دنیا کو زرقون میزائل مبارک ہو

ہتھیار خواہ وہ ایٹمی ہوں یا روایتی دونوں ہی کا کام انسانوں کی جان لینا ہوتا ہے


Zaheer Akhter Bedari July 13, 2017
[email protected]

KAMOKE: تازہ اطلاعات کے مطابق روس نے آواز سے 5گنا تیزکروز میزائل تیارکرلیا ہے جس کی رفتار 4600 میل فی گھنٹہ ہے، روس نے اس میزائل کا خوبصورت نام ''زرقون'' رکھا ہے ،اس نام کو سن کر ذہن میں کسی قیمتی پتھر کا نام آجاتا ہے۔ اس میزائل کی ایک خوبی یہ بتائی جا رہی ہے کہ یہ میزائل کسی بھی بڑے سے بڑے بحری جہاز کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

روسی حکام کے مطابق یہ نیا ''انسانیت دوست'' میزائل 2018 میں روسی فوج کے حوالے کردیا جائے گا۔ دفاعی تجزیہ کار روس کے اس نئے میزائل کو امریکی میزائل ڈیفنس کے خلاف ایک بڑی اور اہم کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ زرقون میزائل کسی بھی موثر سے موثر میزائل ڈیفنس نظام کو توڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان یہ مقابلہ برسوں سے جاری ہے اور یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ روسی زرقون کے مقابلے میں امریکا کے ''محب وطن'' سائنسدان زیادہ طاقتور زیادہ تیز رفتار ایٹمی میزائل تیار کرکے روس کو اس سے زیادہ طاقتور اور تیز رفتار میزائل بنانے کی ترغیب فراہم کریں گے۔

جب تک دنیا میں دو معاشی نظاموں کا مقابلہ جاری تھا، ہتھیاروں میں مقابلے کو دو نظاموں کے درمیان مقابلہ کہا جاتا تھا یعنی ایک استحصالی سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں دوسرے اقتصادی انصاف اور سماجی مساوات کے نظاموں میں مقابلہ سمجھا جاتا تھا اور اسی حوالے سے دنیا کے عوام ایک کی حمایت دوسرے کی مخالفت کرتے تھے لیکن روس کی جغرافیائی ٹوٹ پھوٹ کے بعد جو نظریاتی ٹوٹ پھوٹ ہوئی ہے، اس نے امریکا اور روس کو ایک ہی مقام پر کھڑا کردیا ہے یعنی اب روس اور امریکا دونوں سرمایہ دارانہ نظام معیشت کے حامل ملک ہیں لہٰذا اب نظریاتی حوالوں سے کسی کی حمایت کسی کی مخالفت ممکن نہیں۔

1945 میں دوسری عالمی جنگ کو سامراجی مفادات کے مطابق انجام کو پہنچانے کے لیے امریکا نے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایک ایک ایٹم بم گرایا اور دوسری عالمی جنگ ایک نسل پرست آمر کے خاتمے کے بعد سرمایہ پرست ملکوں کی کامیابی پر ختم ہوئی۔دوسری عالمی جنگ میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے ہر سال ہیروشیما اور ناگاساکی میں المیہ تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے اور ساری دنیا میں اس دن کو یوم سوگ کے طور پر منایا جاتا ہے۔

اس پس منظر میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دنیا بھر میں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور تجارت پر پابندی لگادی جاتی لیکن یہ کس قدر افسوس اور شرم کی بات ہے کہ نہ صرف 1945 میں استعمال ہونے والے ایٹم بموں سے کئی گنا زیادہ طاقتور بم بنا لیے گئے ہیں بلکہ ان بموں اور دیگر ایٹمی ہتھیاروں کے اتنے بڑے بڑے ذخائر جمع کرلیے گئے ہیں کہ اگر خدانخواستہ انھیں استعمال کیا جائے تو دنیا ہزاروں بار تباہ ہوسکتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس حوالے سے ایسے خطرناک ایٹمی ہتھیار تیار کیے جا رہے ہیں جو انسانیت کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا نیک کام انجام دے سکتے ہیں۔

اس حوالے سے کئی ملکوں میں ایٹمی میزائلوں کی دوڑ جاری ہے لیکن دنیا کی دو سپر طاقتوں امریکا اور روس کے درمیان تو باضابطہ مقابلہ ہو رہا ہے، اگر امریکا آواز سے تین گنا تیز رفتار میزائل بناتا ہے تو روس فوری آواز سے چار گنا تیز رفتار ایٹمی میزائل تیار کرکے جواب آں غزل کے طور پر پیش کردیتا ہے۔ اگر روس چار ہزار میل تک مارکرنے والا میزائل تیار کرتا ہے تو امریکا کے ایٹمی سائنسدان فوری 5 ہزار میل تک مار کرنے والا میزائل تیار کرکے اپنی موچھوں پر تاؤ دیتے نظر آتے ہیں انھیں تو چھوڑیے بھارت اور پاکستان جیسے غریب ترین ملکوں کے درمیان بھی میزائلوں کا مقابلہ جاری ہے اور دونوں ملکوں کے محترم ایٹمی سائنسدان دن رات اپنی ڈیوٹیاں انجام دینے میں لگے ہوئے ہیں۔

اسے ہم سرمایہ دارانہ نظام کی کامیابی کہہ سکتے ہیں کہ اس نے اپنا مکروہ چہرہ چھپانے کے لیے جمہوریت کے نام سے وہ نظام روشناس کرایا ہے جو اس کے مکروہ چہرے کی خوبصورت نقاب بن گیا ہے۔ سوشلسٹ بلاک کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد اب سابق سوشلسٹ ملکوں میں بھی جمہوریت روس کی طرح جاری ہوگئی ہے اور روایتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ ایٹمی ہتھیاروں کی تجارت و تیاری کا کام جمہوری سیاستدان ہی کر رہے ہیں۔ بلکہ ہتھیاروں کی تیاری و تجارت اور جمہوری نظام لازم و ملزوم ہوگئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماضی میں ہتھیاروں کی مسابقت کو دو منفی اور مثبت طاقتوں کے درمیان مسابقت کہنے کا جواز تھا اب جب کہ دونوں ہی طاقتیں منفی کا روپ دھار چکی ہیں ان کے درمیان ہتھیاروں کی مسابقت کا کیا جواز ہوسکتا ہے؟

ہتھیار خواہ وہ ایٹمی ہوں یا روایتی دونوں ہی کا کام انسانوں کی جان لینا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے ایک اور المیے کا ذکر ضروری ہے وہ یہ ہے کہ جنگیں سپاہی یعنی فوج لڑتی ہیں فوج خواہ روس کی ہو امریکا کی چین کی ہو یا جاپان کی پاکستان کی ہو یا ہندوستان کی وہ غریب طبقات پر ہی مشتمل ہوتی ہے اور اس سے نقصان بھی غریب طبقات ہی کو ہوتا ہے آج شام، عراق، یمن وغیرہ کی بے ہودہ جنگوں سے تنگ آکر جو لاکھوں عوام ترک وطن کرکے یورپی ملکوں میں پناہ لینے جا رہے ہیں وہ سرمایہ دار نہیں بلکہ غریب ہیں۔

میں حیران ہوں چھوٹے چھوٹے اختلافات کے حوالے سے بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کرنے والوں کو دنیا کو پلک جھپکتے میں تباہ کرنے والے خطرناک ترین ایٹمی ہتھیاروں کی بے لگام تیاری کا احساس نہیں۔ میں نے کسی ملک میں ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف منظم مربوط اور مسلسل احتجاجی تحریکیں نہیں دیکھیں۔ کیا اہل علم اہل دانش مرگئے ہیں؟ کہ وہ اس حوالے سے دنیا میں بیداری پیدا نہیں کر رہے ہیں؟

مقبول خبریں