الیکشن اور آپریشن
غضب خدا کا ایک وزیراعظم توہین عدالت میں سزا پا جائے اور دوسرا تیار ہو۔ یہ بھی کوئی حکومت ہے۔
ان دنوں آنے والے مبینہ الیکشن نے لیڈروں کو سخت پریشان کر رکھا ہے۔ یہ لوگ اسمبلیوں کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے کیونکہ ان مچھلیوں کا تالاب صرف کسی اسمبلی کا ہال ہوتا ہے، اس سے باہر وہ تڑپتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود ایسی سوالیہ آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں کہ کیا الیکشن ہوں گے یا نہیں یہانتک کہ ایک کینیڈین نصف پاکستانی کی سرگرمیوں پر تو یہ شبہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ کسی ڈیوٹی پر ہیں اور الیکشن ملتوی یا سرے سے منسوخ کرانا چاہتے ہیں، اس کے لیے ان کے پاس ڈالروں کے بھرے ہوئے کنٹینر موجود ہیں لیکن ہمارے بعض سیاستدان دعویٰ کر رہے ہیں کہ الیکشن ملتوی کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہماری فوج بھی جو بوقت ضرورت قوم کو اپنی پوری طاقت کے ساتھ موجود ملتی ہے، ملک میں الیکشن چاہتی ہے۔
ہمارے سپہ سالار ذرا مختلف مزاج کے معلوم ہوتے ہیں، پریشان حال مظلوم عوام اور بعض بے سرو سامان لیڈروں کے مطالبوں کے باوجود وہ پانچواں مارشل لاء لگانا نہیں چاہتے اور فوج کی سپہ سالاری کو ہی کافی سمجھتے ہیں۔ اس لیے اگر حکومت بدنیت نہ ہوئی تو الیکشن ہونے کا امکان زیادہ ہے اور قوم کی دیرینہ اور قدیم بیماری کا شافی علاج الیکشن کے بغیر ممکن نہیں۔ ہمارے ہاں علاج کے دو طریقے مشہور اور مقبول ہیں، ایک یونانی طریقہ دوسرا ایلوپیتھی یعنی ڈاکٹری۔ یونانی طریقہ علاج سے مرض کا خاتمہ تاخیر سے ہوتا ہے لیکن وہ مریض کے اندر سے وہ تمام مادے اور جراثیم رفتہ رفتہ ختم کر دیتے ہیں جو کسی مرض کا باعث ہوتے ہیں جب کہ ڈاکٹری طریقے سے فوری علاج ہوتا ہے جس میں مریض کا آپریشن سرفہرست ہے۔
زود اثر ادویات کی وجہ سے عام بیماری میں بھی جلدی افاقہ ہوتا ہے لیکن ان دوائوں کے اپنے برے اثرات بھی ان کے ساتھ ہوتے ہیں جو بعض اوقات مزید کسی بیماری کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ بہر حال صبر آزما مگر مکمل علاج یونانی ہی ہے اور آپ الیکشن کو یونانی علاج ہی سمجھیں جو مرض کی جڑ ختم کرنے کی صلاحیت اور خاصیت رکھتا ہے۔ ہمارے جمہوری سیاستدان تھے نوابزادہ نصراللہ خان۔ جب کبھی جمہوری حکومت قائم ہوتی اور اس کی کارکردگی قابل اطمینان نہ ہوتی تو ہم لوگ نواب صاحب سے اس کا گلہ کرتے اور مارشل لاء کے عادی ہونے کی وجہ سے کسی تیز اور فوری عمل اور اثر والی حکومت کا مطالبہ کرتے لیکن نواب صاحب کا ایک ہی جواب ہوتا کہ جمہوری حکومت کا علاج بھی ایک اور جمہوری حکومت ہے، ایک اور الیکشن ہے تاآنکہ تلچھٹ چھٹ جائے اور اسمبلی میں ایک معقول تعداد اچھے لوگوں کی آ جائے۔ قابل اطمینان حکومت صرف ایک جمہوری ہی حکومت ہوتی ہے جس پر عوام کا دبائو رہتا ہے اور اسے عوام سے ہی رجوع کر کے اپنی نئی حکومت قائم کرنی ہوتی ہے۔
عوام کا ووٹ اس حکومت کا ستون ہوتا ہے جس کے سہارے اس کی عمارت کھڑی رہتی ہے، پھر یہ بات بھی ہے اور اس میں بڑا ہی حسن اور عوام کی عزت ہے کہ وہ اگر کسی جماعت کی حکومت سے مطمئن نہیں ہوتے تو نئے الیکشن میں اسے مسترد کر دیتے ہیں اور اس کی جگہ کسی دوسری جماعت اور لیڈر کو منتخب کر لیتے ہیں یعنی اصل اقتدار عوام کے پاس ہی ہوتا ہے۔ عوام اس تسلی اور امید کے ساتھ ہی مشکلات برداشت کرتے ہیں کہ وہ حکومت کو بدل سکتے ہیں چنانچہ نواب صاحب ہمارے سوال کے جواب میں بار بار یہی کہتے کہ اس کا علاج بھی ایک اور الیکشن ہے، ایک اور جمہوری حکومت ہے۔ یہ پرانا گرم و سرد چشیدہ اور باذوق سیاستدان جس نے متحدہ ہندوستان کی سیاست دیکھی تھی ہر بات کا جواب الیکشن میں دیتا تھا۔ عوامی مسائل کا پائیدار حل ان کی اپنی حکومت ہی ہے جو ان کے سامنے جواب دہ ہوتی ہے۔
نوابزادہ صاحب کی جمہوری باتیں اپنی جگہ ہمیشہ درست رہیں لیکن بعض اوقات مریض کو ایسا مرض بھی لاحق ہو سکتا ہے جو فوری علاج کا متقاضی ہوتا ہے، پھوڑے کو کاٹ دینا ہی علاج ہوتا ہے۔ اس کو رفتہ رفتہ ختم کرنا مریض کے لیے بہت صبر آزما ہوتا ہے۔ بعض حکومتیں قوموں کے لیے بھی ایسے امراض پیدا کر دیتی ہیں جو فوری علاج چاہتی ہیں۔ صبر آزما یونانی علاج تکلیف دہ ہوجاتا ہے۔ ہمارا آج کا پاکستان چار عدد مارشل لائوں اور چند اپنی میعاد پوری نہ کرسکنے والی حکومتوں کا ملک ہے، اس عرصہ میں سب کچھ ہوا لیکن جمہوری عمل ٹوٹ پھوٹ گیا اور پھر جب ایک ایسی منتخب حکومت آئی جو آج اپنی آئینی مدت پوری کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے تو اس نے اپنے پانچ برسوں میں ملک کو ناقابل علاج امراض لگا دیے جن میں اگر سب سے نمایاں مرض کا نام لیں تو وہ بدعنوانی اور کرپشن ہے جس نے ملک کے اندر ہی نہیں چار دانگ عالم میں پاکستان کو ایک تماشا بنا دیا ہے۔
اب تو ہمارے دشمن ہمیں کسی دھمکی کے قابل بھی نہیں سمجھتے صرف ہمارا مذاق اڑاتے ہیں کیونکہ ہم خود اپنا مذاق بن گئے ہیں اور یہ کارنامہ ہمارا اپنا ہے۔ ہم چند ایٹمی طاقتوں میں شمار ہونے کے باوجود اپنی کوئی حیثیت نہیں بنا سکے۔ میں اپنی قومی حالت کے بیان میں کسی تفصیل میں جائے بغیر کہ اس کی چنداں ضرورت بھی نہیں کہ سب کچھ ہمارا اپنا کیا دھرا ہے سب کچھ ہمارے سامنے ہے اور ہم پر بیت رہا ہے لیکن اس کا فوری علاج میرے خیال میں لازم ہے، تاخیر کی گنجائش نہیں۔ الیکشن سے پہلے آپریشن کے بغیر چارہ نہیں،گند بہت زیادہ پھیل گیا ہے، تن ہمہ داغدار شد والی بات ہے۔ فوج کی مرضی کے مطابق اور مرضی حاصل کر کے کسی مقررہ وقت کے لیے ایک صاف ستھری حکومت بنائی جائے جو کسی حد تک قومی وجود کو پھوڑوں پھنسیوں سے صاف کرے اور پھر قوم کو الیکشن کا موقع دے، تب تک بدنام اور غلط لوگ قومی زندگی میں موجود نہ ہوں یا بہت کم۔ غضب خدا کا ایک وزیراعظم توہین عدالت میں سزا پا جائے اور دوسرا تیار ہو۔ یہ بھی کوئی حکومت ہے، ایسی حکومت کے حامی دوسرے سیاستدان بھی برابر کے شریک اور حصہ دار ہیں۔
ہمارے دانشوروں کو سرگرمی کے ساتھ اس سوال پر غور کرنا ہو گا۔ یہ اٹھارہ کروڑ افراد کا ہی نہیں مسلمانوں کی تاریخ کا مسئلہ ہے۔ انسان کی مادی ترقی کے اس دور میں زندہ رہنے کا معاملہ ہے۔ تاریخ مٹتی ہوئی قوموں کی داستانوں سے بھری ہوئی ہے۔ رومی سلطنت پر جب یہ وقت آ گیا کہ اس کی اسمبلی (سینیٹ) کے امیدواروں نے اپنے ووٹروں کی برسرعام بولیاں لگا دیں تو اس سانحے کا ذکر کرتے ہوئے مورخ نے لکھا کہ یوں پھر رومی سلطنت ڈوب گئی۔ ہمارے ہاں صرف یہی نہیں اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے۔ ڈوبنے سے پہلے کچھ بوجھ اتار دیں۔