کارگل کی عدالتی تحقیقات
کراچی بندرگا ہ کے گھیرائو کی خبریں آنے لگیں تب جنرل پرویز مشرف کو اپنے منصوبے کی ناکامی کا احساس ہوا۔
کارگل پر فوج کشی کے بارے میں سپریم کورٹ کو تحقیقات کرنی چاہیے، یہ مطالبہ صرف مسلم لیگ ن کا نہیں بلکہ ہر اس شخص کا ہے جو جنرل پرویز مشرف کی اس مہم جوئی کے نتیجے میں اس خطے کے عوام کو پہنچنے والے نقصان سے واقف ہے۔ فوج کے سابق چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز کے اس الزام کی تصدیق کے بعد کہ اس اہم معاملے پر فیصلہ کرنے والے صرف تین جنرل تھے، کور کمانڈوں، فضائی اور بحری فوج کے سربراہوں کو اس معاملے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا، ضروری ہوگیا ہے کہ شفاف عدالتی تحقیقات کی جائے اور ذمے دار افراد کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔ یہ الزام پہلے بھی لگا مگر جنرل پرویز مشرف نے یہ الزام مسترد کردیا تھا۔ کارگل پر فوج کشی کی تاریخ کے جائزے سے بہت سے حقائق واضح ہوجاتے ہیں، جنرل ضیا الحق کے دور میں ترقی کا محور پنجاب رہا۔
پنجاب میں ہونے والی صنعتی ترقی کے نتیجے میں صنعتکاروں اور تاجروں کا ایک نیا طبقہ وجود میں آیا، اس طبقے کو اپنے کاروبار میں وسعت کے لیے خطے کے ممالک سے دوستی کی اہمیت محسوس ہوئی، جن میں سب سے قریبی ملک بھارت ہے جس سے کم لاگت پر اشیا برآمد کی جاسکتی ہیں اور اس طرح سستی اشیا درآمد ہوسکتی ہیں۔ اس طبقے کی نمایندگی شریف برادران نے کی۔ جنرل ضیا الحق کی مسلم لیگ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور میں بھارت سے دوستی کے خلاف تھی، جب وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے پہلے دور میں بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی اسلام آباد آئے تو مسلم لیگی اراکین نے پیپلزپارٹی کی حکومت پر کشمیر کے مسئلے کوفراموش کرنے اور ایٹمی پروگرام بیک رول کرنے کے الزامات لگائے۔ مسلم لیگی رہنما زاہد سرفراز یہ الزام دھراتے رہے کہ راجیو گاندھی کے اسلام آباد کے دورے کے دوران کشمیر ہائوس کے بورڈ اتار دیے گئے تھے۔ اس طرح وزیر داخلہ چوہدری اعتزاز احسن پر سکھ دہشت گردوں کی فہرست بھارتی وزیر داخلہ کے حوالے کرنے کا الزام بھی لگایا گیا مگر میاں نواز شریف نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنی جماعت کی ماضی کی پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے بھارت سے تجارت بڑھانے اور دوستانہ تعلقات بنانے کا فیصلہ کیا۔ پہلی دفعہ پنجاب کے دانشوروں، تاجروں اور صنعتکاروں نے میاں نواز شریف کی اس نئی پالیسی کی حمایت کی، اگر چہ میاں صاحب کے پہلے دور میں کشمیر کی آزادی کے لیے مجاہدین کے کنٹرول لائن پار کرنے اور تربیتی کیمپوں کا سلسلہ بھی جاری تھا، مگر بعد کے واقعات سے ثابت تھا کہ یہ نواز شریف کی پالیسی نہیں تھی۔
میاں نواز شریف نے اپنے دوسرے دور حکومت کے آغاز سے بھارت سے تعلقات کو بہتربنانے کے لیے ٹھوس اقدامات پر توجہ دی۔ میاں نواز شریف کی کوششوں سے بھارت کی دائیں بازو کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور وزیر اعظم واجپائی دوستی بس میں بیٹھ کر مینار پاکستان آئے اور پاکستان کو تسلیم کرنے کا واضح اعلان کیا۔ تقسیم ہند کی مخالف دائیں بازو کی بھارتی سیاسی جماعت کی جانب سے پاکستان کو تسلیم کرنے کا اعلان دونوں طرف کے انتہا پسندوں اور اسٹبلشمنٹ کی بڑی شکست تھی، اس کے ساتھ ریل گاڑی کے ساتھ بس کے ذریعے عوام کی آمدورفت اور سڑک کے ذریعے تجارت کے حجم میں اضافے نے خطے میں منتقل ہونے والی تبدیلیوں کی نشاندہی ہونے لگی تھی۔ نواز شریف حکومت نے بھارت کو بجلی فراہم کرنے کی پیشکش کردی، اگر تار کے ذریعے بھارت کو بجلی کی فراہمی شروع ہوجاتی تو یہ امکانات پیدا ہورہے تھے کہ پھر گیس کی فراہمی کے لیے پائپ لائن بچھانے کی بات بھی ایجنڈا پر آئے گی، افغانستان کے حالات کو پرامن بنانے کا معاملہ اہمیت اختیار کرجائے گا اور گیس کی پائپ لائن بچھانے کے منصوبے پر عملدرآمد ہوگا، یوں بھارت اور پاکستان کے درمیان سیکیورٹی زون بے معنی ہوجائیں گے۔
اس ماحول میں جنرل پرویز مشرف نے کارگل پر چڑھائی کی۔ جنرل مشرف نے اس جنگی منصوبے کی منتخب حکومت سے منظوری نہیں لی۔ ذرایع ابلاغ میں شایع ہونے والی اطلاعات کے مطابق پہلے کارگل میں کارروائی کو فوجی مجاہدین کی کارروائی قرار دیاگیا، جب بھارت نے کارگل میں مداخلت کا نوٹس لیا اور ذرایع ابلاغ پر کارگل میں ہونے والی فوجی سرگرمیوں کا ذکر ہوا تو مغربی ممالک اور امریکا کے بہت سے صحافی اسلام آباد پہنچ گئے۔ یہ صحافی مظفر آباد کے راستے کارگل کے علاقے تک پہنچنا چاہتے تھے مگر کارگل کے منصوبے کے بارے میں وفاقی حکومت کی لاعلمی کی بنا پر ان صحافیوں کو اس علاقے میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ صحافی واہگہ کی سرحد پارکرکے نئی دہلی چلے گئے، جہاں سے بھارتی حکومت نے انھیں سری نگر کے راستے محاذ جنگ تک پہنچا دیا۔ جب بھارتی فوج نے فضائیہ کی مدد سے جوابی کارروائی کی تو جنرل مشرف نے حکومت کو اطلاع دی کہ پاکستانی فوج کے دستے کارگل لڑائی میں شریک ہوگئے ہیں، جب بھارتی فضائیہ نے کارپیٹ بم باری شروع کی،اور کراچی بندرگا ہ کے گھیرائو کی خبریں آنے لگیں تب جنرل پرویز مشرف کو اپنے منصوبے کی ناکامی کا احساس ہوا۔
انھوں نے فوراً وزیراعظم نواز شریف کے ذریعے صدر کلنٹن کو مداخلت پر آمادہ کیا۔ صدرکلنٹن نے خطے میں ایٹمی جنگ کو روکنے کے لیے سیز فائر کی کوششیں شروع کیں۔ میاں نواز شریف فوری طور پر واشنگٹن گئے، واجپائی نے صدر کلنٹن کی دعوت پر واشنگٹن آنے سے انکار کیا، صدر کلنٹن نے دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر اور فوجوں کی واپسی کے لیے معاہدہ تیار کیا، اس معاہدے کی تفصیلات وزیراعظم واجپائی کو ٹیلی فون پر سنا کر منظوری لی گئی، میاں نواز شریف کو وائٹ ہائوس میں صدر کلنٹن کے ساتھ اکیلے فوٹو سیشن کرانے پڑے۔ حکومت پاکستان نے غیر ملکی صحافیوں کو کارگل جانے کی اجازت نہیں دی تھی جب کہ بھارتی حکومت نے صحافیوں کو سڑک کے راستے سری نگر تک پہنچانے اور وہاں قیام کے لیے سہولتیں فراہم کی تھی، اس بنا پر ان صحافیوں نے پاکستان کے خلاف خبریں بھیجنے کا لامتناہی سلسلہ شروع کیا۔ امریکی اخبارات میں ایسے اشتہارات شایع ہوئے جن میں پاک فوج پر کارگل میں مداخلت اور 'روگ آرمی' ہونے کے الزامات لگائے گئے۔ صدر کلنٹن کی مداخلت سے جنگ تو ٹل گئی مگر بھارت کو پہلی دفعہ یہ محسوس ہوا کہ امریکا سے دوستی سے ہی ملک کو پاکستان کی مہم جوئی سے بچایا جاسکتا ہے، یوں بھارت اور امریکا کے درمیان خوشگوار تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ اس نئے دور میں بھارت اور امریکا نے سول ایٹمی ٹیکنالوجی کے معاہدے پر دستخط کیے، بھارت نے اپنے تمام ایٹمی پلانٹ انٹرنیشنل اٹامک ایجنسی کے ماہرین کے معائنے کے لیے کھول دیے گئے۔ کانگریس نے اس معاہدے کی بنا پر کمیونسٹ پارٹی سے اتحاد کو ختم کردیا۔ بھارت کی وسیع مارکیٹ امریکی مصنوعات کے لیے کھول دی گئی۔
خطے میں اس جنگ سے انتہا پسندوں کو تقویت ملی، صرف پاکستان اور بھارت کے ہزاروں فوجی شہید ہوئے، پاکستانی فوج کا امیج پوری دنیا میں متاثر ہوا۔ جنرل مشرف کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ منصوبہ نواز شریف کی منظوری سے شروع کیا تھا مگر وہ اس اہم مسئلے پر عدالتی تحقیقات کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے نتیجے میں نام نہاد قومی راز افشاں ہوں گے۔ جنرل مشرف ہر مہینے برطانیہ اور امریکا میں لیکچرز دینے جاتے ہیں، وہ اس حقیقت کو فراموش کررہے ہیں کہ امریکا نے نائن الیون کی دہشت گردی کی عدالتی تحقیقات کرائی اور اس سانحے کے بعض پہلوئوں کی تحقیقات جاری ہے۔ اس طرح بھارت میں کارگل واقعے کی تحقیقات ذرایع ابلاغ میں شایع ہوچکی ہے اور کئی بھارتی فوجی افسروں کو نااہلی کا مظاہر ہ کرنے پر سزا ہوچکی ہے۔ جب وہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں تو پھر کسی تحقیقات سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ کی شفاف تحقیقات سے نہ صرف طالع آزما جنرلوں کا احتساب ہوگا بلکہ مستقبل میں کئی مہم جوئوں کو منتخب حکومت کو نظر انداز کرکے اس خطے کو جنگ میں جھونکنے کی جرات نہیں ہوگی۔