چین و بھارت کے مابین بڑھتی کشید گی تشویشناک

بھارت اور چین کے مابین حالیہ دنوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے


Editorial July 02, 2017
بھارت اور چین کے مابین حالیہ دنوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے ۔ فوٹو : فائل

KARACHI: بھارت اور چین کے مابین حالیہ دنوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ چین اور بھارت نے شدید کشیدگی کی وجہ سے سکم سیکٹر میں سرحد پر ہزاروں فوجی تعینات کردی ہیں۔ بھارت اور چین میں کئی دہائیوں کی سب سے بڑی بدترین محاذ آرائی جاری ہے۔ بھارتی آرمی چیف بپن راوت کا سرحد کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لینا بھی معاملے کی سنگینی کو ظاہر کررہا ہے۔

یوں لگتا ہے کہ بھارت اپنے پڑوسیوں سے بیر رکھنے کے ازلی جذبے سے چھٹکارا حاصل نہ کرپایا ہے، پاکستان کے ساتھ سرحدی تنازعات اور بلااشتعال فائرنگ کے واقعات کے بعد اب بھارت کی چین کے ساتھ مخاصمت اس بات کا اعلان کررہی ہے کہ عاقبت نااندیش جنگ پسند بھارتی زعما وقت کے تقاضوں سے بے بہرہ ہیں، تنازعات کو مذاکرات کی میز پر حل کرنے اشتعال انگیزی بھارت کا پرانا وطیرہ ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے بھارتی فوج پر سکم سیکٹر میں دراندازی کا الزام لگاتے ہوئے ڈوکلام کے علاقے سے فوج واپس بلانے کا مطالبہ کیا ہے جب کہ بھارت نے چین کی جانب سے سرحد پر نئی سڑک کی تعمیر کی مذمت کرتے ہوئے اسے سیکیورٹی کیلیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

یہ سڑک ایک ایسے مقام پر تعمیر کی جارہی ہے جہاں چین، انڈیا اور بھوٹان کی سرحدیں ملتی ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انڈیا چین کے حالیہ اقدامات پر تشویش رکھتا ہے اور چینی حکام کو مطلع کرچکا ہے کہ سڑک کی تعمیر سے ملکی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہونگے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اس علاقے میں پہلے بھی دونوں ممالک کی فوجوں میں کشیدگی چلتی رہی ہے لیکن موجودہ محاذ آرائی انتہائی سنگین حد تک پہنچ چکی ہے جو کسی بھی وقت بڑی جھڑپ میں بدل سکتی ہے۔ بھارت و چین دونوں ہی خطے کے بڑے ممالک اور اقتصادی قوتیں ہیں، ان ریاستوں کو سمجھنا ہوگا کہ وقت کے تقاضے تبدیل ہوچکے ہیں، دو بڑی ریاستوں کے درمیان ہونے والی معمولی سی ''جنگ'' بھی پورے خطے کی تباہی کا باعث ہوگی لہٰذا اپنے باہمی تنازعات کا حل سرحدوں کی بجائے مذاکرات کی میز پر نکالنا ہی راست اقدام ہوگا۔