جل بھی چکے پروانے معروف شاعروادیب شہزاداحمد انتقال کرگئے

اردو ادب سنجیدہ فکر شاعر اور دانشور سے محروم ہو گیا، شعرا،...


اردو ادب سنجیدہ فکر شاعر اور دانشور سے محروم ہو گیا، شعرا، دانشوروں کا اظہار افسوس۔ فوٹو ایکسپریس

ISLAMABAD: معروف شاعر اور مجلس ترقی ادب کے ڈائریکٹر شہزاد احمد گزشتہ روز انتقال کر گئے ۔ ان کی عمر 80 برس تھی وہ عرصہ درازسے دل کے عارضہ میں مبتلا تھے ۔ ان کی نماز جنازہ آج بعد نماز عصران کی رہائش گاہ 31.Dآفیسرز کالونی ضرار شہید روڈ ،لاہورکینٹ پر ادا کی جائے گی ۔

اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین عبدالحمید ، ریذیڈنٹ ڈائریکٹر الطاف قریشی ، ڈپٹی ڈائریکٹر محمد جمیل ، پروفیسر خواجہ محمد ذکریا ، ڈاکٹر انور سدید ، ڈاکٹر ضیاء الحسن ، امجد اسلام امجد ،سعد اﷲ شاہ ، اعزاز احمد آذر، افتخار مجاز، عطا الحق قاسمی ، رشید مصباح، امجد طفیل ،نوازکھرل، عابد حسین عابد، ناصر بشیر، منشا قاضی سمیت ادیبوں ، شاعروں اور دانشوروں نے شہزاد احمد کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہارکیا اور کہا کہ شہزاد احمد کے انتقال سے اردو ادب کے قارئین ایک سنجیدہ فکر شاعر اور دانشور سے محروم ہو گئے۔

شہزاد احمد اردو کے صاحب اسلوب شعرا میں شمار کیے جاتے تھے ۔ ان کی غزلوں کا پہلا مجموعہ صدف 1958ء میں شائع ہوا ۔ 1997ء میں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا ۔ انھیں احمد ندیم قاسمی کے انتقال کے بعد مجلس ترقی ادب کا ڈائریکٹر تعینات کیا گیا ۔ انھوں نے کئی کتابیں لکھیں جن میں شعری مجموعوں کے علاوہ تراجم اور سائنسی کتب بھی شامل ہیں۔