مشرق وسطیٰ کا بحران اور پاکستان

مشرق وسطیٰ کا بحران پاکستان کو براہ راست متاثر کر رہا ہے.


Editorial June 23, 2017
مشرق وسطیٰ کا بحران پاکستان کو براہ راست متاثر کر رہا ہے۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے گزشتہ روز سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے اجلاس میں خاصی اہم باتیں کی ہیں' انھوں نے کمیٹی کو مشرق وسطیٰ خصوصاً سعودی عرب اور قطر کے تنازعہ پر بریفنگ دی۔ بریفنگ کے دوران مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ پارلیمنٹ کی منظورکردہ قرارداد خلیجی بحران میں پاکستان کی پالیسی کا بنیادی نکتہ ہے۔

بی بی سی کے مطابق سرتاج عزیز نے کہا کہ حکومت نے پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف کو اسلامی ممالک کی فوج کے سربراہ کے طور پر نہیں بھیجا 'اس لیے وہ انھیں واپس آنے کا نہیں کہہ سکتے۔ سعودی عرب میں موجود پاکستانی افواج کسی بھی ملک کے خلاف ہونے والی کارروائی میں حصہ نہیں لیں گی، سعودی عرب کی قیادت میں اسلامی ممالک کا اتحاد دہشتگردی کے خلاف بنایاگیا ہے۔

سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی نے سفارش کی کہ پاکستان خلیجی بحران میں غیر جانبدار رہ کر مصالحتی کردار ادا کرے۔ چیئرپرسن کمیٹی نزہت صادق نے کہاپاکستان نے سعودیہ قطرتنازع میں مصالحتی کرداراداکرنیکی کوشش کی ہے اوراس سلسلے میںوزیراعظم نوازشریف کی سعودی فرمانروا شاہ سلمان اورامیرقطرتمیم بن حمادالثانی سے فون پربات ہوئی ہے۔ ادھر دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ جنرل(ر) ریٹائرڈ راحیل شریف کورولز کے مطابق این او سی جاری کیا گیا ہے۔

مشرق وسطیٰ کا بحران پاکستان کو براہ راست متاثر کر رہا ہے' بلاشبہ اس بحران کو پیدا کرنے میں امریکا' روس' اسرائیل اور بعض یورپی ممالک کا بھی ہاتھ ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ مشرق وسطیٰ میں عرب ممالک اور ایران کے مابین ٹکراؤ ہی اصل بحران کی جڑ ہے' ترکی بھی کسی حد تک اس بحران کا حصہ ہے' عراق' شام اور یمن کے بحران میں خلیج کے عرب ممالک یکجا تھے لیکن سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکا اور اسلامی ممالک کی کانفرنس کے بعد صورت حال میں اس وقت ڈرامائی تبدیلی آ گئی جب سعودی عرب' مصر اور دیگر عرب ممالک نے قطر سے تعلقات ختم کر لیے اور اس پر دہشت گردی کی پشت پناہی کے الزامات کر دیے' اس سارے منظرنامے میں پاکستان کے لیے خاصی مشکل اور پیچیدہ صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔

پاکستان کے خلیجی عرب ممالک سے گہرے تعلقات ہیں' ادھر ایران پاکستان کا ہمسایہ ہے اور اس ملک کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے ہیں' گو ایران میں انقلاب کے بعد پاک ایران تعلقات میں کچھ فرق آیا لیکن دونوں ملکوں کے درمیان کبھی کوئی تنازعہ پیدا نہیں ہوا لیکن مشرق وسطیٰ کے بحران کے دوران پاک ایران تعلقات میں بھی تلخی کا عنصر نظر آرہا ہے' اس سارے معاملے کا بہترین حل یہی ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے بحران میں فریق بنے بغیر اپنے مفادات کا تحفظ کرے۔

وزیراعظم گزشتہ دنوں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ سعودی عرب کے دورے پر گئے تھے اور اس دورے کا مقصد بھی سعودی عرب اور قطر کے مابین مصالحت کرانا ہے' پاکستان اس وقت جس قسم کی صورت حال سے دوچار ہے' وہ خلیج کے عرب ممالک اور ایران کے ساتھ مخالفت کا متحمل نہیں ہو سکتا' اس طرح پاکستان نے امریکا کے ساتھ تعلقات میں بھی توازن رکھنا ہے' صورتحال خواہ کتنی بھی مشکل کیوں نہ ہو' اس کا کہیں نہ کہیں کوئی حل ضرور ہوتا ہے' یمن کے بحران میں پاکستان غیر جانبدار رہا ہے اور اس کو یہ حیثیت برقرار رکھنی چاہیے۔

ادھر سعودی عرب اور ایران کی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اختلافات میں دوسرے ممالک کو نہ گھسیٹیں' ایران اور سعودی عرب باہم مل کر مشرق وسطیٰ کا بحران با آسانی حل کر سکتے ہیں' اگر عرب و عجم کے قدیم تعصبات اور قبائلی سوچ کو آگے رکھ کر پالیسیاں تشکیل دی گئیں تو اس کا نتیجہ سوائے تباہی کے کچھ نہیں نکلے گا' جہاں تک اسلامی ممالک کی فوج کا تعلق ہے تو بظاہر اس کا قیام کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس کا بنیادی مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنا ہے۔

یہ مقصد برا نہیں ہے لیکن سعودی عرب اور اسلامی فوج اتحاد میں شامل دیگر ممالک کو ایران' عراق اور دیگر ممالک کے تحفظات کو بھی دور کرنا چاہیے' اس وقت عرب ممالک بدترین دور سے گزر رہے ہیں' عراق' یمن اور شام تباہ ہو چکے ہیں' بحرین کے حالات بھی اچھے نہیں ہیں' صرف خلیج کے امیر ممالک خانہ جنگی اور انتشار سے بچے ہوئے ہیں لیکن اگر معاملات کو سنبھالا نہ گیا تو صورت حال خراب ہو سکتی ہے۔ اس نکتے کو سعودی عرب اور دیگر خلیجی عرب ممالک کی قیادت کو بھی سمجھنا چاہیے اور ایرانی قیادت کو بھی صورت حال کی نزاکت کا احساس کرنا چاہیے۔

دوسرے مسلم ممالک کو امتحان میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ اگر ایران اور سعودی عرب اپنے باہمی سیاسی اختلافات کو حل کر لیں تو مشرق وسطیٰ کا بحران حل ہو سکتا ہے' پاکستان کو اس جانب ہی پیش رفت کرنی چاہیے اور ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے سعودی عرب اور قطر کو قریب لانا چاہیے اور ساتھ ہی ایران کو بھی عربوں کے ساتھ ایک میز پر بیٹھنا چاہیے تاکہ مشرق وسطیٰ کا بحران حل ہو سکے۔