7 ہزار مزید فوج افغانستان جائے گی
مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی انسانیت کے خلاف ایک بد ترین جرم ہے لیکن ان طاقتوں کی سرپرستی کون کر رہے ہیں
امریکا نے افغانستان میں مزید چار ہزار امریکی فوج بھیجنے کا اعلان کیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ امریکا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد سینٹو نے بھی اپنے 3 ہزار فوجی افغانستان بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکا سینٹو سمیت اپنے مغربی اتحادیوں کے ساتھ ایک عشرے سے زیادہ عرصے تک افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتا رہا۔ لاکھوں افغانیوں کی جانوں کے ساتھ خود امریکا اور اس کے اتحادیوں کو اپنے ہزاروں فوجیوں کے جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور یہ ناقابل بیان نقصان محض اس لیے ہوا کہ امریکی سابق صدر بش نے 9/11 کے حملوں کو امریکا کی توہین سمجھا اور اس توہین کا بدلہ لینے کے لیے افغانستان پر اپنے اور اپنے اتحادیوں کے لشکر قہار کے ساتھ چڑھ دوڑے۔ پاکستان جیسے پسماندہ اور کمزور ملک کو بلیک میل کرکے اس جنگ میں نہ صرف گھسیٹا بلکہ فرنٹ لائن اسٹیٹ کی پوزیشن پر لاکھڑا کیا گیا پاکستان کو اس کی سزا 70 ہزار بے گناہ پاکستانیوں کے بے رحمانہ قتل اور اربوں ڈالر کے نقصان کی شکل میں ملی۔ نتیجہ شکست کی شکل میں سامنے آیا۔
افغانستان میں ہونے والی جنگ کو اب پراکسی وار کہا جا رہا ہے، امریکا اور اس کے اتحادی جن میں بھارت سرفہرست ہے افغانستان کی جنگ کو پاکستان کی سرپرستی میں لڑی جانے والی جنگ قرار دے رہے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ امریکا میں اس حوالے سے پاکستان پر الزامات کی بھرمار کی گئی اور کہا گیا کہ پاکستان افغان طالبان کی حمایت سے باز آجائے۔ ادھر پاکستان کا اصرار ہے کہ پاکستان کے دو صوبوں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں آئے دن ہونے والی دہشت گردی اور سبوتاژ میں بھارت کا ہاتھ ہے۔ بھارت پاکستان اور افغانستان کا شمار دنیا کے پسماندہ ترین ملکوں میں ہوتا ہے، ضرورت اس بات کی تھی کہ یہ تینوں پسماندہ ممالک متحد ہوکر غربت، بے روزگاری کا مقابلہ کرتے لیکن یہ تینوں ملک ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔
امریکا اور نیٹو نے اپنی 4 اور 3 ہزار مزید فوج افغانستان بھیجنے کے اعلان کے ساتھ یہ دلچسپ اعلان بھی کیا ہے کہ یہ تازہ دم فوجیں افغان جنگ میں حصہ نہیں لیں گی بلکہ افغان فوج کی تربیت کا نیک کام انجام دیں گی۔ سابق امریکی صدر اوباما کے افغانستان سے امریکی فوج کے واپس بلانے کے بعد جو محدود تعداد میں امریکی فوجیں افغانستان میں رکھی گئی تھیں ان کے بارے میں بھی یہی بتایا گیا تھا کہ یہ فوجیں افغانستان کی جنگ سے علیحدہ رہیں گی ان کا وہاں رکنے کا مقصد افغان فوج کی تربیت ہوگا۔ دنیا بڑی حیرت سے دیکھ رہی ہے کہ دنیا کی سب سے زیادہ ''بہادر'' فوج کی تربیت کے باوجود افغان فوج کو اپنے مقصد میں سخت ناکامی کا سامنا ہے بلکہ طالبان روز بروز اپنا حلقہ اثر وسیع سے وسیع ترکرتی چلے جا رہے ہیں اور ان کی فوجی سرگرمیوں کا حال یہ ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت میں موجود ایوان صدر اور پارلیمنٹ تک طالبانی حملوں سے محفوظ نہیں۔
اس لڑائی کا پس منظر یہ بتایا جاتا ہے کہ کشمیر میں کشمیریوں کی جد وجہد آزادی میں پاکستان مدد کر رہا ہے جس کا جواب بھارت بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں اور اپنے ہمنواؤں کے ذریعے دہشت گردی اور سبوتاژ کی شکل میں دے رہا ہے۔ اور خیبر پختونخوا میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت باالواسطہ ملوث ہے۔ ہوسکتا ہے دونوں ملکوں کے ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات درست ہوں لیکن تینوں ملکوں کے جمہوری حکمران کیا عوام کو اس دہشت گردی نما جنگ کے فوائد بتا سکتے ہیں؟ یہ الزامات تینوں ملکوں کے جمہوری حکمران ایک دوسرے پر لگا رہے ہیں اگر یہ تینوں ملک جمہوری ہیں اور ان ملکوں کے حکمران عوام کے نمایندے ہیں تو یہ بتائیں کہ کیا اس احمقانہ جنگ میں پاکستان بھارت اور افغانستان کے عوام کی مرضی شامل ہے۔ کیا اس جنگ سے تینوں ملکوں کے عوام کو نقصان کے علاوہ کوئی فائدہ ہو رہا ہے؟
مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی انسانیت کے خلاف ایک بد ترین جرم ہے لیکن ان طاقتوں کی سرپرستی کون کر رہے ہیں؟ کہا جاتا ہے کہ سب سے بڑی مذہبی انتہا پسند اور دہشت گرد طاقت داعش ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ داعش کو اسرائیل کی سرپرستی حاصل ہے۔ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں اور بجا طور پرکررہے ہیں کہ مذہبی انتہا پسندوں کا نشانہ صرف مسلم ملک اور مسلمان کیوں ہیں۔ اسرائیل کو مسلمانوں کا دشمن ملک خاص طور پر فلسطینی مسلمانوں کا قاتل کہا جاتا ہے اگر ایسا ہے تو پھر مسلم مذہبی انتہا پسندوں کا پہلا ٹارگٹ اسرائیل ہونا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ اسی طرح بھارت کشمیری مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے لیکن بھارت مسلم مذہبی انتہا پسندوں کی دہشت گردی سے محفوظ ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ دونوں ملک بھی دہشت گردی کا شکار ہوں بلکہ اس کا مطلب اس سازش کو بے نقاب کرنا ہے جو سامراجی ملک مذہبی انتہا پسندوں کے ذریعے کر رہے ہیں۔
اس حوالے سے پہلی سازش یہ ہے کہ خلیجی ملکوں میں جمہوری حکومتیں قائم نہ ہوں کیونکہ اگر یہ ملک جمہوری ہوں گے تو سامراجی ملکوں کے لیے وہاں کی حکومتوں کو استعمال کرنا آسان نہیں ہوگا، شخصی اور خاندانی حکومتوں کو سامراجی ملک آسانی سے استعمال کرسکتے ہیں۔ امریکا ایران کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اور ٹرمپ کے حالیہ دورہ سعودی عرب کا سب سے بڑا مقصد ایران کے خلاف مسلم ملکوں کو متحد کرنا تھا اور امریکا اس مقصد میں کامیاب ہوگیا ہے۔ اس حوالے سے ٹرمپ کا دوسرا مقصد خلیجی ملکوں کو بڑے پیمانے پر اسلحہ فروخت کرنا تھا۔ سو ٹرمپ اس مقصد میں بھی کامیاب ہوگئے۔ ان حقائق کے پیش نظر پاکستان، افغانستان اور بھارت کو اپنی پالیسیوں کا ازسر نو جائزہ لے کر اس خطے کی پالیسیوں کو عوام دوست دہشت گردی کی مخالف بنانا چاہیے نہ کہ پراکسی جنگ لڑ کر خود کو تباہ کرنا چاہیے۔