لندن میں اسلام دشمنی کا شدت پسندانہ مظہر
نمازیوں پر حملہ دہشتگردوں کی ایک سوچی سمجھی سازش ہوسکتی ہے
WASHINGTON:
دہشت گردی کے عفریت نے اقوام عالم کا سکھ ،چین اور امن برباد کرکے رکھ دیا ہے،کچھ وقفے کے بعد ایسے واقعات ضرور رونما ہوتے ہیں جس میں بے گناہ انسانوں کی جان چلی جاتی ہے، یا پھر بھاری مالی نقصان ہوتا ہے۔ ایک ایسا ہی افسوسناک واقعہ برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں پھر سے ہوا جس میں ایک جنونی شخص نے مسجد سے نماز تراویح پڑھ کر نکلنے والے نمازیوں پر گاڑی چڑھا دی جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جب کہ 10زخمی ہوئے، پولیس نے ڈرائیورکو گرفتار کر لیا۔ لندن ایک عالمی شہر ہے جس میں دنیا بھر کے لوگ آباد ہیں، ہر قوم، رنگ و نسل اور مذہب سے تعلق رکھنے والے، پھر ایسے پر امن شہر میں تسلسل سے دہشت گردی کے واقعات کا رونما ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنانا ایک قابل مذمت فعل یوں بھی قرار دیا جاسکتا ہے کہ یہ مسلم برادری برطانیہ کے وجود کا حصہ ہے اور وہاں کے پرامن شہری ہیں۔
مذہبی اور شخصی آزادی اور انسانی حقوق کے احترام کے تناظر میں دیکھا جائے تو مسجد سے باہر نکلنے والے نمازیوں پر حملہ دہشتگردوں کی ایک سوچی سمجھی سازش ہوسکتی ہے تاکہ مذاہب عالم کے درمیان موجود ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا جائے ۔ اسی پس منظر کے تناظر میں برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں گزشتہ چند برسوں سے شدت پسندی کو ہوا دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور یہ حملہ بھی اسی نفرت انگیزی کی یاد دہانی ہے ۔ دہشت گردی کا مقصد ہمیں تقسیم کرنا تھا ۔جب کہ مسلم کونسل برطانیہ کا کہنا ہے کہ یہ 'اسلام دشمنی کا شدت پسندانہ مظہر ہے، تنظیم نے مساجد کے گرد مزید سیکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
برطانیہ کی وزیراعظم نے دہشت گردی سے متاثرہ مسجد کا دورہ کر کے ثابت کیا کہ وہ دہشتگردی سے متاثرہ مسلم کمیونٹی کے ساتھ دلی ہمدردی رکھتی ہیں، انھوں نے نئے کمیشن کے قیام کا بھی اعلان کیا جو شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے کام کرے گا، بلاشبہ برطانیہ میں مقیم تمام ملکی اورغیرملکی باشندوں کی جان ومال کے تحفظ کی ذمے داری حکومت برطانیہ پر عائد ہوتی ہے اوراس ضمن میں فوری اقدامات اٹھائے جانا وقت کی ضرورت ہے۔ دراصل ایسے واقعات کا تدارک اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک تمام اقوام عالم اپنے اپنے مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر متحد نہیں ہوجاتیں ، دراصل دہشتگردی کے پیچھے ایک انتہا پسند سوچ کارفرما ہے ،ایک مائنڈسیٹ ہے، اسے تبدیل کرنے کی فوری ضرورت ہے تب ہی دہشتگردی اور شدت پسندی کا ڈٹ کا مقابلہ کیا جاسکے گا۔