پاکستانی کرکٹ ٹیم کی شاندار فتح

چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کو ہرا کر چیمپئن بننا اعزاز کی بات ہے


Editorial June 20, 2017
چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کو ہرا کر چیمپئن بننا اعزاز کی بات ہے ۔ فوٹو : فائل

پاکستان کی کرکٹ ٹیم لندن کے تاریخی اوول کرکٹ گراؤنڈ میں بھارتی ٹیم کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میچ میں شکست دے کر چیمپئنز کی چیمپئن بن گئی۔ میچ سے قبل بھارتی ٹیم کو فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا لیکن پاکستانی بلے بازوں اور بولرز نے پانسہ پلٹ دیا اور بھارتی ٹیم کو آوٹ کلاس کردیا۔ بھارت نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی۔

اس اعصاب شکن میچ میں پاکستانی افتتاحی بلے بازوں نے ذمے دارانہ کھیل کا مظاہرہ کیا اور 128 رنز کی پارٹنر شپ قائم کی' یوں پاکستان کو اچھا اسٹارٹ ملا' اظہر علی59رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے لیکن ان کے ساتھی اوپنر فخر زمان نے ون ڈاؤن بابر اعظم کے ساتھ مل کر جارحانہ کھیل جاری رکھا'200اسکور تک پاکستان کا صرف ایک کھلاڑی آؤٹ تھا' فخر زمان نے اپنے کیرئیر کی پہلی سنچری کی اور114رنز بنا کر آؤٹ ہوئے لیکن اس وقت تک پاکستان بڑے ٹوٹل کی بنیاد رکھ چکا تھا' بابراعظم' حفیظ' شعیب ملک اور عماد وسیم نے پاکستان کا اسکور339 تک پہنچا دیا۔ کرکٹ کے بعض ماہرین اس وقت بھی یہ سمجھتے تھے کہ بھارت کے بلے باز 339رنز آسانی سے بنا لیں گے لیکن پاکستان کے فاسٹ بولر محمد عامر نے روہیت شرما' ویرات کوہلی اور شیکر دھون کو اوپر تلے آؤٹ کر کے بھارت کی بیٹنگ لائن تباہ کر دی۔

33رنز پر بھارت کے چوٹی کے تین بلے باز آؤٹ ہو چکے تھے' یوں ان تینوں کے بعد آنے والے بھارتی بلے باز زبردست دباؤ میں آ گئے اور وہ اس دباؤ سے آخر تک نہ نکل سکے ' پاکستانی بولروں نے کسی بھی بھارتی بلے باز کو لمبی اننگز نہیں کھیلنے دی' یوراج سنگھ اور ایم ایس دھونی کے آؤٹ ہونے کے بعد بھارت کی رہی سہی امید بھی دم توڑ گئی۔پاکستان کے بولروں حسن علی' شاداب خان اور جنید خان نے نپی تلی بولنگ سے بھارتی بلے بازوں کو پریشان کیا رکھا اور وہ یکے بعد دیگرے آؤٹ ہوتے چلے گئے' اس طرح پوری بھارتی ٹیم 31ویں اوور میں 158رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی اس تاریخی فتح سے پاکستان کے عوام کو یقیناً خوشی ملی ہے' ٹیم کے تمام کھلاڑی' کوچ' سلیکٹرز اور دیگر آفیشلز بھی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ سب نے توجہ' محنت اور لگن کا مظاہرہ جس کا نتیجہ چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ کی فتح کی صورت میں ملا۔ ہمارے نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم نے جس اعلیٰ درجے کے کھیل کا مظاہرہ کیا' اس سے یہ حقیقت ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے' ایک سے بڑھ کر ایک کھلاڑی موجود ہے' شرجیل خان گئے تو فخر زمان آ گئے' مشتاق احمد' عبدالقادر اور شاہد آفریدی گئے تو یاسر شاہ اور شاداب خان آ گئے' فاسٹ بولرز کی تو ایک لائن ہے' محمد عامر' جنید خان' وہاب ریاض' رومان رئیس' حسن علی اور نئی دریافت محمد عباس یہ سب بہترین پیسرز ہیں' سرفراز احمد نے بھی بطور کپتان اپنے آپ کو منوایا ہے' وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سرفراز احمد کی کپتانی میں نوجوان کھلاڑی کی ٹیم مزید تجربہ کار اور خطرناک ہوتی جائے گی۔ اگر ٹیم کو ڈسٹرب نہ کیا گیا اور پسند و نا پسند کے کلچر کا خاتمہ ہو جائے تو یہ ٹیم آنے والے ورلڈ کپ میں فیورٹ ٹیموں میں شمار ہو گی۔

بہر حال چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کو ہرا کر چیمپئن بننا جہاں اعزاز کی بات ہے' وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ کھلاڑی اپنے کھیل اور فٹنس کو مزید بہتر بنانے کے لیے مسلسل جدوجہد کریں' اس کے علاوہ ارباب اختیار کو بھی چاہیے کہ وہ پاکستان میں کرکٹ بحال کرانے پر توجہ دیں' ہمارے کھلاڑیوں کا اعتماد اور مورال مزید بلند کرنے کے لیے پاکستان کے میدانوں پر عالمی کرکٹ ہونا ضروری ہے' یہ امر خوش آیند ہے کہ آپریشن ضرب عضب اور اب آپریشن رد الفساد کے نتیجے میں دہشت گردی میں بہت زیادہ کمی آئی ہے۔

پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں ہو چکا ہے لہٰذا اب کوشش کرنی چاہیے کہ پاکستان میں انگلینڈ' آسٹریلیا' نیوزی لینڈ' ویسٹ انڈیز اور بھارت جیسی ٹیم آئیں اور ہمارے شہروں میں ٹیسٹ میچ' ون ڈے میچ اور ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلیں۔ اس سے پاکستان کو ہی نہیں بلکہ کرکٹ کھیلنے والے تمام ممالک کو فائدہ حاصل ہوگا۔ ان ٹیموں کو بلانے کے لیے پاکستان کی حکومت کو قدم بڑھانا چاہیے ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اپنا کام کرتا رہے لیکن پاکستانی وزارت خارجہ کو بھی ایک حکمت عملی ترتیب دینی چاہیے اور کرکٹ کھیلنے والے ممالک کی حکومتوں سے مذاکرات کر کے انھیں اپنی ٹیمیں پاکستان بھیجنے پر آمادہ کرنا چاہئیں۔پاکستان میں کرکٹ شروع ہوگئی تو یہ امن وترقی کے اس سفر کا آغاز ہوگا جس کی تمنا ہر پاکستانی کے دل میں ہے۔