اِدھر اُدھر کی
دکھ والی رات کو سویا نہیں جاتا اور خوشی کی رات کو خوشی سونے نہیں دیتی۔
ٹیلی فون وغیرہ کے ذریعے جو پیغامات موصول ہوتے ہیں، ان میں سے چند ایک کا ذکر۔
فوج کے ریٹائرڈ افسروں نے اپنے ریٹائرڈ جرنیلوں کے نام ایک پیغام بھیجا ہے کہ وہ آپس میں الزامات کی تکرار بند کر دیں ورنہ ان کے جونیئر افسروں نے جو ان کے ماتحت ان کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں اگر اپنے جرنیلوں کے کرتوتوں اور پیشہ ورانہ نالائقیوں کو بے نقاب کرنا شروع کر دیا تو وہ کہیں کے نہیں رہیں گے، اس لیے مناسب یہی ہے کہ وہ خاموش ہو جائیں اور اپنے ان بڑے عہدوں کو ہضم کرنے کی کوشش کریں۔ اس پیغام کے نیچے جو نام لکھے ہیں میں ان کو بوجوہ نقل نہیں کرتا۔ ایک اور پیغام میں بتایا گیا ہے کہ کون کس بات سے گھبراتا ہے۔ مشرف کارگل کے نام سے، فضل الرحمٰن ڈیزل سے، سمیع الحق کے حوالے سے جو لکھا ہے وہ میں پڑھ نہیں سکا ، اعظم ہوتی ایزی لوڈ سے، نواز شریف جدہ سے، زرداری NRO سے، الطاف بھائی لندن سے، طاہر القادری کینیڈا سے عمران خان سیتا وائٹ سے، بلور ریلوے سے اور رحمٰن ملک اپنے مدمقابل شیطان سے۔ ایک پیغام دن رات کا کوئی وقت ایسا نہیں ہوتا جب فضائوں میں اللہ کا نام نہ گونج رہا ہو۔ ایک رپورٹ کے مطابق فجر کی اذان سب سے پہلے انڈونیشیا میں دی جاتی ہے، اس کے بعد سماٹرا ملائیشیا، ڈھاکا، سری لنکا، انڈیا، پاکستان، افغانستان، مسقط، سعودی عرب ،کویت، دبئی،یمن، ایران، استنبول، طرابلس لیبیا، امریکا تک لگا تار نو گھنٹے صبح کی اذان بلند ہوتی رہتی ہے اور پھر دوسرے دن واپس انڈونیشیا پہنچتی ہے جب یہاں ظہر کا وقت ہو جاتا ہے، اس طرح پانچ وقت کی اذان پوری زمین میں ہر وقت بلند ہوتی رہتی ہے۔
حضرت علیؓ ایک مجلس میں فرش پر دوسرے لوگوں کے ساتھ بیٹھے گفتگو میں مصروف تھے، اتنے میں ایک صاحب آئے اور انھوں نے جب حضرت علیؓ کو عام لوگوں کے درمیان فرش پر بیٹھے دیکھا تو عرض کیا کہ امیر المومنین آپ ذرا اونچی جگہ پر بیٹھ جائیں کہ آپ سے مخاطب لوگوں کو آسانی ہو۔ جواب میں علم و دانش کے اس کوہ گراں نے فرمایا کہ جو لوگ فرش پر بیٹھتے ہیں وہ گرتے نہیں ہیں''۔ اب ایک غزل:
کسی کی بخشش کا سامان ہوا پھرتا ہے
شہر سارا ہی پریشان ہوا پھرتا ہے
ایک بارود کی جیکٹ اور ایک نعرہ تکبیر
راستہ جنت کا آسان ہوا پھرتا ہے
جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر
شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے
جب غربت کے شکار ہو تو دیانت سے کام لو، جب دولت مند ہو تو سادگی اختیار کرو، جب اقتدار میں ہو تو نرمی برتو اور جب غصے میں ہو تو خاموش رہو۔ ہمارے بعض حکمران اپنی جن غلطیوں سے پریشان ہوتے ہیں، ان کا ذکر۔ ایوب خان بھٹو کی سیاسی پرورش سے۔ بھٹو ضیاء کو آرمی چیف بنانے سے۔ ضیاء کی غلطی کہ نواز شریف کو بیٹا بنا لیا، نواز شریف کی غلطی کہ پرویز مشرف کو آرمی چیف بنا دیا۔ پرویز مشرف کی غلطی کہ بے نظیر سے صلح کرنے کی کوشش کی۔ بے نظیر میری غلطی میری شادی اور زرداری ایک قہقہہ کے ساتھ میں غلطی کرتا ہی نہیں۔ ایک اور پیغام اس میں کون غلطی پر ہے، فیصلہ آپ کریں۔ میاں بیوی رات کو سو رہے تھے کہ بیوی کو خواب آیا اور اس نے کہا بھاگو میرا شوہر آ گیا ہے، اس پر اس کا شوہر بڑبڑا کر اٹھا اور کھڑکی سے چھلانگ لگا دی۔ صرف چند لوگ بارش سے لطف اندوز ہوتے ہیں، باقی سب صرف بھیگتے ہیں۔ ایک ملازم دفتر سے چھٹی پر باہر نکلا تو گھبرا کر رونے پیٹنے لگا ،اس کے ساتھیوں نے پوچھا کیا بات ہے۔ اس نے کہا کوئی کمبخت میری سائیکل لے گیا ہے اور اس کی جگہ اپنا موٹر سائیکل چھوڑ گیا ہے مگر یہ تو پٹرول سے چلتا ہے۔ اگر موجودہ حکومت پھر آ گئی تو اس کے ساتھ یہی ہو گا۔ مور ناچتے ہوئے بھی روتا ہے اور ہنس مرتے ہوئے بھی گاتا ہے۔ بس زندگی ایسی ہی ہے۔ دکھ والی رات کو سویا نہیں جاتا اور خوشی کی رات کو خوشی سونے نہیں دیتی۔