ہجوم کا قانون کو ہاتھ میں لینا

اس قسم کے حملوں میں ملوث ہونے والوں کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے


Editorial June 19, 2017
اس قسم کے حملوں میں ملوث ہونے والوں کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے . فوٹو : فائل

KARACHI: پاکستان میں اکثر شہروں اور قصبوں میں ہجوم کی طرف سے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ روز راولپنڈی میں خطرناک انداز سے موٹر سائیکل چلانے والے ایک نوجوان کو ٹریفک وارڈن نے روکنے کی کوشش کی جس کے جواب میں موٹر سائیکل والے نوجوان نے رکنے کے بجائے جیب سے پستول نکال کر الٹا ٹریفک وارڈن پر فائر کر دیا جس سے وہ زخمی ہو گیا جب کہ بغیر نمبر پلیٹ والی موٹر سائیکل پر سوار نوجوان اپنی بائیک کو تیز رفتاری سے بھگاتا ہوا غائب ہو گیا۔

اسی کے قریبی علاقے میں ایک مشتعل ہجوم نے ایک پولیس چوکی پر حملہ کر دیا جہاں ون ویلنگ کرنے والے لڑکوں سے موٹر سائیکلیں چھین کر رکھی گئی تھیں۔ حملہ آوروں نے پولیس چوکی پر پتھرائو کیا' ٹائروں کو آگ لگائی اور پولیس کی گاڑیاں بھی جلا دیں۔ اس پر جب پولیس نے ہجوم کو بے قابو ہوتے دیکھا تو ایلیٹ فورس کمانڈوز کی نفری طلب کر لی گئی جنہوں نے حملہ آوروں میں سے پانچ افراد کو حراست میں لے لیا۔

اس قسم کے حملوں میں ملوث ہونے والوں کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے۔ لیکن اگر ان واقعات کی وجوہات پر غور کیا جائے تو ہمیں اندازہ ہو گا کہ عام لوگوں کا ہمارے نظام انصاف پر بھروسہ نہیں رہا یہی وجہ ہے کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ قانون کی حکمرانی کا احترام عام لوگوں کے دل سے ختم ہو رہا ہے۔

اگر کوئی شخص چوری یا ڈکیتی کے شبے میں بھی پکڑا جائے تو لوگ اکٹھے ہو کر اسے تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیتے ہیں حالانکہ ایسے شخص کو قانون کے مطابق پولیس کے حوالے کرنا چاہیے' چونکہ معاشرے میں یہ تاثر پختہ ہو گیا ہے کہ پولیس بھی جرائم پیشہ افراد کو چھوڑ دیتی ہے اس لیے معاشرے میں جھنجھلاہٹ' جنون اور غصہ پڑھ رہا ہے۔ سو وہ قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے ہیں' یہ ایک پیچیدہ صورت حال ہے اور اس کا مقابلہ سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بناکر ہی کیا جا سکتا ہے۔