جس دیس میں اب ہم رہتے ہیں

گاندھی نے وزراء سے خطاب میں کہا کہ میں تمہیں سادگی اور کفایت شعاری کے لیے رام چندر یا کرشنا کی مثال نہیں دوں گا۔


Abdul Qadir Hassan February 01, 2013
[email protected]

وطن عزیز کی سیاسی دنیا میں گھڑمس مچا ہوا ہے، افراتفری کا عالم ہے اور الیکشن کا ہوا آنے کی فکر لاحق ہے۔ ہمارے سیاستدان سخت گھبراہٹ سے دو چار ہیں اور ان کا کاروبار یعنی سیاست میں بہت مندا ہے بلکہ یہ داؤ پر لگ چکی ہے۔ الیکشن کے بعد کئی دکانیں بند ہونے والی ہیں۔ بچنے والے بہت کم اور مرنے والے بہت زیادہ ہوں گے۔ عوام کی حالت یہ ہے کہ نہ روز گار ہے نہ نوکری ہے نہ روٹی ہے اور نہ زندگی کا کوئی سہارا، باقی جو رہ گیا ہے مکمل اندھیرا ہے۔ خود اپنے اسٹیٹ بینک کی تازہ ترین رپورٹ خوفزدہ کرنے بلکہ شرم دلانے کے لیے کافی ہے۔

بینک کی رپورٹ کے مطابق شاہ خرچیوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، ہر روز چار ارب روپے قرض لیتے ہیں تا کہ ملک اور اس کے حکمران چلائے جا سکیں۔ بیرونی تو چھوڑیں مقامی سرمایہ کاری میں بھی بے حد کمی آ چکی ہے، خدا ہمارے وزیر داخلہ کا بھلا کرے اور ہماری نالائقی، حرام خوری اور کام چوری کا یہ عالم ہے کہ ہم گوادر جیسی سونا بندر گاہ ٹھیکے پر دے رہے ہیں اور گہری سوچ رکھنے والے تشویش میں ہیں کہ کراچی کی بندر گاہ بھی خطرے میں ہے۔ برطانیہ کی اس پر نظریں ہیں اور اس کی ایک موثر جماعت کی قیادت برطانیہ کی مہمان ہے۔ بہر کیف ان حالات سے گھبرا کر دو چار دن سیاست سے ذرا دور ہو کر بھی کچھ لکھتے ہیں لیکن نیم سیاسی کیونکہ بالکل غیر سیاسی کا زمانہ فی الحال گزر گیا ہے۔

برقی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک فوجی یونٹ میں جرابیں کم پڑ گئیں اور بہت گندی اور بدبودار بھی ہو گئیں چنانچہ ایک دن کمانڈر نے سب کو جمع کر کے کہا کہ آپ کے لیے ایک اچھی خبر اور ایک بری خبر ہے۔ اچھی خبر یہ کہ تم لوگ اپنی جرابیں بدل رہے ہو اور بری خبر یہ کہ تم یہ جرابیں آپس میں ہی بدل لو گے۔ یہ وہی بات ہے جو اپنے ملک میں جمہوریت کی ہے اور وہ یوں کہ آپ پرانے گندے لیڈر بدلتے رہتے ہو۔ لیڈر جماعتیں بدلتے رہتے ہیں، ادھر سے ادھر ہوتے رہتے ہیں مگر وہی پرانے بدبودار ہی رہتے ہیں اور ہم انھیں بدل لیتے ہیں۔ گندی جرابوں کی طرح۔

ایک بہت پرانا لطیفہ ہے کہ سردار صاحب صبح دفتر جانے کے لیے گھر سے نکلے تو سامنے کیلے کا چھلکا پڑا تھا، ان کا اس پر پائوں آیا اور وہ پھسل کر گر پڑے۔کچھ دن بعد پھر وہ گھر سے نکلے تو کیلے کا ایک اور چھلکا پڑا ہوا دکھائی دیا۔ انھوں نے اسے دیکھتے ہی کہا، لو جی آج پھر پھسلنا پڑے گا۔ ہمارے ہاں الیکشن بھی کیلے کا چھلکا ہے جس پر سے ہم بار بار پھسلتے ہیں، اب پھر الیکشن کا چھلکا پڑا ہے اور ہمیں اس پر سے پھسلنا اور گرنا ہے،کپڑے خراب ہونے ہیں اور انھیں جھاڑ کر پھر کسی نئے چھلکے کا انتظار کرنا ہے۔

یہ سب کچھ اپنی جگہ مگر ہمارے سیاستدان حکمران اپنی اپنی ڈگر پر مثلاً 1937ء میں انڈیا میں کانگریس کی حکومت بنی۔ گاندھی نے وزراء سے خطاب میں کہا کہ میں تمہیں سادگی اور کفایت شعاری کے لیے رام چندر یا کرشنا کی مثال نہیں دوں گا کیونکہ وہ کوئی تاریخی اور حکمران ہستیاں نہیں تھیں۔ میں تمہیں مسلمانوں کے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی مثال دوں گا۔ وہ بہت بڑی سلطنت کے مالک تھے لیکن سادگی میں بے مثال تھے، حکمران تھے مگر فقیروں والی زندگی بسر کرتے تھے۔ یہ رپورٹ گاندھی کے اخبار روزنامہ ہریجن مورخہ27-7-35 کے شمارے میں شایع ہوئی تھی۔ ہم بے ملکے نواب ہیں مگر آپ اوپر پڑھ چکے ہیں کہ ہم ہر روز چار ارب روپے قرض لیتے ہیں۔ صاف بات یہ ہے کہ اب ہمارا صرف ڈھانچہ اور نام باقی ہے اور پیپلز پارٹی بدستور حکمران ہے، دیکھیں جاتے جاتے مزید کیا کرتی ہے۔

شوہر گھر آیا تو کہا، بیگم کھانا لگائو سخت بھوک لگی ہے۔ بیگم: گیس نہیں ہے اور کھانا نہیں پک سکا۔ تو ہیٹر پر پکا لیتیں۔ بجلی ہی نہیں ہے بیگم نے جواب دیا۔ اچھا بیٹا گاڑی کی چابی لو اور ہوٹل سے کھانا لے آئو۔ بیٹے نے کہا، پاپا گاڑی میں سی این جی نہیں ہے۔ اچھا تو پھر میرے ساتھ موٹر سائیکل پر چلو۔ پاپا ڈبل سواری کی پابندی ہے۔ چلو فون پر آرڈر دے دو۔ پاپا آج فون سروس بند ہے، بیٹے کا یہ جواب سن کر کہا، حد ہو گئی پاکستان میں سب کچھ ختم ہے تو پھر باقی کیا ہے۔ بیگم ہاں جی ہے کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت 2008ء مئی میں قائم ہوئی۔ آج تک کا حال ملاحظہ فرمائیں۔ پٹرول 56 روپے سے 103 روپے تک ڈیزل 39 روپے سے 109 روپے تک سی این جی 30 روپے سے 91 تک موٹر سائیکل 35 ہزار سے 42 ہزار تک۔ ڈالر 60 روپے سے 99 روپے تک آٹا 10روپے سے 36 تک چینی 21 روپے سے 55 تک دودھ 20 روپے سے 70 تک کوکنگ آئل 70 روپے سے 190 تک ڈی اے پی یوریا کھاد 18 سو روپے سے چار ہزار سات سو تک لوڈشیڈنگ تیس فیصد سے 150 فی صد تک، غرض زندگی کا ہر سامان کئی گنا زیادہ قیمت پر۔

ایک اور پیغام: ہم وہاں ہیں جہاں پیزا پولیس سے پہلے پہنچ جاتا ہے۔ کار خریدنے کے لیے قرض سو فیصد لیکن تعلیم کے لیے بیس فی صد۔ چاول 90 روپے کلو لیکن فون کی سم مفت۔ جوتے اے سی والی دکان میں اور کھانے کی سبزیاں فٹ پاتھ پر۔ لیمن جوس پینے کے لیے مصنوعی خوشبو کے ساتھ لیکن برتن دھونے کے لیے اصلی لیموں۔ MBA اور M,A پاس بے روز گار مگر ایک جاہل ایم پی اے یا ایم این اے۔
اس طویل سلسلے کو یہیں ختم کرتے ہیں باقی آپ اپنی زندگی پر غور کریں تو ایسی کئی کہانیاں اور مثالیں ملیں گی۔ خوش ہوتے رہیں۔

مقبول خبریں