سیاسی انارکی کی انتہا
یہ بڑی دلچسپ بات ہے کہ عدلیہ کے احترام کے دعویدار محض اس لیے عدلیہ کے خلاف جارحانہ رویہ اختیارکیے ہوئے ہیں
ISLAMABAD:
پاکستان کی پوری تاریخ ویسے تو سیاسی عدم استحکام سے بھری ہوئی ہے لیکن میاں برادران کی حکومت کا موجودہ دور بدقسمتی سے سیاسی انارکی کی اس انتہا کو پہنچ گیا ہے جہاں جمہوریت اپنا منہ چھپا کر روتی نظر آتی ہے۔ بھٹو کے خلاف تحریک سے قبل ایسی انارکی موجود نہیں تھی حالانکہ بھٹو کو ضیا نے سزائے موت سنوائی تھی اور بھٹو پاکستان کی تاریخ کا مقبول ترین لیڈر مانا جاتا تھا۔
پاناما اسکینڈل صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ دنیا کے کئی ملک اس اسکینڈل کی زد میں ہیں اور وہاں کے وہ حکمران جن کا نام پاناما اسکینڈل میں شامل رہا، انھوں نے اس الزام کی وجہ اپنے عہدوں سے بلامانگے استعفیٰ دے دیے اور یوں جمہوریت کی لاج رکھ لی لیکن ہمارے حکمران اس حوالے سے اس قدر ڈھٹائی کا مظاہرہ کر رہے ہیں کہ ان کی یہ ضد خود جمہوریت کی بقا کے لیے ایک سنگین خطرہ بن گئی ہے۔
1977 میں بھٹوکے خلاف جو تحریک چلی تھی اس کے عوامل خواہ کچھ ہی کیوں نہ رہے ہوں، سیاسی انارکی کا اس طرح شکار نہ تھی کہ عدلیہ جیسا قابل احترام ادارہ بازاری تنقید کا شکار نہ ہوا تھا۔ حالانکہ بھٹو کو تختہ دار پر عدلیہ کے حکم ہی پر چڑھایا دیا گیا تھا، لیکن 1977کی پوری تاریخ میں عدلیہ کے خلاف وہ رویہ نہیں اپنایا گیا تھا جو آج پاناما کے حوالے سے شریف خاندان کی عدالت میں طلبی کی وجہ سے اپنایا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس انارکی میں صرف دو پارٹیاں فرنٹ پر نظر آرہی ہیں اور دونوں نے ابتدا سے اس موقف کا اظہار کیا تھا کہ وہ عدلیہ کے ہر فیصلے کا احترام کریں گے۔
یہ بڑی دلچسپ بات ہے کہ عدلیہ کے احترام کے دعویدار محض اس لیے عدلیہ کے خلاف جارحانہ رویہ اختیارکیے ہوئے ہیں کہ سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ جے آئی ٹی نے میاں نواز شریف ان کے بھائی ان کے دو بیٹوں کو تحقیق کے سلسلے میں عدالت میں طلب کیا ہے۔ اس حوالے سے میاں صاحب کے صاحبزادے کی ایک تصویر باعث فساد بن گئی ہے جو دوران تفتیش کھنچی ہوئی ہے۔
مجھے یاد ہے کہ بھٹو جیسا مقبول عام لیڈر عدالت ہی میں حاضر نہیں ہوتا تھا بلکہ جیل کی اس تنگ و تاریک کوٹھڑی میں مہینوں بند رہا جہاں ایک آدمی چند منٹ رہنے سے خوفزدہ ہوجاتا ہے۔ ظلم کا عالم یہ تھا کہ سزائے موت کے اس قیدی سے اس کے بیوی بچے نہیں مل سکتے تھے اور کڑی نگرانی کا عالم یہ تھا کہ بے نظیر باپ سے عام انداز میں بات نہیں کرسکتی تھی بلکہ یا توکھسر پھسر انداز میں بات کرتی تھی یا لکھ کر بات کی جاتی تھی۔
جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے تشکیل دی ہے، سپریم کورٹ کی تشکیل دی ہوئی جے آئی ٹی کے خلاف جس قسم کی زبان حکومتی اکابرین استعمال کر رہے ہیں، وہ اس لیے قابل افسوس ہے کہ جے آئی ٹی ملک کے اعلیٰ ترین ادارے سپریم کورٹ کی تشکیل کردی ہے اور جے آئی ٹی پر تنقید کا مطلب سپریم کورٹ پر تنقید ہی ہوسکتا ہے۔ اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی کیس تحقیق و تفتیش کے مراحل سے گزر رہا ہے جے آئی ٹی نے کوئی فیصلہ نہیں سنایا، ہر جمہوری ملک میں عدلیہ کا احترام کیا جاتا ہے لیکن حیرت ہے کہ قدم قدم پر عدلیہ کی برتری کا ذکر کرنے والے عدلیہ کے خلاف محاذ بنائے ہوئے ہیں اور توہین آمیز لہجوں میں جے آئی ٹی پر تنقید کر رہے ہیں۔
پاناما کیس کا میڈیا میں جس بڑے پیمانے پر پروپیگنڈا ہوا ہے اس کی وجہ سے عوامی سطح پر ایک ایسی نفسیاتی فضا بن گئی ہے جس کا اندازہ حکمرانوں کو بھی ہے اور عدلیہ کو بھی متعلقہ فریقوں کے خوف اور خوشی کا انحصار رائے عامہ پر منحصر ہے۔ اگر ہمارا ملک جمہوری ہے اور ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں تو پھر رائے عامہ اور رائے عامہ کی ترجمان طاقتوں کا احترام ضروری ہے۔ یہ اس ملک کی ایک ایسی بدقسمتی ہے کہ یہاں سیاستدان قومی مسائل پر سیاست نہیں کرتے بلکہ افرادی سیاست کرتے ہیں، اس میں شک نہیں کہ ملکی سیاست میں بوجوہ عمران خان اس وقت سب سے زیادہ مقبول سیاستدان ہیں لیکن عمران خان کی یہ عجیب نفسیات ہے کہ وہ قومی مسائل کو پس پشت ڈال کر انفرادی یا خاندانی سیاست کے اسیر رہے ہیں۔
2016 کی بڑی تحریک میں بھی عمران خان کا نعرہ گو نواز گو رہا اور آج کی عمرانی سیاست کا محور بھی بدقسمتی سے گو نواز گو ہی نظر آرہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر بفرض نواز شریف نااہل قرار دے دیے جاتے ہیں تو ان کی جگہ نہ عمران خان وزیر اعظم بن سکتے ہیں نہ اس کی پارٹی کا کوئی فرد۔ مسلم لیگ (ن) کا ہی کوئی رہنما نواز شریف کی جگہ لے گا اور مسلم لیگ ہی کی سیاست جاری رہے گی۔کیا یہ عام سی بات بھی ہمارے سیاستدانوں کی سمجھ میں نہیں آتی؟
یہ خلفشار یہ سیاسی انارکی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک اس ملک میں خاندانی سیاست خاندانی حکمرانی موجود رہے گی اور 20 کروڑ عوام محض سیاسی تماش بین بنے رہیں گے۔ یہ ملک 20 کروڑ غریب عوام کا ہے اور یہی اس ملک کے مالک ہیں اگر عوام کو اپنی اس مالکانہ حیثیت کا ادراک ہوجائے تو نہ خاندانی سیاست کے یہ جھگڑے اور گندگی رہے گی نہ ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار رہے گا۔