گورنرز کی موجودگی میں شفاف الیکشن مشکل ہےمشاہداللہ

ن لیگ نے پنجاب میں جو لوٹ مچائی ہوئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی،مہرین انورراجہ


Monitoring Desk February 05, 2013
بس سروس الیکشن مہم ہے،پیپلزپارٹی نے کچھ نہیںچھوڑا،:فوزیہ قصوری’کل تک‘میں گفتگو فوٹو: فائل

پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ جمہوریت میں جمہوری طریقہ یہی ہے کہ پرامن احتجاج کرکے اپنا موقف بیان کیا جائے اور اسلام آباد میں احتجاج بھی اسی کا تسلسل تھا۔

دھرنے کا مقصد کراچی میں نئی حلقہ بندیاں کرانا اور غلط ووٹوں کے اندراج کی درستگی تھا۔ایکسپریس نیوزکے پروگرام''کل تک ''میں میزبان جاوید چوہدری سے گفتگو میں مشاہد اللہ خان نے کہاکہ طاہر القادری موجودہ الیکشن میں اسٹیک ہولڈر نہیں ہیں، پتہ نہیں کس کے ایجنڈے پر ڈرامہ کررہے ہیں۔ ان سے پوچھنا چاہئے کہ انہوں نے کس طرح سے فوج پر مارشل لا لگانے کا الزام عائد کیا ہے ۔گورنرز کی موجودگی میں الیکشن کا شفاف ہونا مشکل ہے کیونکہ گورنر کو صدر نامزد کرتا ہے اور صدر خود ایک سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔آصف علی زرداری کو بینظیر بھٹو نے کبھی سیاست میں شامل نہیں کیا تھا ۔

موجودہ حکومت پیپلزپارٹی نہیں چوروں اور کرپٹ لوگوں کا ٹولہ ہے جو بس مال کھا رہا ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما مہرین انورراجہ نے کہاکہ اس موقع پر الیکشن کمشن پر اعتراضات اٹھانا مناسب نہیں ہے الیکشن وقت پر ہی ہوں گے اور اس سلسلے میں حکومت سنجیدہ ہے۔تحریک انصاف اگر اہل ہے تو الیکشن میں ووٹ لے اور پارلیمنٹ میں آجائے مگر الزامات نہیں لگانے چاہئیں۔

اگر گورنر تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو سب سیاسی جماعتوں کے سربراہ مل کر بیٹھ جائیںاور گورنر تبدیل کرنے کے حوالے سے فیصلہ کرلیں۔ن لیگ نے پنجاب میں جو لٹ مچائی ہوئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی ۔تحریک انصاف کی رہنما فوزیہ قصوری نے کہاکہ تحریک انصاف نے کبھی نہیں کہا تھا کہ وہ اسلام آباد کے دھرنے میں شامل ہوں گے۔لاہورمیں بس سروس کا مقصد الیکشن مہم ہے پیپلزپارٹی تو ہے ہی کرپٹ حکومت جس نے کسی کیلیے کچھ چھوڑا ہی نہیں ۔