فخرو بھائی ڈٹے رہیں

سب کا مطالبہ ہے فخرو بھائی ڈٹے رہیں۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔


Zahida Hina February 02, 2013
[email protected]

1990ء کے دن تھے، اردو اور سندھی بولنے والوں کے درمیان کشمکش اور کشاکش کا معاملہ خون سے لکھا جارہا تھا۔یہ وہ دن تھے جب مرنجان مرنج جناب (ر) فخر الدین جی ابراہیم سندھ کے گورنر اور نرم گفتار جناب شعبان میرانی وزیر اعلیٰ تھے۔ ان دونوں نے فیصلہ کیا کہ سندھی اور اردو کے نمایندہ ادیبوں کو بلایا جائے اور امن کی کوئی سبیل نکالی جائے۔ اس ملاقات کی صدارت کے لیے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اسلام آباد سے کراچی آئیں۔ ان کے چہرے پر تابانی کے ساتھ ہی طیش تھا۔ سندھ ان کا اپنا صوبہ،کراچی ان کی جنم بھومی اور یہاں وہ سب کچھ ہورہا تھا جو افسوسناک ہونے کے ساتھ ہی ان کی حکومت کے لیے سنگین مسئلہ بھی بن سکتا تھا۔

وہ پہلا موقع تھا جب میں نے جسٹس صاحب کو روبرو دیکھا۔ سادہ مزاج اور کھری بات کرنے والے فخر الدین جی ابراہیم کو سب ہی ''فخرو بھائی'' کہتے ہیں اور ان کی دیانتداری کی داد دیتے نہیں تھکتے۔ پھر ان سے متعدد ملاقاتیں رہیں اور ہمیشہ ان کو غمِ دو جہاں میں غرق پایا۔ وہ صوبہ گجرات کے شہر احمد آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی۔ عدم تشدد کا فلسفہ اختیار کیا۔ پاکستان آئے اور پھر اپنی ساری زندگی جمہوری اور آئینی جدوجہدمیں گزار دی۔ ان کا ایمان رہا کہ پاکستان کے جو حالات ہیں، ان میں کوئی خاموش نہیں بیٹھ سکتا۔ یہاں رہنے والے ہر عاقل و بالغ فرد کو جمہوریت اور انصاف کے لیے لڑنا چاہیے۔ ایسے زمانوں میں خاموش رہنا گناہ ہے اور کوئی بھی باضمیر فرد اس گناہ کا مرتکب نہیں ہوسکتا۔

وہ پاکستان کے اٹارنی جنرل اور وزیر قانون رہے۔ جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کیا اور جج حضرات کو پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کا حکم دیا گیا تو یہ جسٹس دراب پٹیل اور جسٹس فخر الدین جی ابراہیم تھے جنہوں نے اس حلف کو لینے سے انکارکردیا تھا۔ ان کی ہمہ جہت شخصیت کا ان سطروں میں احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ آج ان پر لکھنے کا سبب یہ بات بنی کہ وہ جو حکومت اور اپوزیشن کے نامزد کردہ چیف الیکشن کمشنر ہیں، کل تیز دھوپ میں کراچی کی بعض گنجان آباد گلیوں میں دو فوجیوں کے ساتھ پیدل چلتے ہوئے نظر آئے۔ گھروں پر دستک دیتے ہوئے اور باہر نکلنے والے چھوٹے بچوں اور بڑوں سے بات کرتے ہوئے۔

ان کی یہ ادا دیکھ کر وہ صاحب یاد آئے جو ان دنوں نہایت طمطراق کے ساتھ ٹیلی ویژن پر اپنی چھب دکھاتے ہیں اور اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ وہ انتخابی عمل کو صاف اور شفاف بنائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ ہمارے یہ ''مسیحا'' جو کینیڈا سے بے سان و گمان تشریف لائے ہیں، اپنے چالیس پچاس ہزار لوگوں کو پچاس لاکھ کہتے ہوئے اسلام آباد تشریف لے گئے تھے ۔ انھوں نے صدر، وزیر اعظم اور کابینہ سب ہی کو بہ یک جنبش زباں برطرف کردیا تھا۔ ان کا سب سے پہلا مطالبہ چیف الیکشن کمشنر کی برطرفی اور الیکشن کمیشن کی تحلیل تھا۔ فخرو بھائی کی 'برطرفی' کا ہذیان سن کر بلا استثنا سب ہی بلبلا گئے اور اس بات پر اتنا شدید اعتراض ہوا کہ انھوں نے فخرو بھائی کی طرف سے اپنی توپوں کا رخ کمیشن کے صوبائی اراکین کی طرف موڑ دیا۔ فخرو بھائی پر ان کو اعتراض یہ تھا کہ 84 برس کے ایک شخص کے لیے اتنا مشکل کام اور اتنا شدید سیاسی اور ذہنی دبائو برداشت کرنا کس طرح ممکن ہے۔حالانکہ ان کو علم ہونا چاہیے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم من مون سنگھ بھی اسی عمر کے ہیں۔

یہاں یہ عرض کرتی چلوں کہ فخرو بھائی 12 فروری 1928 کو پیدا ہوئے اور پاکستانیوں کے اس خود ساختہ مسیحا کی تاریخ پیدائش19 فروری 1951ء ہے۔ جمع ، تفریق کے بعد نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ فخرو بھائی سے 23 برس چھوٹے ہیں۔ اگر عمر ہی کسی فرد کی کارکردگی کا پیمانہ ٹھہرے تو پھر اسلام آباد دھرنے کے دوران ہمارے خود ساختہ مسیحا کو کسی گرم اور پُر آسائش کمرے کی ضرورت نہ تھی۔ ان کا قیام پانچ دن تک جس ''کاروان'' میں رہا وہ صرف بلٹ پروف ہی نہیں بم پروف بھی تھا۔ ادھر ان کے مرید اور ملازمین اسلام آباد کی شدید سردی میں بارش اور ژالہ باری کو اپنے ننھے ننھے بچوں کے ساتھ برداشت کررہے تھے۔ دو دن پہلے ہم نے ان سے 23 برس بڑے اور 'بوڑھے' فخرو بھائی کو دیکھا جو کراچی کی تیز گرمی میں گنجان علاقوں میں پیدل چل رہے تھے۔ انھیں نہ کسی دہشت گرد کی گولی کا خوف تھا اور نہ یہ پریشانی کہ ان کے قریب ریموٹ کنٹرول سے چلنے والا کوئی بم پھٹ سکتا ہے یاکوئی خود کش دھماکا ہوسکتا ہے۔ فخرو بھائی سے 23 برس چھوٹے خرقہ پوش خود ساختہ مسیحا نے کاش ہمارے چیف الیکشن کمشنر کو کراچی کی گلیوں میں کسی درویش کی شان سے چلتے دیکھا ہو۔ وہ ایک بے دھڑک انسان ہیں۔ یہ درویش جسے دو ٹوک بات کرنے سے نہ اعلیٰ ترین عہدیدار روک سکتا ہے اور نہ کسی اعلیٰ عہدے سے محرومی کا خوف۔

چند دنوں پہلے انھوں نے صدر آصف علی زرداری کو مشورہ دیا کہ اپنے منصب کا احترام کرتے ہوئے وہ آیندہ عام انتخابات کے دوران خود کو انتخابی مہم سے دور رکھیں کیونکہ میں نے ملک میں شفاف اور آزادانہ انتخابات کرانے کا تہیہ کررکھا ہے۔ انھوں نے یہ بات بھی کہی کہ اگرصدر، وزیر اعظم، وزراء اعلیٰ یاگورنروں نے انتخابی مہم میں کوئی کردار ادا کیا تواسے روکنے کے لیے بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔ وہ تمام سیاسی جماعتوں اور امیداواروں کے لیے یکساں ماحول کی فراہمی یقینی بناناچاہتے ہیں۔ الیکشن سے قبل میڈیا پر اشتہاری مہم پر ہونے والے اخراجات، ٹرانسپورٹ اور موجودہ حکمرانوں کی طرف سے ترقیاتی فنڈز کے استعمال پر بھی نظر رکھی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ہندوستان میںووٹر خود اپنے ذرایع سے پولنگ اسٹیشن پہنچ سکتے ہیں اور امیدواروں کو ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کی اجازت نہیں تو ہمارے ووٹر ایسا کیوں نہیں کرسکتے؟ انھوں نے میڈیا کو مشورہ دیا کہ وہ غیر جانبدار رہے اور اگرجمہوریت کے پھلنے پھولنے کی خواہش رکھتا ہے تو اسے کسی سیاسی جماعت کے پلڑے میںاپنا وزن نہیں ڈالنا چاہیے۔ اپنے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں جناب فخر الدین جی ابراہیم نے انتخابات کو صاف اور شفاف بنانے میں عدلیہ اور فوج کے کردار کا تفصیل کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف انتخابات کو صاف شفاف بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے پر تیار ہیں۔

الیکشن کمیشن نے فوج سے ملک بھر میں 80 ہزار پولنگ اسٹیشنوں پر کم از کم ایک فوجی تعینات کرنے اور پولنگ کے روز امن وامان یقینی بنانے میں مدد کی درخواست کررکھی ہے۔ (ر) جسٹس فخر الدین جی ابراہیم کہتے ہیں کہ کہ کاغذات نامزدگی میں سخت شرائط رکھی گئی ہیں اور عوام کو بھی ان شرائط سے آگاہ کیا جائے گا۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ ووٹروں کو کاغذات نامزدگی کی جمع کرانے کے دن سے امیدوار کا احتساب شروع کرنا چاہیے۔ کوئی بھی شہری کسی امیدوار کی اہلیت کے بارے میں اعتراض اٹھا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک چیز میرے نزدیک انتہائی تشویش کا سبب ہے کہ ملک میں اسلحے کے بھرمار ہے۔ میری خواہش ہے کہ نئے وزیر اعظم کا پہلا حکم ملک کو اسلحے سے پاک کرنے سے متعلق ہونا چاہیے ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ نگراں سیٹ اپ کو توسیع دینے جیسے غیرجمہوری اقدامات کے ذریعے جمہوریت کو پٹری سے اتارنے کی کوشش کی گئی تو وہ اپنے (منصب کے) مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے دوبارہ غور کریں گے۔ نگران سیٹ اپ کو دو یا تین سال تک توسیع دینے کا کوئی بھی اقدام آئین کی خلاف ورزی ہوگا اور ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں ورکرز پارٹی کیس کے فیصلے کے بعد موجودہ الیکشن کمیشن بہت طاقتور ہے اور اس کے اختیارات کا موازانہ ہندوستانی الیکشن کمیشن سے کیا جاسکتا ہے۔ فخر الدین جی ابراہیم لوگوں سے کہتے ہیںکہ ہمیشہ یاد رکھیں کہ فرد نہیں قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی جانب سے الیکشن کمیشن توڑنے کے مطابق پر انھوںنے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ارکان کے حوالے سے آئین بالکل واضح ہے ان کو صرف سپریم جوڈیشل کمیشن میں ریفرنس کے ذریعے ہٹایا جاسکتا ہے۔ بعض حلقوں کی طرف سے میری زائد العمری پر تنقید ناروا ہے ،کوئی بھی شخص بوڑھا یا جوان نہیں ہوتا۔ آپ کو کسی مقصد کے لیے زندگی گزاری چاہیے اور اب میری زندگی کا مقصد ملک میں صاف اور شفاف الیکشن کرانا ہے۔

سب کا مطالبہ ہے فخرو بھائی ڈٹے رہیں۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

مقبول خبریں