تحقیق و انکشافات۔ ہم کہاں کھڑے ہیں

دنیا کے ترقی یافتہ بلکہ بعض ترقی پذیر ملکوں میں بھی سائنس خلائی سائنس وغیرہ حکومتوں کی ترجیحات میں شامل ہیں


Zaheer Akhter Bedari July 06, 2017
[email protected]

ISLAMABAD: ہمارا میڈیا اعلیٰ خاندانوں کی کرپشن کی خبروں سے بھرا رہتا ہے۔ بڑی بڑی شہ سرخیاں کرپشن کی ان ہی داستانوں سے بھری رہی ہیں لیکن ہماری نظر سائنس ٹیکنالوجی اور تحقیق پر مبنی ایسی خبروں پر مرتکز رہتی ہے، خواہ وہ دو تین سطری ہی کیوں نہ ہوں لیکن سائنس ٹیکنالوجی اور تحقیق وانکشافات پر مبنی ہوں۔ ایکسپریس میں ایک دو نہیں بلکہ تین خبریں ایسی نظر آئیں جن کا تعلق سائنسی علوم اور تحقیق سے ہے۔

ایک خبر کے مطابق جامعہ کراچی کے بین الاقوامی مرکز برائے کیمیاوی و حیاتیاتی علوم اور چین کے صوبے حنان کے لیانگ میں قومی معاشی و تکنیکی ڈیولپمنٹ کے درمیان ایک مفاہمتی یاد داشت پر دستخط ہوئے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان اور چین کے یہ دونوں ادارے ادویات اور صحت بخش قدرتی غذا کے شعبوں میں مشترکہ طور پر تحقیق اور ترقی پر کام کریں گے۔

معاہدے کے مطابق جامع کراچی کے مرکز اور چینی ادارے کے درمیان سائنس دانوں اور ٹیکنیشنز کا باہمی تبادلہ بھی ہوگا تاکہ ماہرین کو سائنسی تربیتی اور تحقیقی مواقعے فراہم ہوسکیں۔ دونوں تعلیمی اور تحقیقی ادارے ہر سال متعلقہ موضوعات پر مشترکہ ورکشاپس کا انعقاد کرسکیں۔ آف سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری اور این آئی ٹی ڈی زیڈ ایل وائی کے چیئرمین گویولیفو نے یاد داشت پر دستخط کیے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہاکہ اس معاہدے سے پاکستان اور چین کے درمیان ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں مشترکہ پروگراموں میں مزید اضافہ ہوگا اور تحقیق اور انکشافات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

ایکسپریس ہی کی ایک دوسری خبر کے مطابق برصغیر کے نامور مفکر سر سید احمد خان کے دو سو سالہ جشن ولادت کے سلسلے میں سر سید یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبے بائیو میڈیکل انجینئرنگ اینڈ میڈیکل سائنسز پر پہلی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا جارہاہے جو ایک میگا ایونٹ ہوگا۔ یہ دو روزہ کانفرنس بائیو میڈیکل انجینئرنگ اور میڈیکل سائنسزمیں ہونے والی نئی دریافت، تحقیق و معلومات میں اضافہ کرے گی۔ کانفرنس میں شعبہ تعلیم، صحت اور تحقیقی اداروں سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت رکھنے والے اسکالرز لیکچر دیں گے۔ اس کے علاوہ امریکا، سویڈن، کینیڈا، جرمنی، جنوبی کوریا، ملائیشیا، سعودی عرب، آئی لینڈ اور فن لینڈ و برطانیہ کے درجن بھر سائنس دان اس کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

تیسری خبر کے مطابق فیکلٹی آف سائنسز کے ڈین ڈاکٹر کامران نے کہاکہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران برپا ہونے والا سبز انقلاب پوسٹ ڈی این اے ٹیکنالوجی کا دور تھا جس نے ہماری سائنسی ضروریات کو پورا کیا لیکن اب زمانہ تبدیل ہوچکا ہے جس میں ہمیں تربیت یافتہ افرادی قوت کی شدید ضرورت ہے۔ انھوں نے کہاکہ آج کا دور مختلف مضامین کا ایک دوسرے کے ساتھ ضم ہونے کا دور ہے۔ نئی ایجادات ہی ہمارا اہم مسئلہ نہیں بلکہ ان کو ہماری ضروریات قابل استعمال بنانا ہمارے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے جو ہمیں انجینئرنگ، کمپیوٹنگ، زراعت اور دوسرے شعبوں میں درپیش ہے۔ ترقی یافتہ دنیا میں اس قسم کی خبروں کی اہمیت نہیں لیکن پاکستان جیسے سائنس ٹیکنالوجی اور تحقیق کے حوالے سے انتہائی پسماندہ ملک میں ایسی خبروں کی اہمیت اس لیے ہے کہ 70 سال سے ان شعبوں میں الو بول رہا ہے۔

ہماری حکومتوں کی ترجیحات میں سائنس اور ٹیکنالوجی تحقیق اور انکشافات شامل نہیں ان کی اولین ترجیح کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کرنا ہے۔ آج ہمارا سارا میڈیا حکمرانوں کی کھربوں روپوں کی بالواسطہ یا بلا واسطہ کرپشن کی داستانوں سے بھرا ہوا ہے۔ جن ملکوں کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کی اولین ترجیح کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنا ہو ان ملکوں کے حکمرانوں کی ترجیحات میں سائنس ٹیکنالوجی اور تحقیق کس طرح اولین ترجیح ہوسکتا ہے۔

دنیا کے ترقی یافتہ بلکہ بعض ترقی پذیر ملکوں میں بھی سائنس خلائی سائنس وغیرہ حکومتوں کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ ہمارا کرۂ ارض روز بروز بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سمندروں کی سطح میں خطرناک حد تک اضافے کی وجہ سے کرۂ ارض کو لاحق خطرات کے پیش نظر مریخ پر انسانی بستیاں بسانے کے پروگراموں پر عمل در آمد میں مصروف ہیں۔ ناسا کی ایک دریافت کے مطابق خلائے سطح میں ایک ایسا سیارچہ دریافت ہوا ہے جو سارے کا سہارا سونے اور پلاٹینم کا بنا ہوا ہے۔ خلائی اسٹیشن میں برسوں سے موجود خلا نورد خلائی تحقیق میں مصروف ہیں اور اس بات کی تحقیق کررہے ہیں کہ کیا خلا میں انسانی بستیاں بسائی جاسکتی ہیں اور ہمارے ملک کی ترقی یا خلائی ترقی میں چاند دیکھنا سب سے بڑی خلائی ترقی ہے جس ملک کے 90 فی صد عوام کو خلا کا مطلب ہی نہیں معلوم اس ملک کا حکمران طبقہ سائنس ٹیکنالوجی، آئی ٹی اور خلائی سائنس سے کیا دلچسپی لے سکتا ہے جو تھوڑا بہت کام ہورہاہے وہ اداروں کا مرہون منت ہے۔

مقبول خبریں