سپریم کورٹ صفائی کا حکم خوش آئند

فاضل جج کے ریمارکس حقیقت حال کا عکاس ہیں کہ شہر کا برا حال ہے


Editorial July 06, 2017
فاضل جج کے ریمارکس حقیقت حال کا عکاس ہیں کہ شہر کا برا حال ہے . فوٹو: فائل

بارش کے بعد صفائی ستھرائی کی بدترین صورتحال پر سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس گلزار احمد پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے انتظامیہ کو شہر کی فوری صفائی کا صائب حکم دیا ہے جو کئی تناظر میں خوش آیند ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ شہر قائد کو ایک عرصہ سے صفائی ستھرائی کی ناقص صورتحال کے ساتھ انفرااسٹرکچر کی بدحالی کا سامنا ہے، شہری و صوبائی انتظامیہ کی جانب سے چشم پوشی نے مسائل کو گنجلک بنادیا ہے۔ جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر، غلاظتوں اور ابلتے گٹروں کا علاج کوئی بھی حکومت نہ نکال سکی۔

موجودہ وزیراعلیٰ سندھ نے اپنی وزارت سنبھالنے کے بعد پہلا اعلان شہر قائد کی صفائی کا ہی کیا تھا لیکن وہ بھی ''ناکام'' رہے، علاوہ ازیں میئر کراچی کی سو روزہ صفائی مہم بھی شہر کی حالت نہ سدھار سکی۔ شہری فنڈز کی کمی اور اختیارات کی جنگ کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ صفائی کی یہ بدتر صورتحال ایک شہر میں نہیں بلکہ پورے ملک کا ایک جیسا حال ہے۔ بعد از برسات تو اس صورتحال میں مزید خرابی کا سامنا ہے۔ پوری پوری بستیاں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں، لوگ گھروں سے نہیں نکل پارہے ہیں، کچرے کے ڈھیر بارش کے پانی کے ساتھ مین شاہراہوں پر تیر رہے ہیں۔ نئی بننے والی سڑکیں ایک بارش میں ہی جگہ جگہ سے ٹوٹ گئی ہیں۔ عوام دادرسی کے لیے حکومت اور اعلیٰ اداروں کی جانب دیکھ رہے ہیں۔

فاضل جج کے ریمارکس حقیقت حال کا عکاس ہیں کہ شہر کا برا حال ہے اور افسران اونچی اونچی عمارتوں میں بیٹھے ہیں۔ اور یہی مظہر تو خرابی کا باعث ہے کہ ادارے اپنے فرائض بخوبی انجام نہیں دے رہے۔ فاضل جج کا کہنا صائب ہے کہ کچھ بھی ٹھیک نہیں، حکومت کا کام عدالتوں کو کرنا پڑ رہا ہے۔ عدالت عظمیٰ کی برہمی صرف منی پاکستان کے لیے نہیں ہے بلکہ ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں صفائی ستھرائی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے موثر میکنزم کی ضرورت کا احساس ہونے سے مشروط ہے۔

شہروں میں غلاظت، کچرے کے ڈھیر، ٹریفک اور ٹرانسپورٹ کے ناقص سسٹم مقامی حکومت کی روبہ زوال کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہوتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ چاروں صوبائی حکومتوں میں شہروں اور دیہات کے مصروف بازاروں اور رہائشی علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور صفائی کے بہتر انتظامات کو ہر ممکن طریقے سے یقینی بنایا جائے۔ سپریم کورٹ کا صفائی کا حکم قابل ستائش ہے، ادارے اپنے فرائض خود سرانجام دیں تو اعلیٰ عدالتوں کو مداخلت نہ کرنی پڑے۔