کراچی سمیت ملک بھر میں شدید بارشیں اور برفباری 15افراد جاں بحق

زیادہ تر ہلاکتیں چھتیں اور تودے گرنے سے ہوئیں، مختلف شہروں میں معمولات زندگی معطل، مزید برسات اور برفباری کی پیشنگوئی


کراچی میں بارش کے بعد ایک سڑک پر پانی جمع ہے جس کی وجہ سے آمدورفت میں خلل پیدا ہورہا ہے۔ فوٹو : ایکسپریس

ملک بھرمیں 36 گھنٹے سے جاری بارش اور بالائی علاقوں میںبرفباری اور تودے گرنے سے تباہی مچ گئی۔

چھتیں دیوار گرنے اور ٹریفک حادثات میں خاتون سمیت15افراد جاں بحق30زخمی ہوگئے پاک افغان بارڈر بن شاہی سروگلونوسر دیر بالا میں برفانی تودہ گرنے سے سکیورٹی فورسز کے 3اہلکار دب گئے جنہیں بچانے کیلئے فورسز کا ریسکیو آپریشن آخری اطلاعات تک جاری ہے،بارش ،برفباری اور تودے گرنے سے درجنوں گھروں کی چھتیں ،دیواریںمنہدم ہوگئیں جبکہ نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔پشاور میں بارش سے متعدد گھر منہدم ہوگئے جس سے 17سالہ نوجوان جاں بحق،8 افراد شدید زخمی ہوگئے۔ ندی 'نالوں میں شدید طغیانی کے باعث پیربابا مردان' ڈگر مینگورہ اور پیربابا جوڑ روڈ بند ہونے کے سبب دیگر علاقوں کا ملک کے دیگر حصوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ۔نوشہرہ میں دوروز سے جاری شدید بارش سے متعدد علاقے زیرآب آگئے۔

شدید بارش سے ندی نالوں اور نہروں میں طغیانی سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا،دریائے کابل میں بھی پانی کی سطح بلند ہوگئی۔محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران خیبرپختونخوا میں مزید بارش جبکہ بالائی علاقوں میں برفباری کی پیشن گوئی کی ہے،ہفتہ کے روز شروع ہونیوالی بارش کا سلسلہ مسلسل پیر کو بھی جاری رہا اور منگل کے روز بھی بارش کا امکان ہے۔بالائی علاقوں میں موجود لوگ راستے بند ہونے سے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں اور علاقوں میں بجلی،ٹیلی فون اور دیگر ضروریاتی زندگی کا نظام فیل ہونے سے شدید مشکلات سے دوچار ہیں ۔باجوڑایجنسی میں بارشوں اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے،برفباری سے متاثرہ علاقوں میں بجلی بند ہے،بجلی بندش سے پانی کی شدید قلت ہے۔

کراچی کے مختلف علاقوں میں اتوار کی رات سے ہلکی، معتدل اور تیز بارش کا سلسلہ شروع ہوا جو پیر کی رات تک جاری رہا، بارش کے بعد موسم خوشگوار ہوگیا تاہم سردی کی شدت بڑھ گئی۔اہم شاہراہوں، مارکیٹوں اور نشیبی مقامات پر پانی جمع ہوگیا۔ مختلف علاقوں میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا،گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، ٹریفک پولیس غائب ہوگئی۔ محکمہ موسمیات کی پیشن گوئی کے مطابق شمال مغرب سے آنے والی سرد ہوائوں کے باعث کراچی میں منگل سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگا ، سردی کی لہر آئندہ چند روز تک جاری رہے گی۔کراچی میں بارش کی سلسلہ اتوار کی رات ایک بجے شروع ہوا جو وقفے وقفے سے پیر کی شام تک جاری رہا، برساتی نالوں کی صفائی نہ ہونے کے باعث اہم شاہراہوں، مارکیٹوں اور نشیبی مقامات پر بارش کا پانی جمع ہوگیا جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

کراچی میں سب سے زیادہ بارش لانڈھی میں21ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، صدر میں13ملی میٹر، یونیورسٹی روڈ پر9.2، نارتھ کراچی میں7.4 ، ناظم آباد میں5ملی میٹر ،پی اے ایف فیصل بیس پر7 ، پی اے ایف مسروربیس پر4ملی میٹراور کراچی ایئر پورٹ پر 5.2 ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی۔ چیف میٹرولوجسٹ توصیف عالم نے بتایا کہ کراچی میں بارش برسانے والا سسٹم بتدریج کمزور ہورہا ہے اور توقع ہے کہ آئندہ 24گھنٹوں کے دوران یہ سسٹم آگے بڑھ جائے گا تاہم منگل کو موسم ابرآلود اور کہیں کہیں بونداباندی کا امکان ہے، انھوں نے کہا کہ سرد ہوائیں بلوچستان میں داخل ہوچکی ہیں جس کے اثرات کراچی سمیت سندھ کے مختلف اضلاع میں بھی رونما ہورہے ہیں، انھوں نے کہاکہ آئندہ 24گھنٹوں میں کراچی میں سردی کی شدت میں اضافے کا امکان ہے اور درجہ حرارت 2سے 4 ڈگری کم ہونے کی توقع ہے، محکمہ موسمیات کے مطابق پیر کو کم سے کم درجہ حرارت17.5ڈگری سینٹی گریڈ رہا جبکہ زیادہ سے زیادہ24ڈگری رہا، منگل کو درجہ حرارت 13سے 15ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔

دریں اثناپیر کو بارش کے دوران بدترین ٹریفک جام ہوگیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں ،بارش شروع ہوتے ہی سڑکوں سے ٹریفک پولیس غائب ہوگئی شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ٹریفک کنٹرول کیا جس کے باعث منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوا ، شام کو دفاتر سے گھروں کو واپس جانے والے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔نیٹی جیٹی پل ، مائی کلاچی روڈ ، بوٹ بیسن ، کلفٹن ، پنجاب چورنگی ، ڈیفنس ، کورنگی روڈ ، ایکسپریس وے ، ٹاور ، ایم اے جناح روڈ ، ڈینسو ہال ، جامع کلاتھ مارکیٹ ، صدر ، ایمپریس مارکیٹ ، نمائش چورنگی ، نیو پریڈی اسٹریٹ ، لیاقت آباد ، تین ہٹی کریم آباد ، عائشہ منزل ، سہراب گوٹھ ، پی آئی ڈی سی چوک ، شارع فیصل ، کارساز ، ایئرپورٹ ، ملیر اور دیگر علاقوں میں ٹریفک جام دیکھنے میں آیا، ٹریفک جام میں ایمبولینسیں بھی پھنسی رہیں ، ٹریفک جام کے باعث متعدد گاڑیوں میں ایندھن بھی ختم ہوگیا۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ٹریفک پولیس میں اہل اور شہریوں کا درد رکھنے والے افسران تعینات کیے جائیں تاکہ شہریوں کو ٹریفک جام کی صورتحال سے چھٹکارا حاصل ہوسکے ۔