پاناما کیس کی تحقیقات اور سیاسی غیر یقینی

جب سے پاناما کیس کی تحقیقات ہو رہی ہیں اس وقت سے اسٹاک مارکیٹ منفی ردعمل ظاہر کررہی ہے


Editorial July 05, 2017
جب سے پاناما کیس کی تحقیقات ہو رہی ہیں اس وقت سے اسٹاک مارکیٹ منفی ردعمل ظاہر کررہی ہے ۔ فوٹو : فائل

پاناما کیس کی مزید تفتیش اور حکمران خاندان کے مالیاتی امور کے سلسلے میں ہونے والی تحقیقات کے حوالے سے قائم کی گئی جے آئی ٹی کی کارروائی جوں جوں آگے بڑھتی جا رہی ہے ملک کے سیاسی ماحول میں بے یقینی اور گرما گرمی کی کیفیت میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ایک جانب حکمران جماعت کی اہم شخصیات مسلسل جے آئی ٹی کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں تو دوسری جانب تحریک انصاف اور اپوزیشن جماعتیں بھی بھرپور جوابی ردعمل دے رہی ہیں۔

پیر کو وزیر خزانہ اسحاق ڈار جو پہلی مرتبہ بطور گواہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے' نے پیشی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے قائد عمران خان کے خلاف سخت لب و لہجہ اختیار کیا۔ وزیراعظم کے چھوٹے بیٹے حسن نواز جو تیسری مرتبہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے' نے بھی جے آئی ٹی کے حوالے سے اپنے تحفظات ظاہر کیے۔ اس پس منظر میں سیاسی تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ حکمران جماعت اور اپوزیشن کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف اختیار کیا گیا تلخ اور سخت رویہ اور جے آئی ٹی پر تحفظات جے آئی ٹی پر دباؤ کا محرک بن رہا ہے۔

جے آئی ٹی عدالت میں اپنی کیا رپورٹ پیش کرتی ہے اور عدالت اس کے بارے میں کیا فیصلہ سناتی ہے اس کے بارے میں فی الحال تو کچھ نہیں کہا جا سکتا مگر میڈیا پر بعض سیاستدانوں کی جانب سے حکمران جماعت پر کی جانے والی تنقید' جے آئی ٹی کی تحقیقات سے برآمد ہونے والے نتائج اور عدلیہ کے فیصلوں کے بارے میں جو پیش گوئیاں اور قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں اس سے ملک کی سیاسی فضا میں جو تلخی اور بے یقینی پیدا ہوئی ہے اس کے اثرات ملکی معاشی سرگرمیوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں' اسی صورت حال کا ماحصل ہے کہ سرمایہ کاروں نے مزید سرمایہ کاری سے ہاتھ روک لیا ہے جس کے منفی اثرات اسٹاک مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں،پیر کواسٹاک مارکیٹ بری طرح کریش کر گئی۔

جب سے پاناما کیس کی تحقیقات ہو رہی ہیں اس وقت سے اسٹاک مارکیٹ منفی ردعمل ظاہر کررہی ہے جس کی وجہ سے چھوٹے سرمایہ کار نقصان اٹھا رہے ہیں۔یہ سب کچھ ملک میں جاری سیاسی بے چینی اور غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ایک جانب جے آئی ٹی پاناما کیس کے حوالے سے اپنی تحقیقات کر رہی ہے تو دوسری جانب سیاستدان اور تجزیہ نگار میڈیا پر پاناما کیس لڑ رہے ہیں۔ اگر حکمران جماعت کو جے آئی ٹی کے حوالے سے تحفظات ہیں تو جے آئی ٹی بھی اپنی شکایات عدالت عظمیٰ تک پہنچا چکی ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ پاناما کیس کی تحقیقات قانون کی روشنی میں دیانتداری اور غیرجانبداری سے ہونی چاہیے اور اس سے کوئی ایسا تاثر نہیں دیا جانا چاہیے کہ ایک خاص جماعت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

حکمران جماعت کی شخصیات بار بار یہ تاثر دے رہی ہیں کہ وہ قانون کا مکمل احترام کرتے ہوئے جے آئی ٹی میں پیش ہو رہی ہیں' وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب خود بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو چکے ہیں، اب وزیراعظم نواز شریف کے بیٹوں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ ملک کا سیاسی اور جمہوری نظام مضبوط بنانے کے لیے ناگزیر ہے کہ احتساب کا عمل مسلسل جاری رکھا جائے لیکن سیاسی حلقوں کی یہ بات بھی صائب ہے کہ احتساب سب کا ہونا چاہیے تاکہ کوئی بھی خود کو آئین و قانون سے بالاتر نہ سمجھے۔

پاناما کیس کی تفتیش کے حوالے سے سیاستدانوں کو میڈیا پر آ کر ایسے بیانات اور پیش گوئیوں سے احتراز برتنا چاہیے جس سے ملک میں سیاسی عدم استحکام جنم لے۔ سیاسی عدم استحکام کے معاشی نظام پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور سیاسی بے یقینی کی فضا ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کو ایک دوسرے پر بے جا تنقید' الزام تراشیاں یا ایک دوسرے کے خلاف سخت لب و لہجہ اختیار کرنے سے اغماض برتنا چاہیے کیونکہ اس کے اثرات ملک کے سیاسی اور معاشی نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔

لہٰذا اس کیس کا فیصلہ آئینی و قانونی انداز ہی میں ہونا چاہیے اور جب تک اس کا فیصلہ سامنے نہیں آ جاتا سیاستدانوں کو بھی غیرآئینی اور غیر قانونی طریقوں اور انداز سے احتراز کرنا چاہیے۔حکمران جماعت اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کوئی ایسا تاثر نہیں دیا جانا چاہیے کہ جے آئی ٹی پر اثر انداز ہو کر تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔ قانون کو اپنا راستہ بنانے دیا جائے۔نظام اگر مضبوط ہو تو حکومتوں کی تبدیلیوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا اس لیے سب کی توجہ نظام کی مضبوطی پر رہنی چاہیے۔