بارش سے تباہیوں کا ذمے دار کون

حادثات ہیں کہ جنھوں نے وطن عزیز کا در دیکھ لیا ہے اور ادارے ایک دوسرے پر الزام تراشی سے باز نہیں آرہے


Editorial July 02, 2017
حادثات ہیں کہ جنھوں نے وطن عزیز کا در دیکھ لیا ہے اور ادارے ایک دوسرے پر الزام تراشی سے باز نہیں آرہے ۔ فوٹو : فائل

MULTAN: پاکستان کے عوام وہ حرماں نصیب ہیں جن کیلیے برسات کا سہانا موسم بھی ہلاکت خیز ثابت ہوتا ہے، کسی مخصوص حکومت کا شکوہ کیا کریں کہ یہاں کسی بھی دور حکومت میں عوامی بہبود کیلیے سوچا ہی نہیں گیا، نہ تو انفرااسٹرکچر مضبوط کرنے کی منصوبہ بندی ہے، نہ ہی کوئی طویل المدتی منصوبہ زیر غور آیا کہ مستقل بنیادوں پر درپیش مسائل کا سدباب کیا جائے۔ عوام نالہ کناں ہیں، تباہی و ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن کہیں کوئی شنوائی نہیں۔ ملک میں حالیہ مون سون کی بارشوں سے ہونے والی تباہی کا سلسلہ تھما نہیں ہے،گزشتہ روز بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں طوفانی بارش نے تباہی مچادی، ندی نالوں میں طغیانی سے نشیبی علاقے زیر آب گئے، خواتین اور بچوں سمیت 12 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے جن میں سے 9 کی لاشیں نکال لی گئی ہیں، 20 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا۔ لاہور کے علاقے حویلی لکھا میں بوسیدہ مکان کی چھت گرنے سے دو بچیاں جاں بحق اور دو زخمی ہوگئیں جب کہ لوئر گلیات میں بھی چھت گرنے سے دو بچے جاں بحق ہوئے۔

حادثات ہیں کہ جنھوں نے وطن عزیز کا در دیکھ لیا ہے اور ادارے ایک دوسرے پر الزام تراشی سے باز نہیں آرہے، اپنی کوتاہیوں و غفلتوں کی دستار دوسروں کے سر باندھی جارہی ہے، کوئی بھی ذمے داری قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔ قدرتی آفات کو مورد الزام ٹھہرا کر ناگہانی اموات اور حادثات سے چشم پوشی کب تک برتی جائے گی؟ دکھ کی گھڑی میں ساتھ ہونے کے بوسیدہ روایتی بیانات اور انسانی جان کے عوض حقیر امداد کے اعلانات کب تک سراہے جائینگے؟ ذمے داران کیلیے اپنے فرائض کی انجام دہی لازم ہے ورنہ لاپرواہی و غفلت کے باعث حادثات یونہی جنم لیتے رہیں گے۔ شنید ہے کہ پاکستان میں آثار قدیمہ کی باقیات بھی شدید خطرے سے دوچار ہیں۔

بارشوں کے باعث موئن جو دڑو کے آثار کو شدید نقصان کا سامنا ہے۔ حکومتیں اپنی تفریح طبع کیلیے ان کھنڈرات میں میلوں، کھیل تماشوں کا انعقاد تو خوب کرتی ہیں لیکن ان آثار کی حفاظت پر کسی کا دھیان نہیں۔ ثقافتی ورثہ کسی بھی ریاست کی پہچان اور پوری دنیا میں اس کا تعارف ہوتا ہے، اقوام اپنی تہذیب و ثقافت کی حفاظت کیلیے باقاعدہ منصوبے مرتب کرتی ہیں لیکن ہمارے ملک کا باوا آدم ہی نرالا ہے، یہاں بجائے حفاظت کے خود اپنے ہاتھوں تباہی کی جانب پیش رفت کی جاتی ہے۔ ''وقت کرتا ہے پرورش برسوں... حادثہ ایک دم نہیں ہوتا''۔ آخر کب تک حادثات کا انتظار کیا جائے گا، پیشگی منصوبہ بندی کا فقدان کیوں ہے؟ پانی سر سے گزرنے کے بعد جاگنے کی روایت کا خاتمہ ہونا ازحد ضروری ہے۔ بارش متاثرین کے لواحقین اپنے پیاروں کی ہلاکتوں کا خون نادیدہ ہاتھوں پر تلاش کررہے ہیں، ذمے داران کا تعین ہونا ضروری ہے۔ جب تک ادارے اپنے فرائض سے غفلت برتتے رہیں گے حادثات کا سلسلہ تھم نہیں سکتا۔