نصر میزائل کا تجربہ اور کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن

بھارت کے عسکری ماہرین نے کولڈ اسٹارٹ کے نام سے ایک ڈاکٹرائن تیار کیا تھا۔


Editorial July 07, 2017
یہ میزائل نہایت جدید ترین گائیڈڈ سسٹم رکھتا اور اپنے ہدف کو درست نشانہ لگانے کے ساتھ فوری نصب کیا جا سکتا ہےَ فوٹو: اے ایف پی

پاکستان نے بدھ کو بیلسٹک میزائل نصر کا کامیاب تجربہ کیا، زمین سے زمین پر مار کرنے والا یہ میزائل 60 سے 70کلو میٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس میزائل کی لانچنگ کا مشاہدہ کیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نصر میزائل نے بھارت کے جنگی نظریے کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن پر پانی پھیر دیا' کسی کو بھی یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ جنگ بھی کوئی آپشن ہے، ہماری دفاعی صلاحیت کا واحد مطلب یہ ہے کہ کوئی ہم سے جنگ کا خیال بھی دل میں نہ لائے، پاکستان کی دفاعی تیاریاں جارح ہمسایہ ممالک کے درمیان امن کی ضمانت ہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے آرمی اسٹرٹیجک فورس کی آپریشنل تیاریوں کو سراہتے ہوئے جوہری اثاثوں کے موثر کمان اینڈ کنٹرول پر اطمینان کا اظہار کیا۔ صدر مملکت، وزیر اعظم، آرمی چیف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، ائر چیف اور نیول چیف نے کامیاب میزائل تجربے پر سائنس دانوں اور انجینئرز کو مبارک باد دی۔

بھارت کے عسکری ماہرین نے کولڈ اسٹارٹ کے نام سے ایک ڈاکٹرائن تیار کیا تھا جس کے مطابق پاکستان پر 24گھنٹے میں اچانک اور خوفناک حملہ کی صلاحیت حاصل کی جائے' یہ حملہ زمینی اور فضائی ہو گا' بھارتی فوج پاکستانی فوج کے سنبھلنے' جوہری ہتھیار باہر نکالنے' عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے رابطے سے پہلے اپنا آپریشن کر کے واپس چلی جائے گی تاکہ جب پاکستان حملے کے لیے تیار ہو تو تب تک وہ اپنا مقصد حاصل کر چکا ہو۔ بھارت نے کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن پر عمل کرتے ہوئے 2011 میں پچاس ہزار فوجی پاکستانی سرحد پر جمع کیے اور باقاعدہ مشقیں کیں۔

2001ء میں بھارت نے پاکستانی سرحد کے ساتھ فوجیں اکٹھی کرنا شروع کیں جس میں اسے ایک ماہ لگ گیا اس دوران پاکستان بھی متحرک ہو گیا اور اس نے بھارت کو اس جارحیت سے روکنے کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر تمام انتظامات مکمل کیے جس کے باعث بھارت عالمی دباؤ کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو گیا اور اسے اپنی فوجیں پیچھے ہٹانا پڑیں۔ لہٰذا اس نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن تیار کیا۔

بھارت ایک عرصے سے پورے خطے میں بڑی قوت بننے کا خواب دیکھ رہا ہے جسے شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے وہ بڑی سرعت سے جوہری اور روایتی ہتھیاروں کے انبار لگا رہا ہے اور آئے دن میزائلوں کے تجربات کرتا رہتا ہے' وہ اپنی جوہری صلاحیت میں اضافے کے لیے باقاعدہ جوہری شہر آباد کر رہا ہے۔ وہ پاکستان سے پہلے بھی تین جنگیں لڑ چکا ہے لیکن وہ اس پر قبضے کا خواب پورا نہیں کر سکا۔ اب وہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہا ہے۔

سرحدوں پر آئے دن ہونے والی گولہ باری' فائرنگ کے علاوہ اس نے پاکستان کے اندر جاسوسی کا نیٹ ورک پھیلا رکھا ہے' کلبھوشن یادیو اس کی زندہ مثال ہے' جاسوسی کا یہ نیٹ ورک پاکستان میں دہشت گردوں اور علیحدگی پسند عناصر کی حمایت کر رہا ہے۔ بھارت نے افغانستان سے بھی گٹھ جوڑ کر لیا ہے تاکہ پاکستان کو شمال مغربی سرحد پر بھی مصروف رکھا جاسکے۔

پاکستان بھارت کے ان مذموم عزائم سے بخوبی آگاہ ہے اور امریکا کے ساتھ ہونے والے اس کے دفاعی معاہدوں' افغانستان کے ساتھ گٹھ جوڑ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے' یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیت میں بھرپور اضافہ کر رہا ہے تاکہ بھارت کو اس کے مذموم عزائم کی تکمیل سے روکا جا سکے۔

اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ طاقت ہمیشہ امن کی ضمانت اور کمزوری جارح کو حملے کی دعوت دیتی ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نصر میزائل کے تجربے کے موقع پر بالکل صائب کہا کہ دفاعی تیاریاں جارح ہمسایہ ممالک کے درمیان امن کی ضمانت ہیں۔ انھوں نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے اس پر واضح کر دیا کہ نصر میزائل نے بھارت کے جنگی نظریے کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن پر پانی پھیر دیا۔

یہ میزائل نہایت جدید ترین گائیڈڈ سسٹم رکھتا اور اپنے ہدف کو درست نشانہ لگانے کے ساتھ فوری نصب کیا جا سکتا ہے' یہ اینٹی ڈیفنس میزائل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اس کا نشانہ 100فیصد سے بھی زیادہ درست ہے اس لیے اس کی تباہ کن صلاحیت بہت زیادہ ہے۔ بھارت امریکا اور افغانستان کے گٹھ جوڑ سے مجبور ہو کر اپنی سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان جدید ہتھیار بنا رہا ہے جس کا مقصد کسی دوسرے ملک کے خلاف جارحیت نہیں بلکہ اپنا دفاع مضبوط بنانا اور سلامتی کو برقرار رکھنا ہے۔