بلدیہ عظمیٰ کا بجٹ پیش ترقیاتی کاموں کیلیے 3 ارب 7 کروڑ مختص

27 ارب سے زائد کے بجٹ میں آمدنی کا تخمینہ26ارب 83کروڑ 55لاکھ87ہزار رکھا گیا ہے، میئر کراچی


Staff Reporter June 20, 2017
موجودہ ریونیو ریکوری کو ہی مزید بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، میئر کراچی وسیم اختر کا خطاب ۔ فوٹو : ایکسپریس

میئر کراچی وسیم اختر نے پیر کو سٹی کونسل کے اجلاس میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کامالی سال 2017-18 کا27 ارب 13کروڑ 56لاکھ 70ہزار روپے روپے کا بجٹ پیش کردیا۔

میئر کراچی وسیم اختر نے آئندہ مالی سال کا بجٹ سٹی کونسل کے سامنے پیش کردیا اس موقع پر ڈپٹی میئر کراچی ڈاکٹر ارشد عبداللہ وہرہ، میونسپل کمشنر حنیف محمد مرچی والا اور اراکین کونسل بھی موجود تھے، میئر کراچی نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیااور موجودہ ریونیو ریکوری کو ہی مزید بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، 2017-18 کے لیے ہمارا بنیادی نظریہ '' اپنی آمدنی بڑھاؤ،خود انحصاری اپناؤ''ہے جس کے تحت غیرترقیاتی اخراجات کو بڑھنے سے بچایا ہے اور زیادہ توجہ ترقیاتی فنڈز پر رکھی ہے۔

میئر کراچی نے کہا کہ گورنر سندھ نے وفاقی حکومت کی طرف سے کراچی میں ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز دلوانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، اگر وزیر اعظم نے کراچی کے لیے رقم دی تو شہر کے تمام اضلاع میں خرچ کریں گے، انھوں نے کہا کہ نامساعد حالات کے باوجود13 ارب روپے سے زائد کا ترقیاتی بجٹ پیش کر رہے ہیں جس میں 750 ملین روپے سے زائد رقم منتخب نمائندوں کی تجویز کردہ ترقیاتی اسکیموں ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کے لیے رکھی ہے جبکہ ایک ارب روپے یونین کمیٹیز میں مزید ترقیاتی کاموں کے لیے رکھے ہیں، بجٹ میں نئے منصوبوں کے لیے 8 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ باقی ماندہ رقم جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔

وسیم اختر نے بتایا کہ یونین کمیٹیز کے چیئرمینوں کو اس بجٹ میں خاص اہمیت دی ہے اور اراکین کونسل کی جانب سے دیے گئے منصوبوں کے لیے پونے 2 ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے، ڈیویلپمنٹ پورٹ فولیو میں یونین کمیٹیز کے چیئرمینوںکو فوکس کیا ہے اور سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ان کیلیے800ملین روپے اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ڈیویلپمنٹ پورٹ فولیو کیلیے1000ملین روپے مختص کیے ہیں، ترقیاتی بجٹ میں تقریباً تمام اسکیمیں یونین کمیٹیز کے چیئرمین سے مشاورت کرکے رکھی گئی ہیں جس سے شہر میں شفافیت کے ساتھ ترقی ممکن ہوسکے گی آئندہ مالی سال کے بجٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اس سال ہمارا زیادہ تر انحصار اپنی آمدنی کو بڑھانے اور اپنی انتظامی امور کو بہتر بنانے پر ہوگا۔

میئرنے کہا کہ حکومت سندھ نے ہمارے ساتھ زیادتی کرکے اور ذرائع آمدنی کو مختلف اداروں میں بانٹ کر سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچایا، میئر کراچی وسیم اختر نے9ماہ کے عرصے میں موجودہ بلدیاتی قیادت کی جانب سے کراچی کے عام شہری کی زندگی میں سہولت فراہم کرنے کیلیے مختلف شعبوں میںکیے گئے اقدامات کی تفصیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل اور بے تحاشہ رکاوٹوں کے باوجود ہم شہر کی حالت کو بدلنے کے پر عزم ہیں۔

وسیم اختر نے کہا کہ حکومت سندھ کے متعصبانہ طرز عمل کے باوجود مالی سال 2016-17 کے دوران ہم نے سوا 4 ارب روپے سے ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کی225 اسکیمیں مکمل کی ہیں ،3787 ملین روپے کی لاگت سے پراونشل اے ڈی پی کی 41 اسکیمیں مکمل کی ہیں، حکومت سندھ نے کراچی دشمنی کاکھلا مظاہرہ کرتے ہوئے ہماری ڈویلپمنٹ اسکیمیں جو ہم نے تمام چیئرمینز، ڈی ایم سیز، مختلف پارٹیوں کے کونسل کے سربراہوں اور عمائدین شہر کے ساتھ مل کرکراچی ڈیویلپمنٹ پیکیج کے لیے بنائیں اور گورنمنٹ کو تقریباً 25 ارب مالیت کی 143 اسکیمیں منظوری کیلیے بھیجیں مگر حکومت سندھ نے ہماری ایک اسکیم بھی منظور نہ کی جو نہ صرف بلدیاتی نمائندوں بلکہ کراچی کے عوام کی بھی توہین ہے اور یہ حکومت سندھ کی وڈیرہ شاہی طبیعت کا مظہر ہے۔

میئر کا کہنا تھا کہ ہم ورلڈ بینک کی شراکت سے کئی منصوبے لارہے ہیں اور ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اسکیموں کے ذریعے بھی اپنے ڈیویلپمنٹ پورٹ فولیو کو بڑھائیں گے، ہم نے وزیر اعظم پاکستان کو بھی 21 ارب روپے کا ڈیویلپمنٹ پیکیج پیش کیا ہے جس پر اگر عملدرآمد ہوجائے تو کراچی شہر میں ترقی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔

وسیم اختر نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے 2017-18 کیلیے مجوزہ بجٹ میں کل آمدنی 26ارب 83کروڑ 55لاکھ 87ہزار جبکہ مجموعی اخراجات کا تخمینہ 27ارب 13 کروڑ 56لاکھ 70ہزار شامل ہیں، کل آمدنی میں سندھ حکومت سے آکٹرائے ضلع ٹیکس ، گرانٹ اور پنشنرز کیلئے خصوصی گرانٹ کی مد میں 18ارب ایک کروڑ 54لاکھ 85ہزار اور سرمایہ جاتی وصولی کے تحت ایک ارب 79کروڑ 55لاکھ روپے ملیں گے، بلدیہ عظمیٰ کراچی نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ترقیاتی کاموں کیلیے 13 ارب 7کروڑ روپے مختص کیے ہیں جس میں 6ارب 4کروڑ 54لاکھ 80 ہزار روپے بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ملنے والی آمدنی سے فراہم کیے جائیں گے۔ 7ارب 2کروڑ 46لاکھ روپے صوبائی اور ڈسٹرکٹ سالانہ ترقیاتی پروگرام اور وژیول گیب فنڈ سے وصول ہوں گے جبکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں غیرترقیاتی مصارف 14ارب 6کروڑ 55لاکھ روپے رکھے گئے ہیں جس میں محکمہ جاتی اخراجات 11ارب 73کروڑ 82لاکھ 39ہزار روپے، کنٹیجنسی 2 ارب 7کروڑ 56لاکھ 64ہزار اور تعمیر ومرمت کی مد میں 25کروڑ 16لاکھ روپے شامل ہیں۔

میئر نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی مختلف ذرائع سے مالیاتی فنڈنگ کے حصول کیلیے تمام تر کوششیں بروئے کار لا رہی ہے اور اس مقصد کے تحت یہ صوبائی حکومت، وفاقی حکومت، عالمی بینک اور نجی شعبے کے مالیاتی نظام سے فنڈز کے حصول کیلئے کوشاں ہے کیونکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی آئندہ مالی سال کے دوران پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پروجیکٹ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اس کے علاوہ وفاقی حکومت کے ساتھ 21 ارب روپے مالیت کے مختلف میگا انفراسٹرکچر پروجیکٹس شروع کرنے پر بھی بات چیت چل رہی ہے۔

مقبول خبریں