92 پیسے اور حاتم طائی کی قبر

حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں 92 پیسے کی کمی کر کے بے چارے حاتم طائی کی قبر کو بلڈوز کر کے رکھ دیا


Saad Ulllah Jaan Baraq February 02, 2013
[email protected]

ناظرین باتمکین، دنیا کے فیمس ترین چینل ''ہیاں سے ہواں تک'' پر آپ کا سواگت۔ ہمارے ٹاک شو ''چونچ بہ چونچ'' میں ''تیل'' پر بات ہو گی۔ یہ خبر بلکہ خوش خبری بلکہ مژدہ جاں فزا تو آپ نے سن ہی لیا ہو گا کہ حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں 92 پیسے کی کمی کر کے بے چارے حاتم طائی کی قبر کو بلڈوز کر کے رکھ دیا۔ سنا ہے ڈیزل کے نرخ میں پورے 92 پیسے کی کمی سے نہ صرف دنیا بھر کی مارکیٹیں ہل گئیں بلکہ آسمان میں ستارے اور سیارے بھی تھرتھرا گئے۔ ہمارے ماہرین کو تو آپ پہچان بھی گئے ہونگے، یہ میری بائیں جانب جو بیٹھے ہیں، مشہور ماہر خرافات و بکواسیات چشم گل چشم عرف قہر خداوندی ہیں اور دائیں جانب جو تشریف فرما ہیں، ماہر عملیات و تعویزات و ازدواجیات علامہ بریانی عرف برڈ فلو ہیں۔ آج ہمارے مہمان ہیں جناب بوگرا ولد بوگرا جو حکومت کے ماہر نرخیات و ڈاکہ جات و رہزنیات ہیں۔

بوگرا: وزیر بھی ہوں بلکہ وزیر ابن وزیر ابن وزیر کہئے۔
اینکر: اوہ ساری، ہم تو سمجھے تھے کہ آپ کسی آدمی کے فرزند ارجمند ہیں۔

بوگرا: وزیر آدمی ہوتے ہیں۔
چشم: اچھا ہم نے تو کچھ اور سنا تھا۔

بوگرا: کیا سنا تھا۔ علامہ: جھوٹا ہے یہ، اس کے کان بجتے ہیں۔
اینکر: تیل کی بات کرتے ہیں۔بوگرا: نہیں صرف ڈیزل پر بات ہو گی۔
چشم: کیا آپ ڈیزلی ہیں ، سنا ہے آپ تیلی ہیں۔

بوگرا: میں منسٹر ہوں۔چشم: یہ کیا ہوتا ہے؟بوگرا: وزیر۔
چشم: کمال ہے، آدمی بھی، وزیر بھی اور منسٹر بھی...
اینکر: چلیے جھگڑا ختم کیے دیتے ہیں نہ وزیر نہ آدمی صرف تیلی۔بوگرا: میں تیلی نہیں ہوں۔
چشم: تو پھر تھیلی ہوں گے۔علامہ: تم چپ کرو ناہنجار محترم جناب وزیر صاحب کے منہ نہ لگو ۔
چشم: میں کیا پاگل ہوں، اس کے منہ سے تو ڈیزل کی بو آتی ہے بلکہ خون کی بھی۔

بوگرا: مائنڈ یور لینگویج۔
چشم: لینگوئج یور مائنڈ۔
اینکر: تم چپ کرو، ہاں تیلی صاحب۔

بوگرا: تیلی نہیں منسٹر۔
اینکر: اچھا منسٹر صاحب... یہ جو آپ لوگوں نے ڈیزل کی قیمت میں پورے 92 پیسے کی کمی ہے، اس سے کیا فائدہ؟
بوگرا: فائدہ نہیں فائدے، عوام خوشحال ہو جائینگے، روزگار میں اضافہ ہو جائے گا، بیماریاں ختم ہو جائیں گی، سیلابوں اور زلزلوں کا آنا کم ہو جائے گا اور سب سے بڑی بات یہ کہ دہشت گردی ختم ہو جائے گی۔
چشم: کمال ہے، ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ ڈیزل سے بھی دہشت گردی ختم ہو سکتی ہے۔

بوگرا: یہ راز کی باتیں ہیں جو صرف وزیروں کو معلوم ہوتی ہیں۔اینکر: اس کی وضاحت کر دیں۔
بوگرا: دیکھو اب قانون نافذ کرنیوالے ادارے چاہتے ہیں کہ شہر کے اندر جانیوالی اور باہر آنیوالی سڑکیں بند کر دیں لیکن مجبوری ہے، قانون نافذ کرنیوالے ادارے لوگوں کو خوب تنگ کرتے ہیں تا کہ نازک مقامات کے قریب سے نہ گزریں۔
اینکر: ہاں یہ تو ہے، اس دن مجھے شہر میں آدھے گھنٹے کا کام تھا، چھ گھنٹے صرف راستے میں لگ گئے، پہنچا تو وہ دفتر بند تھا۔

بوگرا: لیکن ڈیزل سستا ہونے پر یہ ادارے تمام سیدھے راستے بند کر دیں گے اور لوگوں کو لمبے لمبے چکروں میں کوئی دقت نہیں ہو گی۔
چشم: مثلاً نوشہرہ سے پشاور جانے کے لیے مردان سے ہو کر آنا ہو گا اور چارسدے والوں کو نوشہرہ سے گزر کر آنا ہو گا۔
بوگرا: یہی بات ہے اور اس سے دہشتگرد بوکھلا جائینگے۔
چشم: کیسے؟ ذرا بوکھلا کر دکھائیں کہ بوکھلانا کیسے ہوتا ہے۔

بوگرا: میں وزیر ہوں کوئی اداکار نہیں۔
چشم: مگر جلسے کے اسٹیج پر تو آپ زبردست پرفارم کرتے ہیں۔
علامہ: دیکھو یک چشم کانے دجال وزیر صاحب محترم و مکرم و معظم کو تنگ نہ کرو ورنہ کفر کا فتویٰ ٹھونک دوں گا۔

بوگرا: یہ صاحب بڑے سمجھ دار لگتے ہیں ،کبھی آیئے نا میرے دفتر ۔
علامہ: وہ تو میں ضرور آئوں گا، میرے پاس ہر طرح کے تعویزات ہیں۔

بوگرا: مثلاً ؟
علامہ: مثلاً انتخاب میں کامیابی کے لیے، غیر ملکی سیر کرنے کے لیے اور دشمنوں کو برباد کرنے کے لیے۔
بوگرا: پھر تو آپ ضرور آیئے۔
علامہ: میرے پاس ایک چورن بھی ہے سڑک ہضم، بلڈنگ ہضم ۔

بوگرا: سچ۔علامہ: مچ۔
بوگرا: میرے لیے ضرور لایئے گا، آج کل پیٹ میں شدید درد اٹھتا ہے۔
چشم: کتنی سڑکوں اور عمارتوں کو ہضم کرنے کے لیے... کیونکہ چورن اس حساب سے بنایا جاتا ہے۔

بوگرا: تم بھی تعریف کرتے ہو۔
چشم: کیا کروں میں نے بھی ایک چھوٹی سی سڑک کھائی ہے۔
علامہ: یہ سابق ناظم ہے اور میرے چورن کا خریدار۔
اینکر: دیکھئے اس قسم کی کاروباری باتیں ہمارے پروگرام میں الاؤڈ نہیں، تیل کی بات کریں۔
چشم: ہاں میں یہی پوچھنا چاہتا تھا کہ یہ 92 پیسے پٹرول میں ڈالے ہیں یا مٹی کے تیل میں۔

بوگرا: کیا مطلب۔
چشم: یہاں 92 پیسے کم کیے اور وہاں ڈیڑھ روپیہ بڑھا دیا۔
بوگرا: وہ الگ بات ہے، میں صرف ڈیزل پر بات کروں گا، پٹرول اور مٹی کا تیل اور وزیروں کے پاس ہیں۔
علامہ: میرا ایک بیٹا بے روزگار ہے، اگر کسی پمپ میں لگ جائے تو دعائیں دوں گا۔
چشم: پھر تو اس پٹرول پمپ کا خدا حافظ۔
علامہ: میرا بیٹا بڑا نیک اور صالح ہے،کسی کھیت سے گنا بھی بغیر اجازت نہیں توڑتا ،کھیت سے اجازت لے کر ہی توڑتا ہے۔
چشم: تو پمپ سے بھی اجازت لے کر چوری کرے گا۔
اینکر: صرف یہ بتایئے کہ حکومت جب نرخ بڑھاتی یا کمی کرتی ہے تو یہ ''پیسوں'' میں کیوں؟ راؤنڈ فگر میں کیوں نہیں مثلاً 92 پیسے کی جگہ اگر ایک روپیہ ہوتا؟

بوگرا: دیکھو ایسا ہے کہ پٹرول پمپوں والوں کی کمائی کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے۔
چشم: اور حکومت کے ان چھ محکموں کا بھی... جو پٹرول پمپوں سے ماہواری لیتے ہیں۔