اجوکا تھیٹر کے اشتراک سے ’صوفی ازم کے موضوع پر سیمینار

تعین کرنا چاہیے کہ کون عوامی صوفیاء اور کون وقتی حاکموں کے ساتھ وابستہ ہے،مقررین کا اظہار خیال


Cultural Reporter February 07, 2013
مختلف مذاہب اور اسلام میں صوفی ازم کا پیغام ایک مشترک قدر ہے، سیمینار کے شرکا کے خیالات۔ فوٹو : ایکسپریس

KARACHI: پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر اور اجوکا تھیٹر کے اشتراک سے 'صوفی ازم اور فن و ثقافت' کے موضوع پر ایک سیمینار پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر میں منعقد ہوا۔

عکسی مفتی کی صدارت میں منعقدہ سیمینار میں مقررین میں مشتاق صوفی، راج ولی خٹک، کے۔ ایس ناگپال، شاہد ندیم اور اقبال قیصر شامل تھے۔ مشتاق صوفی نے کہا کہ تعین کرنا چاہیے کہ کون عوامی صوفیاء اور کون وقتی حاکموں کے ساتھ وابستہ ہے۔

عکسی مفتی نے کہا کہ ملاّ اِزم اور بنیاد پرستی سے خطرہ نہیں کیونکہ یہ دھرتی صوفیاء کی دھرتی ہے اور صوفیاء کی مزاحمت اور محبت ہمیشہ ان کا راستہ روکتی رہے گی۔صوفیا اور اولیا کرام کا پیغام صرف محبت ہے جس میں انسانوں سے پیار اورمحبت کا درس دیا گیا ہے۔ اسی لیے کوئی شخص کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو ۔

وہ صوفیا اور اولیا کرام کے کلام سے متاثر ہے۔ تصوف لوک ریتوں میں ہے۔ کے۔ ایس ناگپال نے کہا کہ مختلف مذاہب اور اسلام میں صوفی ازم کا پیغام ایک مشترک قدر ہے اور یہ ان مذاہب کو قریب لانے کا موجب بن سکتا ہے۔ راج ولی خٹک نے کہا کہ پشتون صوفیاء نے بنیاد پرستی اور ظاہر پرستی کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ پروگرام کی میزبانی ڈائریکٹر پِلاک ڈاکٹر صغرا صدف نے کی۔

مقبول خبریں