چین چاند پر جا رہا ہے اور ہم
ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں وہ سائنس ٹیکنالوجی آئی ٹی تحقیق اور نئے نئے انکشافات کی دنیا ہے
ایک خبر کے مطابق چین چاند پر انسان کو اتارنے کی ابتدائی تیاریاں کر رہا ہے۔ چین کی خلائی ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل پانگ لی دوئی نے عالمی اسپیس ایکسپلوریشن کانفرنس کے موقعے پر ایک گروپ انٹرویو میں کہا کہ چین چاند پر اترنے کے لیے انسان بردار خلائی جہاز کی تیاری کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انسان کو چاند پر اتارنے کے لیے ایک سیڑھی بھی درکار ہوگی اس منصوبے کے لیے سرکاری اجازت اور فنڈ حاصل کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی۔ تاریخ میں پہلی بار امریکا نے اپنے ایک شہری نیل آرم اسٹرانگ کو چاند پر بھیج کر نہ صرف انسانی تاریخ کی ایک بہت بڑی کامیابی رقم کی بلکہ نظریاتی حوالے سے بھی بہت سارے ایسے جالے توڑ دیے جو صدیوں سے انسانی ذہن کے گرد بنے ہوئے تھے۔
چین آج کی دنیا کا ایک ایسا ترقی یافتہ ملک ہے جو اپنی سستی مصنوعات کے ذریعے ساری دنیا کی منڈیوں پر چھایا ہوا ہے۔ اس حوالے سے یہ بات یقینا حیرت انگیز ہے کہ چین منڈی کی معیشت کو اختیار کرنے کے باوجود صنعتی ترقی کے حوالے سے بام عروج پر کیسے پہنچا ہوا ہے۔ جب تک چین میں سوشلسٹ نظام معیشت رائج تھا اس وقت بھی چین دوسرے نوآزاد ملکوں کے مقابلے میں ہر شعبہ زندگی میں ترقی کر رہا تھا۔ اصل میں چین کی ترقی کے تسلسل کی ایک بڑی وجہ اس کی قومی یکجہتی نظر آتی ہے۔ چینی قوم اس طرح تقسیم کا شکار نظر نہیں آتی جس طرح دوسرے ترقی پذیر ممالک نظر آتے ہیں۔ انسانوں کی معاشی بدحالی کی ایک بڑی وجہ قوموں کی رنگ نسل زبان قومیت دین دھرم کے حوالے سے گہری تقسیم ہے۔ اس تقسیم کی وجہ سے وہ قومی یکجہتی موجود نہیں ہوتی جو تیزرفتار ترقی کے لیے لازمی ہوتی ہے چینی قیادت کا یہ کارنامہ ہے کہ اس نے اپنے عوام کو ان حوالوں سے تقسیم نہیں ہونے دیا جن کا ذکر ہم نے اوپر کیا ہے اس کی وجہ سے چین میں لاجواب قومی یکجہتی موجود ہے۔
چین میں موجود قومی یکجہتی اور تیز رفتار ترقی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں ترقی کے ثمرات کو عوام تک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے جس کی وجہ سے عوام قومی ترقی کے کاموں میں جی جان سے حصہ لیتے ہیں دوسرے ترقی پذیر ملکوں میں اس کے برخلاف ترقی کے ثمرات کو برسر اقتدار اشرافیہ اوپر ہی اوپر اچک لیتی ہے جس سے عوام بد دل ہوتے ہیں اور ترقیاتی کاموں میں ان کا بھرپور حصہ نہ لینا ایک فطری بات نظر آتی ہے۔ پاکستان سمیت بیشتر ترقی پذیر ملکوں میں معاشی تفاوت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ دولت کا 80 فیصد حصہ مٹھی بھر ایلیٹ کے ہاتھوں میں مرتکز ہوکر رہ گیا ہے۔
چین کی یکسوئی سے ترقی کی ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ سیاسی تنازعات میں اس قدر الجھا ہوا نہیں ہے جس طرح دوسرے ترقی پذیر ملک الجھے نظر آتے ہیں مثال کے طور پر ہندوستان اور پاکستان کو لے لیں ان دونوں ملکوں میں کشمیر کی وجہ سے جو کشیدگی کی مسلسل فضا موجود ہے اس کی وجہ سے جہاں قومی وسائل غیر ترقی یافتہ منصوبوں پر صرف ہوجاتے ہیں وہیں قومی یکجہتی بھی متاثر ہوجاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعات جیسے دوسرے سنجیدہ ایشوز موجود ہیں لیکن چین ان ایشوز کو اس قدر سنگین نہیں بنا رہا ہے جس قدر پاکستان اور ہندوستان بنائے ہوئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر کا مسئلہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک بنیادی حق خود ارادی کا مسئلہ ہے لیکن اس مسئلے کی سنگینی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس حق خود ارادی کے مسئلے کو مذہبی مسئلہ بنادیا گیا اور کشمیر میں ہونے والی حق خود ارادی کی جدوجہد کو اسلام اور کفر کی جنگ میں بدل دیا گیا۔ اس مسئلے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مذہبی انتہا پسند طاقتیں دونوں ملکوں میں مضبوط ہو رہی ہیں اور عام آدمی اس کلچر سے اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے لگا ہے اور جس ملک کے عوام میں یہ نفسیات پیدا ہوجاتی ہیں ترقی کا پہیہ جام ہوجاتا ہے۔
چین سمیت ان تمام ملکوں میں جہاں سیاست اور حکمرانی سیکولر ہوتے ہیں وہاں تحقیق اور انکشافات کا سلسلہ جاری رہتا ہے لیکن مسلم ملکوں خاص طور پر پاکستان میں ہماری مذہبی قیادت نے سیکولرزم کو ایک گالی بناکر رکھ دیا ہے اس ذہنیت کی وجہ سے تحقیق تجسس اور کرید کا سلسلہ رک جاتا ہے مثال کے طور پر چاند ہی کو لے لیں ہماری قومی نفسیات میں چاند کے حوالے سے ایسے مفروضات موجود ہیں جو حقائق سے متصادم ہیں جس کی وجہ سے محقق بھی سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ چاند ایک زمین سے چھوٹا لیکن زمین کی طرح ایک سیارہ ہے جس میں مٹی، پہاڑ، وادیاں سب ہی موجود ہیں اتنے بڑے سیارے میں نظر آنے والی وادیوں وغیرہ کو داغ کی طرح کی تاویلیں کرکے انسانوں کے اذہان کو اس طرح انتشار کا شکار کردیا گیا ہے کہ وہ حقیقت کو ماننے اور حقیقت کو بیان کرنے ہی سے منکر نظر آتا ہے۔
ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں وہ سائنس ٹیکنالوجی آئی ٹی تحقیق اور نئے نئے انکشافات کی دنیا ہے اب اگر ہم اس دنیا میں بیٹھ کر چاند کے دھبوں کو چرخہ کاتتی ہوئی بڑھیا کا نام دیں تو ہم نہ صرف اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہ جائیں گے بلکہ ہمارا مستقبل بھی تاریک ہوجائے گا۔ صورتحال یہ ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں کے عوام مریخ پر جانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور ہمارا یہ حال ہے کہ ہمیں یہی نہیں معلوم کہ مریخ کس چڑیا کا نام ہے۔ بڑی عیدوں کے موقع پر ساری قوم کا سب سے بڑا مسئلہ عید کا چاند دیکھنے کا ہوتا ہے اور ہم دو دو نہیں تین تین عیدیں مناتے ہیں یہ ایک بہ ظاہر چھوٹا سا مسئلہ نظر آتا ہے لیکن اس کے پیچھے جو نفسیات موجود ہے وہ ہمیں تحقیق تلاش اور انکشافات سے روکتی ہے اسے ہماری اجتماعی بدقسمتی ہی کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان ہی نہیں بلکہ تمام مسلم ملکوں میں سائنس ٹیکنالوجی تحقیق اور انکشافات کے شعبوں میں الو بول رہا ہے اور مذہبی انتہا پسندی ہر جگہ اپنے جلوے دکھا رہی ہے کیا ہم چین کی طرح چاند پر جانے کی کوشش کریں گے یا چین کے سستے جوتے خرید کر عید مناتے رہیں گے؟