بلدیہ عظمیٰ کراچی کا بجٹ 

وسیم اختر کوتمام مالی اور انتظامی اخراجات ملنے چاہئیں جوکہ بحیثیت میئر ان کا حق ہے


Editorial June 21, 2017

کراچی جہاں ایک بین الاقوامی شہر ہے، وہیں ایک مسائلستان بھی، جتنا بڑا شہر ہے اتنے ہی زیادہ مسائل بھی مگر یہ سب کا ''منی پاکستان ''ہے حالانکہ اس کے اپنی آمدنی کے وسائل بے شمار ہیں جس سے پورا پاکستان فائدہ اٹھاتا ہے، لیکن کیا کہیے کہ سیاسی چپقلش نے یہ دن دکھائے ہیں کہ کراچی محتاج ہوگیا ہے پائی پائی کو۔کیونکہ سندھ حکومت سے منصوبوں کی منظوری اور فنڈزکا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہیں،چہ جائیکہ وفاقی حکومت کے کراچی کے لیے بلند بانگ دعوے اور فنڈز نہ جانے کب ایفا ہوں گے۔

اس سارے تناظر میں میئرکراچی وسیم اختر نے پیرکو بلدیہ عظمیٰ کراچی کا مالی سال 2017-18ء کا بجٹ پیش کردیا ، بجٹ میں ترقیاتی کاموں کے لیے49 فیصد اور غیرترقیاتی مصارف کے لیے 51فیصد حصص مختص کیے گئے،کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ اس حوالے سے یہ مستحسن بجٹ قرار دیا جاسکتا ہے کہ شہر کراچی جو کہ کھنڈر کا نمونہ بنتا جا رہا ہے، پانی کی قلت ، سیوریج اورسڑکوں کی خستہ حالی خون کے آنسو رلاتی ہے،اس بجٹ میں ترقیاقی کاموں کے لیے تقریباً نصف بجٹ رکھاگیاہے۔ بلاشبہ کراچی کو اس وقت ترقیاتی منصوبوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ شہریوں کے روزمرہ کے مسائل حل ہوسکیں۔ دوسری جانب میئر کراچی کا کہنا ہے کہ ہم نے وزیر اعظم پاکستان کو بھی 21 ارب روپے کا ڈیویلپمنٹ پیکیج پیش کیا ہے جس پر اگر عملدرآمد ہوجائے توکراچی شہر میں ترقی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجائے گا اور اس مقصد کے تحت یہ صوبائی حکومت، وفاقی حکومت، عالمی بینک اور نجی شعبے کے مالیاتی نظام سے فنڈزکے حصول کے لیے کوشاں ہے ۔ اگر یہ کوششیں رنگ لے آتی ہے تو یقیناً کراچی نکھرا نکھرا اور خوبصورت نظر آئے گا ۔

بلدیاتی نظام دنیا بھر میں عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کا بہترین نسخہ کیمیا ہے لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی سے اس نظام کو جمہوریت کا راگ الاپنے والی قومی جماعتیں بوجوہ اختیارات کی تقسیم نا پسند کرتی ہیں۔ میئر کراچی کے بقول حکومت سندھ نے ہمارے ساتھ زیادتی کرکے اور ذرایع آمدنی کو مختلف اداروں میں بانٹ کر سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچایا جس کے باعث عوامی خدمات بہتر طریقے سے انجام نہیں دی جاسکیں۔ میئرکراچی وسیم اختر پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے نمایندہ ہیں ، انھیں وہ تمام مالی اور انتظامی اخراجات ملنے چاہئیں جوکہ بحیثیت میئر ان کا حق ہے ۔ اس طرح نہ صرف حکومت سندھ کے کاندھوں سے بوجھ بھی ہلکا ہوگا اور کراچی کے عام شہریوں کے مسائل میں خاطر خواہ کمی واقع ہوگی اور شہر ترقی کی منزلیں طے کرے گا۔