کوئٹہ میں وحشیانہ واردات

پاکستان دشمن قوتوں نے بلوچستان میں ایک بار پھر دہشتگردی کی آنکھ مچولی شروع کردی ہے


Editorial June 24, 2017
پاکستان دشمن قوتوں نے بلوچستان میں ایک بار پھر دہشتگردی کی آنکھ مچولی شروع کردی ہے ۔ فوٹو : رائٹرز

PESHAWAR/ BANNU: جمعے کی صبح کو تقریباً سوا نو بجے کوئٹہ میں آئی جی آفس کے اردگرد کا علاقہ ہولناک اور زوردار دھماکا سے لرزاٹھا۔ ذرائع کے مطابق آفس کے سامنے گلستان چوک شہدا چوک پر بارودی مواد سے بھری گاڑی میں زوردار دھماکے سے 6 پولیس اہلکاروں سمیت12 افراد جاں بحق جب کہ 10 سالہ بچی اور پولیس اہلکاروں سمیت 21 زخمی ہوگئے جن میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، وزیراعظم نواز شریف، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی اور وزیراعلیٰ بلوچستان سردار ثنا اللہ زہری نے دھماکے کی شدید مذمت کی اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی صدمہ کا اظہار کیا ہے ، وزیراعظم نے کہا کہ معصوم انسانوں کو نشانہ بنانا انتہا درجہ کی بزدلانہ کارروائی ہے۔

بادی النظر میں اس وحشیانہ واردات کی کڑی بہت سارے اسٹرٹیجک معاملات اور بلوچستان کی بے سمت داخلی صورتحال سے ملائی جا سکتی ہے کیونکہ دشمن ایک ہو تو صوبائی حکومت اور سیکیورٹی فورسز کا ہدف بن سکتا ہے مگر صوبے میں کئی قوتوں کی ساز باز جاری ہے۔ بڑی طاقتوں کے غیر مرئی کھیل کے سلسلے کافی دراز ہیں ، بظاہر سیکیورٹی فورسز کی امن قائم کرنے، صوبائی حکومت کی رٹ کی بحالی اور زندگی کے معمولات لوٹ آنے سے حکومت کو جمہوری اسپیس بھی ملی ہے اور وزیراعلیٰ سردار ثنااللہ زہری دہشتگردی کے اس واقعہ کے بعد نیپال کے سفیر سیوالمسال ادھیکاری سے ملاقات میں اس بات کا یقین دلارہے تھے کہ صوبہ بلوچستان دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے اوپن ہے، حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن ترغیبات اور کاروباری سہولتیں دے گی ، وزیراعلیٰ نے سی پیک کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پاک چین اقتصادی راہداری نے سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کی بنیاد مہیا کی ہے۔

درحقیقت یہی وہ بریک تھرو ہے جسے پاکستان دشمن قوتوں نے ناکام بنانے کے لیے بلوچستان میں ایک بار پھر دہشتگردی کی آنکھ مچولی شروع کردی ہے، چند روز قبل صوبہ کے ساحلی علاقہ جیونی کو ٹارگٹ کیا گیا ، کوئٹہ برسوں سے دہشگردوں اور کالعدم تنظیموں کا نشانہ بنتا رہا ہے، سریاب روڈ پر قتل وغارت معمول بن چکا تھا ، بلوچستان میں ہزارہ برادری سمیت ، مزدوروں ، وکلا ، سیاسی کارکنوں ، سینئر سیاست دانوں کو بے دردی سے مارا گیا جس کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے سیکیورٹی ایجنسیوںاور ایف سی کو امن کے قیام کے لیے خصوصی اختیارات دیے گئے ، فورسز نے بلاامتیاز کارروائی کر کے بلوچستان کی شورش اور مزاحمت کا زور توڑا اور طالبان اور القاعدہ سمیت کالعدم تنظیموں اور دیگر مذہبی انتہا پسندوں اور بلوچ علیحدگی پسند گروپوں کے دہشتگردانہ نیٹ ورکس کے خاتمے کی بھرپور کوششوں کو نتیجہ خیز بنایا لیکن ٹاسک ختم نہیں ہوا ، صوبہ میں بدامنی کی لہر زیر زمیں چلتی رہی۔

مختلف سیاسی ، مسلکی ، فرقہ وارانہ اور مذہبی گروہ ایک دوسرے کا حساب بے باق کرنے کی کارروائیوں کو بھی دہشتگردی کے عالمی ایجنڈے سے جوڑکر صورتحال کو غلط رخ دینے کی جعلسازی میں مصروف ہیں، ارباب اختیار دہشتگردی کے وقتاً فوقتا واقعات سے اس بات کا ادراک کرلیں کہ بلوچستان کی سیاست ریاضی کا کوئی جامد کلیہ نہیں، صوبہ میں برسوں سے انا نیت کی جنگ جاری ہے، سرداری سسٹم ، قبائلی رسم و رواج سے جمہوری رویوں کی کشمکش ، انفراسٹرکچر کے فقدان اور انتہا درجے کی کرپشن کے باعث دیگر صوبوں کے مقابلہ میں بلوچستان بے چینی کی خاص تپش رکھتا ہے، اس لیے صرف طاقت سے بلوچستان امن کا گہوارہ نہیں بن سکتا، وفاقی حکومت اور سٹبلشمنٹ نے یہ راز پا لیا ہے لہذا بلوچستان میں تعلیم اور روزگار کے حوالہ سے اہم اقدامات کیے گئے ہیں جن کے نتائج بھی سامنے آرہے ہیں، ادھر قوم پرستانہ تحریک اور ساری مزاحمتی جنگ معدنی وسائل کے استعمال میں مقامی آبادی کی ریاستی امور میں عدم شراکت سے جوڑی جاتی ہے، یہ گلہ سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک نے بھی کیا ہے ۔تاہم بعض بنیادی بلدیاتی مسائل البتہ گوادر سے لے کر ڈیرہ بگٹی اور مری و مینگل قبائل تک پھیلے ہوئے ہیں، عمومی احساس بیگانگی یا فرسٹریشن اور محرومیوں کو اس بد نصیب صوبہ میں بڑا دخل رہا ہے، بلوچستان کے سر بہ فلک پہاڑوں نے 5 بڑی شورشوں کا اتار چڑھاؤ دیکھا ہے۔

فوجی کارروائیوں اور جنرل رحیم الدین کے پرامن دور کی تلخ وشیریں تجربات سے بھی گزرا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ جمود زدہ سیاسی کلچر کو فعال جمہوری دھارے میں لانے کی غیر مشروط کوششوں سے ہی بلوچستان میں دہشتگردی کی باقیات سے چھٹکارا ملے گا جب کہ کئی سر والے دہشتگردوں سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کو ایک طویل المیعاد جنگ کی تیاری لازمی ہے ۔ گرم پانیوں تک رسائی کا کھیل ماضی کا حصہ نہیں بنا بلکہ عالمی قوتیں خطے میں طاقت کے توازن کو بگاڑنے اور سی پیک منصوبہ کو علی الاعلان ناکام بنانے کے لیے بلوچستان کو نئے گریٹ گیم کا مرکز بنانے کی سر توڑ کوششیں کررہی ہیں ، مغربی میڈیا اور امریکی حلقوں میں بلوچستان کے مستقبل کے بارے میں رپورٹیں تیار ہورہی ہیں، بھارت، افغانستان اور انکل سام کے گھناؤنے اتحاد evil nexus کے ارتعاش کو اسٹبلشمنٹ نے محسوس بھی کیا ہے۔ اب ضرورت بلوچستان میں دہشتگردی کی نئی لہر کے گہرے ادراک اور اس سے بھرپور طریقے سے نمٹنے کی ہے۔ گھات میں بیٹھے دشمن کو اس کی کارروائی سے پہلے دبوچیے ، تب بات بنے گی۔