بلوچستان کے ساحلی علاقہ جیونی میں دہشتگردی
جیونی میں مسلح افرادکی فائرنگ سے2اہلکار شہید اور3زخمی ہوگئے
KARACHI:
ضلع گوادر کے علاقے جیونی میں مسلح افراد نے گرلز اسکول کے قریب نیوی اہلکاروں کی گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 2اہلکار شہید اور3 زخمی ہوگئے۔
پاک بحریہ کے ترجمان کے مطابق پیرکو نیوی کے اہلکار جیونی شہرسے افطاری کا سامان خرید کر واپس آرہے تھے کہ اچانک 2موٹرسائیکلوں پر سوار چار مسلح افراد نے ان کی سنگل کیبن گاڑی پر فائرنگ کردی۔ زخمیوں کو گوادر اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں سے انھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے کراچی منتقل کردیا گیا ہے ، اسپتال ذرایع کے مطابق ایک زخمی کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے، واقعہ کے بعد مسلح افراد نامعلوم سمت کی جانب فرار ہوگئے جب کہ سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔
دہشتگردی کے اس واقعہ میں بلوچستان کے تقریباً 775 کلومیٹر طویل ساحلی علاقہ میں جیونی کو ٹارگٹ کرکے دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز کو غالباً اپنے بدلتے ہوئے اسٹریٹجیکل اور ٹیکٹیکل عزائم بتائے ہیں ، ڈیموگرافک لحاظ سے جیونی ضلع گوادر کے انتہائی کونے میں خلیج گوادر پر واقع ہے جہاں اس کی سرحد ایران سے ملتی ہے جب کہ جیوانی درحقیقت کراچی سے چند کلومیٹر کے فاصلہ پر سونمیانی اور گڈانی بیچ کے قریب کا مشہور کاروباری علاقہ ہے۔ جیونی گوادر پورٹ اور سی پیک میگا پروجیکٹ کے بعد نئی آبادکاری اور ماہی گیروں کی نقل مکانی کے باعث توجہ کا مرکز بن رہا ہے اور امکانی طور پر دہشتگرد تنظیموں نے اسی چیز کا نوٹس لے کر جیونی کو طے شدہ منصوبہ کے تحت نشانہ بنایا ہے تاکہ یہاں نئی آبادکاری کا سلسلہ روکا جا سکے۔
یہ حقیقت ہے کہ گوادر ہر دور میں بلوچ قوم پرستانہ جذبات و نظریات اور سیاسی تحریکوں کے حوالہ سے غیر سرداری علاقہ رہا ہے جب کہ جیونی وگوادر میں سیاسی و سماجی وسیع المشربی عام تھی، مختلف مکاتب فکر کی نمائندہ جمہوری ، سیاسی اور پارلیمانی قوتیں مین اسٹریم سے وابستہ رہیں اور ہیں، جب کہ ہارڈ لائنرز اور مزاحمت پسندوں کی کشمکش اور زیادہ تر سرگرمیاں پنجگور، تربت، خضدار، کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں مرکوز رہیں مگر بدامنی ، انتہاپسندی کی گذشتہ چند برسوں پر محیط وارداتوں نے بلوچستان کے تقریباً ہر علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔
دہشتگرد تنظیموں کے کئی ایک نیٹ ورک قائم ہوئے جس کے دوران داعش کے بے چہرہ عفریت نے سر اٹھایا تو بلوچستان میں مزاحمت میں مصروف عناصر کے مقابل ایسے گروپس بھی سرگرم عمل رہے جنہیں غیر ملکی ایجنسیوں کی بھرپور مالی، اسٹریٹجیکل اوراسلحہ جاتی کمک ملنے لگی ، بھارت ان ممالک میں سر فہرست ہے جس نے بلوچستان میں مداخلت کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد بھارت کا چہرہ پوری دنیا نے دیکھ لیا ہے، اس لیے جیونی کا واقعہ اگرچہ ایک کالعدم تنظیم نے خود سے منسوب کیا ہے مگر بلوچستان میں امن وامان کی بحالی کے لیے سیکیورٹی فورسز اور بلوچستان حکومت نے جو کوششیں کی ہیں اس کے نتیجہ میں بلوچستان میں بدامنی ،دہشتگردی اور سبوتاژ کی وارداتوں کا گراف نمایاں طور پر کم ہوا ہے ۔
جیونی کی مہم جوئی اپنے وجود کا احساس دلانے کی ایک بزدلانہ کوشش کے علاوہ کچھ بھی نہیں، پاک بحریہ کا عزم جوان رہنا چاہیے، اوراس واردات کے پیچھے چھپے ہوئے عناصر کا کھوج لگانا لازم ہے، صوبہ بلوچستان میں امن شکن قوتوں کی باقیات سے نمٹنے کا ٹمپو برقرار رکھا جائے اور جن سنجیدہ قوم پرست بلوچ رہنماؤں سے مکالمہ کی ضرورت اور گنجائش ہو ان سے ضرور بات چیت ہونی چاہیے تاکہ بلوچستان میں دائمی امن یقینی بن جائے علاوہ ازیں کوئٹہ کو ہدف بنانے کے ساتھ ساتھ اب داعش کی طرف ''مائل بہ کرم '' نوجوان نسل کو تدبر و حکمت اور سیاسی وژن سے کام لیتے ہوئے بروقت روکنا نہ صرف ناگزیر ہے بلکہ جو گروہ بلوچستان کے پر امن علاقوں میں وقتاً فوقتاً دہشتگردی کرکے حکومت کی رٹ کو چیلنج کررہے ہیں ان سے نمٹا جائے اور مختلف مذہبی ، مسلکی اور ملکی و غیرملکی ریڈیکل عناصر کے جس غیر مرئی اجتماع کی اطلاعات میڈیا میں آرہی ہیں۔
ان سے خبردار رہا جائے ، جیونی واقعہ الارمنگ ہے، دہشتگرد وہاں تک جا پہنچے جسے بلوچستان کے ساحلوں میں پر فضا اورخوبصورت ساحلی ٹاؤن کہا جاتا ہے جہاں عموماً بلوچ قوم پرستانہ مزاحمت کی بظاہر خونریز وارداتیں شاذو نادر ہی ہوئی ہیں، غربت اور دور دراز علاقہ کے حوالہ سے جیونی گوادر سے قربت کے باعث شوریدگی ، دہشتگردی اور ہولناک مزاحمتی وارداتوں کے بجائے محرومیوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، خبر کے مطابق دہشتگرد کالعدم تنظیم بی ایل اے کے ترجمان جییند بلوچ نے کوئٹہ میں فون کر کے اس واقعہ کی ذمے داری قبول کرلی، جب کہ دہشت گردی کی اس واردات میں جیونی کے علاقہ کو ٹارگٹ کرنے کی ڈیموگرافک حرکیات کچھ بنیادی سوالوں کے جواب مانگتی ہیں ۔ بہر حال بلوچستان حکومت ، سیکیورٹی فورسز اور وفاق نے بلوچستان میں امن کے لیے بے پناہ کام کیا ہے ،اسے کسی قوت کو برباد کرنے کا ہرگز موقع نہیں ملنا چاہیے۔