ملک میں بارشیں حفاظتی تدابیر نقش برآب
ملک کےمختلف حصوں میں نہاتے ہوئے 13 افراد اپنی جان گنوا بیٹھے
ملک بھر میں مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، پنجاب کے مختلف اضلاع میں عید کے دوسرے اور تیسرے روز موسلادھار بارش کے باعث چھتیں، آسمانی بجلی گرنے اور کرنٹ لگنے سے 16 افراد جاں بحق جب کہ 17 زخمی ہو گئے۔ شمالی سندھ میں بھی بدھ کو روز تیز بارش ہوئی جب کہ شدید گرمی کے موسم کے بعد بالآخر شہر قائد میں بھی ابر رحمت برس گئے۔
موسلا دھار بارش سے جہاں کچھ ہی دیر میں پورا شہر جل تھل اور گرمی کا زور ٹوٹ گیا وہیں شہر کی اہم شاہراہیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جس کی وجہ سے شہر میں ٹریفک کی روانی میں شدید خلل واقع ہوا۔ قابل افسوس امر یہ ہے کہ اﷲ کی یہ رحمت ہر سال ناقص انفراسٹرکچر اور منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث زحمت میں تبدیل ہو جاتی ہے، اس سال بھی کچھ ایسا ہی منظرنامہ دیکھنے کو ملا جہاں ملک بھرمیں برسات کے ساتھ ہونے والے حادثات میں بھی اضافہ ہو گیا۔ ملک کے مختلف حصوں میں نہاتے ہوئے 13 افراد اپنی جان گنوا بیٹھے۔ سڑکوں پر پھسلن کے باعث کئی موٹر سائیکل سوار گر کر زخمی ہو گئے۔ خیبرپختونخوا میں بھی بارشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور صوبے کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور پہاڑی علاقوں پر برف پگھلنے سے دریاؤں میں طغیانی آگئی ہے ۔
جس کے باعث پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ برسات کے موسم میں پاکستان کے عوام ان ہی تمام تر مشکلات کا سامنا ہر سال کرتے ہیں، یہاں بارش کی پہلی بوند زمین پر گری وہیں بجلی بند کر دی جاتی ہے، کئی علاقوں میں بجلی کی طویل تر بندش نے جہاں شہریوں کو مبتلائے اذیت رکھا وہیں بعض علاقے ایسے بھی تھے جہاں یہی بجلی کئی لوگوں کی موت کا باعث بن گئی۔ بارش کے پانی میں بجلی کے تار گرنے سے کئی افراد کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گئے۔ جب کہ شہر قائد کی 354 عمارتوں کو تعمیراتی ڈھانچے کی خستہ حالی کی بنا پر خطرناک قرار دیا گیا ہے، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں رین ایمرجنسی سینٹر قائم کرنے کے ساتھ عمارتوں کے مکینوں کو خبردار کیا ہے کہ قیمتی انسانی جانوں اور مالی نقصان کے تحفظ کے لیے ان عمارتوں کو فی الفور خالی کر دیا جائے۔بارشوں کے سبب یہ عمارتیں اپنا بوجھ برداشت نہیں کر سکتیں، جس کی وجہ سے اچانک زمین بوس ہو کر اندوہناک انسانی المیے کا باعث بن سکتی ہیں۔ بارشوں کے موسم نے پچھلے برس بھی کئی سانحات کو جنم دیا تھا صائب ہو گا کہ اس سال شہری خود حفاظتی کے تحت احتیاطی تدابیر اختیار کریں تا کہ کسی بھی حادثے سے بچا جا سکے۔