دستاویزی معیشت کمزور متوازی معیشت تیزی سے مضبوط ہو رہی ہے اسٹیٹ بینک

2011-12 کے دوران روز مرہ گھریلو اشیا کی کھپت میں 11.1فیصد اضافہ ہوا جو 2010-11کے مقابلے میں 3.9 فیصد زائد ہے.


Business Reporter February 06, 2013
پنشن اور انکم سپورٹ پروگرام سے گھریلو آمدن اور اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے، اسٹیٹ بینک فوٹو: فائل

ملک میں جاری معاشی و سیاسی عدم استحکام، بے روزگاری اور غربت کی شرح میں اضافے اور 2سال سے سیلاب کے باعث ہونے والی تباہ کاریوں کے باوجود روز مرہ اور گھریلو استعمال کی اشیا کی کھپت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی سالانہ مالیاتی رپورٹ برائے سال 2011-12 میں پاکستانی معیشت کے اس تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے تیزی سے پھلنے پھولنے والی متوازی معیشت کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2011-12 کے دوران روز مرہ گھریلو اشیا کی کھپت میں 11.1فیصد اضافہ ہوا جو سال 2010-11 کے مقابلے میں 3.9 فیصد زائد ہے۔ کنزیومر مصنوعات کی کھپت بڑھنے سے حکومت کو سیلز ٹیکس میں مد میں ہونے و الی آمدن بھی بڑھ رہی ہے اور گزشتہ بجٹ میں سیلز ٹیکس کی شرح ایک فیصد کم کیے جانے کے باوجود مجموعی سیلز ٹیکس وصولیوں میں 15فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی میں دستاویزی معیشت کے مقابل غیردستاویزی اور متوازی معیشت زیادہ تیزی سے پھل پھول رہی ہے۔



کنزیومر مصنوعات کی کھپت میں اضافے میں نئے شاپنگ مالز، کنزیومر مصنوعات کی تجارتی نمائشیں، نئے کھلنے والے ریسٹورنٹس، اوورسیز ٹریولنگ اور گلوبل برانڈز کے پاکستان میں کھلنے والے آئوٹ لیٹس اہم کردار ادا کر رہے ہیں بالخصوص فاسٹ موونگ کنزیومر گڈز (ایف ایم جی سیز) کی کھپت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق مسلسل دو سال سے سیلاب، معاشی ترقی کی شرح نمو محدود رہنے اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے باوجود کنزیومر مصنوعات کی کھپت میں اضافہ رسمی معیشت کے باہر سے ہونے و الی آمدن، بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات میں اضافہ اور غیردستاویزی شعبے کے مرہون منت ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران ملک میں گھریلو برقی آلات بالخصوص کچن اپلائنسز، ایل سی ڈیز، موبائل فون، ایئرکنڈیشنرز، ریفریجریٹرز، ڈیجیٹل کیمرے اور ریکارڈرز، برتن، لیپ ٹاپ، برقی پنکھوں، سرامک ٹائلز کی درآمد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لیپ ٹاپ کی درآمد 242فیصد، ایل سی ڈیز کی درآمد 158فیصد، موبائل فون کی درآمد 137فیصد، ہیڈ فونز کی درآمد 77فیصد، انرجی سیونگ بلب کی درآمد 316فیصد تک بڑھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے انرجی اور فوڈ پر دی جانے والی سبسڈی، برقی آلات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں کمی، گاڑیوں پر اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی کے خاتمے، پنشن اور انکم سپورٹ پروگرام سے گھریلو آمدن اور اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔