حماس اور لشکرِ طیبہ میں کوئی فرق نہیں اسرائیل کا شرانگیز بیان

بھارتی وزیراعظم 3 روزہ دورے پر اسرائیل پہنچ گئے، تل ابیب ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال


News Agencies July 05, 2017
بھارت اور اسرائیل ہم خیال ممالک ہیں جنھیں مشترکہ جدوجہد کرنی ہوگی، اسرائیلی وزارت خارجہ۔ فوٹو: فائل

لاہور: اسرائیل نے پاکستان کے خلاف بھارت کی غیر مشروط اور مکمل مدد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس اور لشکر طیبہ میں کوئی فرق نہیں۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی گزشتہ روز 3روزہ دورے پر اسرائیل پہنچ گئے، اس موقع پر دونوں رہنما بغل گیر بھی ہوئے جبکہ بھارتی وزیراعظم مودی نے روایتی انداز میں نیتن یاہو کو پرنام بھی کیا۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی تل ابیب کے ہوائی اڈے پر اترے تو انکا استقبال اسی طرح ہوا جس طرح امریکا کے صدر کا کیا گیا تھا۔

اسرائیل پہنچنے کے بعد نریندر مودی نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ اسرائیل پہنچنے پر شاندار استقبال کرنے پر وزیراعظم نیتن یاہو کا شکرگزار ہوں، آج میں اسرائیل کے تاریخی دورے پر پہنچا ہوں جس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم اور مضبوط ہونگے۔

بھارتی وزیراعظم نے صہیونی وزیراعظم بنتن یاہوکے ساتھ ملاقات بھی کی جس میں دوطرفہ تعلقات اور مشرق وسطی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ نریندر مودی اسرائیل کا دورہ کرنے والے بھارت کے پہلے وزیر اعظم ہیں۔ مودی کے اس دورے کو اسرائیل میں تاریخی دورہ قرار دیا جا رہا ہے۔

دورے میں کئی دفاعی معاہدوں پر دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔ اسرائیل بھارت کو میزائل اور ڈرون طیارے سمیت دفاعی ساز و سامان فراہم کرنے والا اہم ملک ہے۔ گزشتہ5 برس میں اسرائیل نے ہر برس اوسطاً ایک ارب ڈالرز کے ہتھیار بھارت کو فروخت کیے ہیں۔ ہتھیاروں کی خرید دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کا سب سے اہم پہلو رہا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل، حالیہ برسوں میں امریکا کے بعد بھارت کو ہتھیار سپلائی کرنے والا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ اپنے اس3 روزہ دورے میں مودی فلسطینی علاقوں میں جائیں گے نہ ہی فلسطینی رہنماؤں سے ملیں گے تاہم مئی میں مودی نے نئی دہلی میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی تھی۔ اسرائیل اور بھارت کے درمیان سفارتی تعلقات کو 25 برس مکمل ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل مارک صوفر نے مقبوضہ بیت المقدس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور اسرائیل دونوں کو دہشت گردی کا سامنا ہے اور اسرائیل بھارت کو پاکستان سے درپیش دہشت گردی سے نمٹنے میں مکمل مدد دے گا۔

مارک صوفر نے کہا کہ اسرائیل نے کبھی اپنے عزائم نہیں چھپائے کہ وہ دہشت گردی سے نمٹنے کیلیے بھارت کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کرتا ہے، بھارت کو نہ صرف پاکستان بلکہ اندرون ملک بھی دہشت گردی کا سامنا ہے، جس کا حالیہ تاریخ میں مشاہدہ کیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ لشکر طیبہ ہو یا حماس دونوں میں کوئی فرق نہیں ، نہ ہم نے پہلے ان دونوں تنظیموں میں کوئی فرق کیا نہ آج کرتے ہیں۔

مقبول خبریں