سی پیک کو کوئی خطرہ نہیں

فوج اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے سی پیک کی فول پروف سیکیورٹی کے لیے چاق و چوبند اور پرعزم ہیں۔


Editorial July 14, 2017
جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے چین ہی وہ واحد ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان اقتصادی شراکت داری کو فروغ دے رہا ہے۔ فوٹو: رائٹرز

جب سے ملک میں حالیہ سیاسی کشیدگی اور پاناما لیکس کا بحران شروع ہوا ہے بعض حلقے شد ومد سے یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس بحران کے تانے بانے سی پیک سے جڑتے ہیں جس میں اندرونی اور بیرونی قوتیں کارفرما ہیں۔

گزشتہ روز جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پشاور میں عید ملن پارٹی اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ان ہی امور کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی سازش سے منسلک کیا۔ اس وقت وزیراعظم اور ان کی فیملی پانامہ کیس کے حوالے سے جن تفتیشی مراحل سے گزر رہی ہے اس کا تعلق مکمل طور پر قانونی اور عدالتی معاملات سے ہے۔ وزیراعظم اور ان کے خاندان کو اپنا قانونی موقف اور دلائل دینے کی مکمل آزادی حاصل ہے اور وہ اپنے دفاع کے لیے تمام قانونی ذرایع استعمال کر رہے ہیں۔

ان تفتیشی مراحل کا نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو اس میں موجودہ سیاسی سیٹ اپ کو بظاہر کوئی خطرہ نظر نہیں آتا کیونکہ اگر وزیراعظم کی نااہلی بھی ہوتی ہے تو ایسی صورت میں حکمران جماعت نیا وزیراعظم لا سکتی ہے،اس طرح پارلیمنٹ کے فلور سے آنے والی تبدیلی کے باعث جمہوری نظام بلا رکاوٹ چلتا رہے گا اور بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے مارشل لا کا جو خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے وہ پارلیمنٹ کے ہوتے ہوئے بعید از امکان ہے۔ اس بحرانی صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ حلقے سی پیک کو متنازعہ بنانے کا کھیل کھیل رہے ہیں۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بدھ کو سی پیک لاجسٹکس انٹرنیشنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ کسی کو سی پیک کے معاہدے اور اس حوالے سے ہماری صلاحیتوں پر شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے، کوئی بھی رکاوٹ آئے انشاء اللہ سی پیک کو کامیاب بنائیں گے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ چین کے ساتھ تعلقات پر فخر ہے اور اس کی سرمایہ کاری سے پاکستان میں ترقی آئے گی، پاک چائنہ اقتصادی راہداری منصوبہ خطے میں بڑے پیمانے پر بہتری اور تبدیلی لائے گا، سی پیک کے لیے خطے میں امن واستحکام نہایت ضروری ہے۔ چین کا ون بیلٹ ون روڈ وژن پوری دنیا کے لیے ہے، سی پیک پاکستان، چین اور خطے کے لیے گیم چینجر ہے۔

فوج اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے سی پیک کی فول پروف سیکیورٹی کے لیے چاق و چوبند اور پرعزم ہیں، سی پیک کی کامیابی کے لیے تمام اداروں کو بھرپور تعاون کرنا ہوگا، اس کے لیے قیادت، اجتماعی جذبہ ، بڑے پیمانے اور بڑی سطح پر اعتماد سازی کی ضرورت ہے۔ عوام کے تعاون سے پاکستان کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے محفوظ ملک بنا رہے ہیں۔

چین اور پاکستان ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اس لیے انھیں آئرن برادرز بھی کہا جاتا ہے۔ پاک چین تعلقات پرامن بقائے باہمی کے اصول' مشترکہ مفادات اور عالمی و علاقائی امور پر یکساں موقف پر مبنی ہیں۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ سی پیک پورے خطے کی اقتصادی ترقی' خوشحالی اور امن کا پیش خیمہ ہے۔ چین اور پاکستان کے درمیان تعلقات زندگی کے تمام شعبوں میں قائم ہو رہے ہیں اور یہ برادرانہ شراکت داری ریاست سے ریاست' فوج سے فوج' کاروبار سے کاروبار اور عوام سے عوام تک کے روابط میں نظر آتی ہے۔

سی پیک منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے جو اندرونی اور بیرونی قوتیں کارفرما ہیں آرمی چیف نے ان پر واضح کر دیا ہے کہ سی پیک کی راہ میں آنے والی کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی اور اسے ہر ممکن پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔ پاکستان میں دہشت گردی کے پیش نظر سی پیک کی سیکیورٹی کے حوالے سے جو سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ان کا جواب دیتے ہوئے آرمی چیف نے یقین دلایا کہ سی پیک کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور کسی کو اس حوالے سے شک و شبہ میں نہیں رہنا چاہیے۔

جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے چین ہی وہ واحد ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان اقتصادی شراکت داری کو فروغ دے رہا ہے اور جوں جوں یہ شراکت داری آگے بڑھے گی خطے میں معاشی ترقی کا عمل تیز سے تیز تر ہوتا چلا جائے گا۔ اگر کچھ قوتیں سی پیک کے حوالے سے پاکستان کو کسی بحران سے دوچار کر کے اس منصوبے کو ناکام بنانا چاہتی ہیں تو انھیں خبردار رہنا چاہیے کہ ان کی یہ کوششیں شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتیں کیونکہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اس منصوبے کو ہر صورت مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔