جان مکین کی جارحانہ گفتگو

افغان صدر اشرف غنی نے امریکا کی نگرانی میں پاکستان کے ساتھ مشترکہ سرحدی کارروائیوں سے اتفاق کیا ہے


Editorial July 06, 2017
تاریخی عوامل اور ماضی کے دلدلی واقعات ، جاں سوز عناد اور لا حاصل بے اعتمادی کو ترک کرنے کا وقت آچکا ہے . فوٹو: وکی پیڈیا

امریکی سینیٹر جان مکین نے پاکستان کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو ہو سکتا ہے امریکا کو رویہ تبدیل کرنا پڑے' دہشت گرد تنظیموں کے خلاف تعاون کی بات پاکستان پر واضح کر دی ہے' امید ہے وہ حقانی نیٹ ورک اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف تعاون کرے گا۔ جان مکین کی سربراہی میں 5رکنی امریکی سینیٹرز کا وفد دورہ پاکستان کے دوران اعلیٰ قیادت سے ملاقاتوں کے بعد منگل کو کابل پہنچا جہاں جان مکین نے کہا کہ امریکا دہشت گردی بالخصوص حقانی نیٹ ورک کے خاتمے میں پاکستان کے اقدامات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ کابل میں جان مکین اور امریکی سینیٹر کے وفد سے ملاقات کے موقع پر افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ افغانستان امریکا کی نگرانی میں پاکستان کے ساتھ مشترکہ سرحدی کارروائیوں کی تجویز سے متفق ہے۔

گزشتہ دنوں ایسی خبریں منظرعام پر آئیں کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف سخت اقدام کرنے اور ڈرون حملوں کا دائرہ وسیع کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس پس منظر میں جان مکین کا دورہ پاکستان اور افغانستان خاص اہمیت کا حامل اور امریکی پالیسیوں میں واضح تبدیلی کا اشارہ ہے۔ امریکا نے واضح طور پر پاکستان کو دھمکی دے دی ہے کہ اگر اس نے حقانی نیٹ ورک اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی نہ کی تو پھر اس کے بارے میں امریکی پالیسی اور رویے میں تبدیلی آ سکتی ہے۔

تجزیہ نگار اس تبدیلی کے اشارے سے جو نتیجہ اخذ کر رہے ہیں اس سے واضح ہوتا ہے کہ امریکا پاکستان کے سرحدی علاقوں میں بڑے پیمانے پر کارروائی کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے اور اس سلسلے میں وہ اس سے کسی قسم کی رو رعایت برتنے کے لیے آمادہ نہیں۔ افغانستان کے حوالے سے پاکستان ایک عرصے سے داخلی اور خارجی سطح پر مشکلات کا شکار چلا آ رہا ہے' یہ حقیقت آشکار ہو چکی ہے کہ پاکستان میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کے ڈانڈے افغانستان میں جا ملتے ہیں، پاکستان تو دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کر رہا ہے، آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد اس کی واضح مثالیں ہیں لیکن افغانستان اپنے ہاں دہشت گردوں کے خلاف کوئی بڑی کارروائی نہیں کر سکا اور اگر وہاں کوئی دہشت گردی کا واقعہ رونما ہو جائے تو وہ اپنی ناکامی تسلیم کرنے کے بجائے اس کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے میں دیر نہیں لگاتا۔ افغانستان سے دہشت گرد سرحد پار کر کے پاکستان میں اپنی مذموم کارروائیاں کرتے اور امن و امان کے مسائل پیدا کرتے ہیں' پاکستان نے بارہا افغان حکومت سے اس مسئلے کو کنٹرول کرنے کا مطالبہ کیا لیکن افغان حکومت نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی' اس جنگ میں اس نے جتنے بڑے پیمانے پر قربانیاں دی ہیں اس کا اعتراف امریکا بارہا کر چکا ہے' اب پاکستان افغانستان سے متصل اپنی سرحد محفوظ بنانے کے لیے وہاں باڑ لگا رہا ہے۔

پاکستان سے فرار ہونے والے دہشت گرد جن میں فضل اللہ بھی شامل ہے افغانستان کو اپنی پناہ گاہ بنائے ہوئے ہیں، پاکستان نے ان کی حوالگی کے لیے افغان حکومت سے متعدد بار کہا لیکن افغان حکومت اس جانب کارروائی کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہو رہی۔ افغانستان کے اندر امن و امان کی صورت حال انتہائی پیچیدہ ہے وہاں برسرپیکار جنگجو امریکا اور افغان حکومت کے لیے مسلسل چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ افغانستان میں امریکا تمام تر وسائل کے باوجود ان جنگجوؤں پر قابو پانے میں ناکام ہو چکا ہے اور اپنی اس ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے وہ اب پاکستان پر دباؤ بڑھا رہا ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے۔

افغان صدر اشرف غنی نے امریکا کی نگرانی میں پاکستان کے ساتھ مشترکہ سرحدی کارروائیوں سے اتفاق کیا ہے جب کہ پاکستان اسے یہ پیشکش کافی عرصہ پیشتر ہی کر چکا ہے۔ افغان صدر اشرف غنی نے جان مکین سے کہا کہ افغانستان نے تجارت اور ٹرانزٹ کے لنکس کو مختلف النوع بنا دیا ہے اس لیے اب اس کا پاکستان پر مزید انحصار نہیں رہا۔ اشرف غنی کے اس جملے سے پاکستان کے خلاف تعصب کی بو آتی ہے جب تک افغان حکومت پاکستان کے بارے میں اپنے معاندانہ رویے میں تبدیلی نہیں لاتی تب تک خطے میں صورت حال بہتر نہیں ہو گی۔ امریکا اور افغانستان کو پاکستان کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کرنی چاہیے جس سے دہشت گردی کے خلاف آپریشن کو مہمیز ملے گی۔ اگر امریکا نے ازخود سرحدی علاقوں میں کوئی کارروائی کرنے کی کوشش کی تو اس سے پاکستان کے لیے بہت سے مسائل پیدا ہو جائیں گے۔