندرونی اور بیرونی سازشوں کا شکار ہے ملک کی زمینی اور صنعتی اشرافیہ جو اربوں روپوں کی کرپشن کے داغ اپنی پیشانیوں پر سجائے ہوئے ہے اور مقدس لوگ بھی اقتداری سیاست کے بازار میں کھڑے ہوئے ہیں ان کے جھگڑوں، ان کے ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات پر مبنی ٹاک شوز تو چوبیس گھنٹے عوام کے سامنے پیش کیے جارہے ہیں لیکن اس خاندانی اقتدار مافیاؤں کو عوام سے نجات دلانے والی طاقتوں کی آواز ہماری غیر اصولی کرپٹ سیاست کے نقار خانے میں طوطی کی آواز بنی ہوئی ہے۔ دو ایک مڈل کلاس پارٹیوں کو کوریج مل رہی ہے لیکن سب کو نہیں مل رہی ہے۔

ملک اور کراچی میں ہر روز دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونے والوں بے گناہوں کی موت کی خبریں عوام تک پہنچائی جا رہی ہیںلیکن دہشت گردی کے اسباب کے تجزیوں اور اصل قاتلوں کی نشاندہی سے الیکٹرانک میڈیا تہی دامن نظر آتا ہے اور اس کی جگہ سارا وقت بلیم گیم کی سیاست کی نذر ہورہا ہے۔ جس کی وجہ ہمارا معاشرہ اس ہمہ جہت انارکی سے نکلنے کے بجائے اس میں اور زیادہ دھنستاچلا جارہا ہے۔ یہ بڑا نازک وقت ہے اور ہمارا طاقتور میڈیا ملک و قوم کو اس انارکی سے نکالنے کی طاقت اور صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس کے لیے ایک واضح پالیسی کی ضرورت ہے ۔ ہماری سیاست میں ایسے لوگ، ایسی سیاسی جماعتیں بھی موجود ہیں جو اس ملک میں رائج 65 سالہ عوام دشمن ملک دشمن نظام کو تبدیل کرنے کی خواہش مند دکھائی دیتی ہیں لیکن ستم یہ ہے کہ اس کرپٹ ترین نظام میں جہاں ہر چیز برائے فروخت ہے، خریدی بیچی جارہی ہے نظام بدلنے کے خواہشمند بے دست و پا محض مجبور نظر آتے ہیں۔

آج تک دنیا کی انقلابی تاریخ میں نظاموں کو تبدیل کرنے والی طاقتوں کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن ظالمانہ طبقاتی نظام کو تبدیلی کرنے والی قوتیں ہمیشہ دیر ہی سے سہی فاتح رہی ہیں۔ اصولی اور نظریاتی سیاست بڑی بے لچک تو ہوتی ہے لیکن بعض اہم موقعوں پر بعض فیصلہ کن موڑ پر اسے اپنی طاقت بڑھانے کے لیے غیر اصولی اتحاد بھی بنانے پڑتے ہیں لیکن نظام کی تبدیلی کی خواہش مند قوتیں ہر اتحاد، ہر نازک موڑ کو اپنے اعلیٰ مقاصد کے حق میں استعمال کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔ آج ہمارا معاشرہ جس خطرناک مقام پر کھڑا ہے اور کرپٹ سیاست حلق پھاڑ پھاڑ کر چیخ رہی ہے کہ اس نازک اور خطرناک موڑ سے نکلنے کا واحد راستہ انتخابات اور جمہوریت کے علاوہ کوئی اور نہیں، بلاشبہ سیاسی ارتقا کی تاریخ میں جمہوریت ہی عوامی مسائل کا کسی حد تک حل ہے لیکن رونا یہ ہے کہ یک آواز اور یک زبان ہوکر انتخابات اور جمہوریت کے نعرے لگانے والے دوسرے ہی لمحے ایک دوسرے کو گالیاں بکتے ایک دوسرے کے گندے پوتڑوں کو سربازار نمائش کے لیے پیش کرتے نظر آتے ہیں، ہر جمہوریت پسند پارٹی کا واحد مقصد ایوان صدر ایوان وزیراعظم تک پہنچنا ہے۔

اور اقتدار کے بھوکے ان ایوانوں تک پہنچنے کے لیے ایک دوسرے کو کھانے ایک دوسرے کی ہڈیاں چبانے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔اس ڈراؤنے منظرنامے میں ایک اور دل ہلادینے والا کسی کو نہ بخشنے والا عنصر دہشت گردی کی شکل میں سامنے کھڑا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اقتدار کے اندھوں کو یا تو یہ مہیب خطرہ نظر نہیں آرہا ہے یا نظر آرہا ہے تو اسے یہ اقتدار کے اندھے اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں، سارا ملک اس عفریت سے خوفزدہ ہے ہر شخص کی اولین ترجیح اپنی جان کی حفاظت بنی ہوئی ہے خیبر سے کراچی تک ہر قدم پر خون ہی خون بکھرا نظر آرہا ہے سارا ملک فرقوں میں بٹا ہوا ہے اور ایک فرقہ دوسرے فرقے کو نیست و نابود کرنے پر تلا بیٹھا ہے اور فرقوں میں بٹی قیادت اپنے گناہوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے ۔اس خوفناک منظر نامے میں ضرورت تو اس بات کی تھی کہ ساری سیاسی جماعتیں ساری قوم پرست طاقتیں ساری مذہبی سیاست کرنے والے گروہ ملک کو ملک کی بقاء کو درپیش چیلنجز کا تعین کرکے ان کی ترجیحات متعین کرتے اور یک جان ہوکر ملک وقوم کو تباہی سے بچاتے لیکن افسوس کہ سارے کے سارے ان حقائق بلکہ خطرناک حقائق سے چشم پوشی کرکے انتخابات کی طرف دوڑے جارہے ہیں۔ اگر انتخابات ان خطرناک مسائل کا حل ہوتے تو یقینا ان کی حمایت کی جاتی لیکن انتخابات کا جو نقشہ نظر آرہا ہے اس سے یہی اندازہ ہورہا ہے کہ خدانہ کرے یہ انتخابات ہماری جمہوریت کے تابو میں آخری کیل نہ بن جائیں۔

ایسی مخدوش اور خطرناک صورتحال میں اگر کوئی جماعت کوئی سیاسی طاقت اقتدار اور انتخابات کی سیاست سے بالاتر ہوکر ملک وقوم کی ایک مثبت سمت میں رہنمائی کرتی ہے تو اس کی حمایت کرنا اسے عوام میں بھرپور طریقے سے روشناس کرانا اس کے پروگرام کو ملک کے چپے چپے تک پہنچانا ایسی طاقتوں کو قریب لانا ہمارا انفرادی اور میڈیا کا اجتماعی فرض ہے۔ کاش ہم وقت کے دریا میں بہتے ہوئے چٹانوں کی طرف بڑھنے کے بجائے ملک وقوم کی ڈوبتی نیا کو درست اور محفوظ سمت میں لے جانے کی ذمے داری پوری کرپاتے، عوامی ورکرز پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ 8 فروری کو ملک بھر میں زرعی اصلاحات، انتخابی اصلاحات، کرپشن، عابد حسن منٹو کی برسوں سے پینڈنگ میں پڑی پٹیشن پر فوری کارروائی جیسے مسائل پر احتجاجی مظاہرے، دھرنے اور بھوک ہڑتالیں کرے گی جو جماعتیں ان مطالبات کو قوم و ملک کے لیے درست سمجھتی ہیں ان کی ذمے داری ہے کہ وہ اس مہم کی حمایت کریں اور ان مطالبات پر ایک وسیع تر اتحاد بنانے کی کوشش کریں۔

مقبول خبریں