نوجوان کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر ورثا کا مظاہرہ

پولیس پر ملزمان کی پشت پناہی کا الزام، مقدمہ واپس لینے کیلیے دھمکیاں دی جا رہی ہیں،جنت۔


Numainda Express February 05, 2013
شوہر کے تشدد سے نجات دلائی جائے، ریحانہ سراپا احتجاج، پریس کلب پر دیگر کے بھی مظاہرے فوٹو: فائل

حیدرآباد پریس کلب کے سامنے پیر کے روز بھی اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔

ٹنڈو میر محمد کے مکینوں نے نوجوان شبیر پرھیاڑ کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر پھلیلی پولیس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اوردھرنا دیا ، احتجاج میں شریک مقتول کی والدہ مسمات جنت پرھیاڑ نے بتایا کہ شبیر کوعلاقے کے بااثر افراد فیصل اور دانش کچھی نے 6 ماہ قبل بے دردی سے قتل کیا، جس مقدمہ تھانہ پھلیلی پردرج ہے لیکن پولیس نے تاحال ملزمان کو گرفتارنہیں کیا، ملزمان نہ صرف آزاد گھوم رہے ہیں بلکہ انہیں مقدمہ واپس نہ لینے پر سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔

انہوں نے پولیس حکام سے اپیل کی کہ ملزمان کو گرفتار کرکے ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔ تھارو شاہ کی رہائشی مسماۃ ریحانہ نے شوہر کے مظالم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا شوہردوسری شادی کی اجازت نہ دینے پراسے تشدد کانشانہ بنارہا ہے اور گھر سے نکالنے کی دھمکیاں دیتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے والدین کے گھررہائش پذیر ہے اور اسے اب شوہر کے ساتھ نہیں رہنا بلکہ طلاق دلائی جائے تاکہ وہ محفوظ زندگی گزارسکے۔ سندھ یونیورسٹی ملازمین کی حمایت میں پیپلز لیبر بیورو نے حیدرآبادپریس کلب کے سامنے چوتھے روز بھی تادم بھوک ہڑتال جاری رکھی ۔

جس دوران سید گمبل شاہ، بچل شورو،مرتضیٰ شاہ، گل حسن ودیگر نے مطالبہ کیا کہ سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور رجسٹرار کوفوری طو ر پر ہٹا کر گرفتار ملازمین کو آزاد کیا جائے۔ گوٹھ حاجی راضی تعلقہ ٹنڈوغلام حیدر کے رہائشیوں نے 5ایکڑ زرعی اراضی پرقبضے کے خلاف احتجاج کیا اور علامتی بھوک ہڑتال کی جس میں مریم، سکینہ، ثمینہ، حاجانی، علی غلام، علی مردان، علی اصغر، غلام حیدر، صدام حسین ودیگر نے حصہ لیا، بھوک ہڑتالیوں کا مطالبہ ہے کہ بااثر افراد اعجاز رند اور اس کے بیٹوں سے ان کی پانچ ایکڑ اراضی واپس دلائی جائے اوران کو گرفتارکرکے دیہاتیوں کوجانی ومالی تحفظ و انصاف فراہم کیا جائے۔

مقبول خبریں