فرقہ واریت کیخلاف سخت ایکشن کی ضرورت

پاکستان اس وقت مختلف محاذوں پر درپیش چیلنجز سے نمٹ رہا ہے


Editorial June 30, 2017
فوٹو فائل

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہم سب پاکستانی اور مسلمان ہیں، حالیہ دہشت گردی کے واقعات کو دانستہ فرقہ واریت کا رنگ دیا جا رہا ہے، سانحہ پارا چنارکے ذمے دار کرداروں کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہا ہے کہ پاک فوج کیلیے ہر شہید اور زخمی کی جان بلاتفریق برابر اور قیمتی ہے، پاکستان کے دشمنوں نے سوشل میڈیا پر گمراہ کن مہم شروع کررکھی ہے،انھوں نے کہا کہ دشمن کی خفیہ ایجنسیاں اور ملک دشمن عناصر حالیہ واقعات کو جان بوجھ کر فرقہ وارانہ اور نسلی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاک فوج اس سب پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے،آرمی چیف نے کہا کہ دشمن پہلے دہشت گردی کے ذریعے ہمیں تقسیم کرنے میں ناکام ہوا اور اب ہمیں فرقہ وارانہ اور نسلی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، قوم کو اس کا متحد ہو کر جواب دینا ہو گا،پارا چنار میں دہشت گردی کا شکار ہونے والوں کو بلاامتیاز معاوضہ ادا کیے جانے کو یقینی بنایا جائے گا، فاٹا سمیت ملک بھر کی سیکیورٹی صورتحال کنٹرول میں ہے اور اسے دوبارہ خراب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق گذشتہ چند دنوں کے دوران آرمی چیف نے اس حوالے سے ملک بھر سے تمام مکاتب فکر کے علما سے بات چیت کی ہے تاکہ ان کے تعاون سے اس شرانگیز مہم کو شکست دی جا سکے۔

پاکستان اس وقت مختلف محاذوں پر درپیش چیلنجز سے نمٹ رہا ہے، ایک جانب دہشت گرد اپنی اپنی مذموم کارروائیوں میں مصروف ہیں تو دوسری جانب کچھ عناصر فرقہ واریت اور نسلی منافرت کو ہوا دے کر ملک کی سالمیت اور اتحاد کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ فرقہ واریت اور تعصب پھیلانے والے عناصر دہشت گردوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں' دہشت گردوں سے تو ہر شہری نفرت کرتا ہے اور ریاست کی طاقت کے زور پر انھیں دبانے یا قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوشش سے دہشت گردی میں کمی آجاتی ہے مگر فرقہ واریت ایک ایسا زہر ہے جس کا تریاق صرف طاقت کا استعمال نہیں بلکہ نظریاتی محاذ ہے' فرقہ وارانہ سوچ سے نہ صرف عام شہری بلکہ پڑھا لکھا اور باشعور شہری بھی متاثر ہو جاتا ہے لہٰذا منافرت کے اس نظریے کو اتحاد اور اتفاق کے نظریے ہی سے شکست دی جا سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام سے ملاقاتیں کیں کیوں کہ علماء ہی وہ قوت ہیں جو فرقہ واریت کے نظریے کو شکست دے سکتے ہیں۔پاک فوج فاٹا اور ملک کے دیگر علاقوں میں دہشت گردوں کو شکست دے کر سیکیورٹی کی صورت حال کو بہتر بنا چکی ہے اور اس کی کوشش ہے کہ دہشت گردوں کو فاٹا کی صورت حال دوبارہ خراب کرنے میں کامیاب نہ ہونے دیا جائے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ایسے عناصر کی ایک تعداد موجود ہے جو معمولی واقعات کو بھی فرقہ واریت کا رنگ دینے کی کوشش کرتی ہے' ان کی اس سوچ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غیرملکی قوتیں بھی قوم کے درمیان تقسیم اور نفرت پیدا کرنے کے لیے متحرک ہو جاتی ہیں۔ وطن دشمن اور فرقہ وارانہ سوچ رکھنے والے یہ عناصر آج کل سوشل میڈیا کو بھی اپنے مذموم مقاصد کے فروغ کے لیے بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف بھرپور قوت سے کارروائی عمل میں لائی جائے۔ دشمن بخوبی جانتا ہے کہ دہشت گردی کے ذریعے ملک کو نقصان پہنچانے میں ناکامی کے بعد فرقہ واریت اور نسلی منافرت ہی وہ طاقتور ہتھیار ہے جس کے ذریعے وہ قوم کو تقسیم کر سکتا ہے اس کے لیے اس نے سوشل میڈیا سمیت مختلف ذرائع کے ذریعے گمراہ کن مہم شروع کر رکھی ہے۔ دشمن کی اس سازش کو سمجھنے کی ضرورت ہے' ملکی سلامتی اور بقا کے لیے ناگزیر ہے کہ ہم سب کو ایک دوسرے کی مذہبی اقدار کا مکمل احترام کرنا چاہیے۔

علمائے کرام' اساتذہ اور سیاسی جماعتوں کو ملکی سالمیت اور اتحاد کو نقصان پہنچانے والے فرقہ وارانہ عناصر کے خاتمے کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم پر متحرک ہونا ہو گا کیوں کہ قوم کا اتفاق اور اتحاد ہی وہ ہتھیار ہے جو وطن دشمن عناصر کو ناکوں چنے چبوا سکتا ہے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو نظریاتی محاذ پر شکست دینے کے لیے بھرپور مہم چلائے اور قوم کو اتحاد و اتفاق کا درس دینے والے علمائے کرام کی حوصلہ افزائی کی جائے۔