تمام آرٹی اوز میں ود ہولڈنگ ٹیکس مانیٹرنگ یونٹ قائم کرنے کا حکم

قیام کا مقصد زیادہ سے زیادہ ٹیکس وصولیوں کا حصول یقینی بنانا ہے، فیلڈ فارمشنز کو ہدایات جاری کردی گئیں۔


Irshad Ansari February 07, 2013
ایک لاکھ 50 ہزار نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائیگا،50 ارب روپے سے زائد کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔ فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے ملک بھر کے تمام ریجنل ٹیکس آفسز میں 18 ود ہولڈنگ ٹیکس مانیٹرنگ یونٹ قائم کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سینئر افسر نے بدھ کے روز ،،ایکسپریس،،کو بتایا کہ ایف بی آر کی طرف سے تمام فیلڈ فارمشنز کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ جن میں کہا گیا ہے کہ ہر ریجنل ٹیکس آفس میں فوری طور پر ایک ود ہولڈنگ ٹیکس مانیٹرنگ یونٹ قائم کیا جائے اور اس مانیٹرنگ یونٹ کا انچارج ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) کا گریڈ اٹھارہ کا افسر ہوگا ذرائع نے بتایا کہ ملک بھر میں ود ہولڈنگ ٹیکس مانیٹرنگ یونٹس کے قیام کا بنیادی مقصد رواں مالی سال 2012-13 کی دوسری ششماہی (جنوری تا جون 2013) کے دوران زیادہ سے زیادہ ٹیکس وصولیوں کا کو یقینی بنانا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ یہ ود ہولڈنگ ٹیکس مانیٹرنگ یونٹس اپنے اپنے آر ٹی او کی حدود میں واقع بڑے ود ہولڈنگ ایجنٹس کو فوکس کریں گے اور انکے ڈیٹا کا اینالسز کر یں گے۔ ایف بی آر کی طرف سے جاری کردہ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس دہندگان کے ذمے واجب الادا 200 ارب روپے سے زائد کے ٹیکس واجبات کی ریکوری کیلیے متعارف کروائے جانے والے ریکوری پلان اور انٹیگریٹڈ انفورسمنٹ ایکشن پلان 2012-13 پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ رواں ششماہی کے دوران ٹیکس وصولیاں بڑھا کر رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے شارٹ فال کو پورا کیا جاسکے۔



ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر نے لیٹری نمبری C.No.1(20)E&WHT(IDT)/2012 کے تحت مذکورہ ریکوری پلان کے تحت ملک بھر کے ریجنل ٹیکس آفسز اور لارج ٹیکس پیئر یونٹس کیلیے ماہانہ بنیادوں پر بقایات جات کی ریکوری کے بارے میں پرفارمنس رپورٹ ایف بی آر کو بھجوانے کی ہدایت کردی ہے اور تمام فیلڈ فارمشنز سے کہا گیا ہے کہ گذشتہ ماہ کے دوران ٹیکس دہندگان سے جو بقایات جات کی ریکوری کی گئی ہے انکے بارے میں پرفارمنس رپورٹ ایف بی آر ہیڈ کوارٹر کو بھجوائی جائے ایف بی آر کی طرف سے فیلڈ فارمشنز کو بھجوائے جانے و الے لیٹر کے تحت تمام فیلڈ فارمشنز کو ٹیکس واجبات کی ریکوری کے بارے میں تفصیلی رپورٹ ایف بی آر کو بھجوانا ہوگی جس میں فیلڈ فارمشنز کو یہ بتانا ہوگا کہ انکم ٹیکس واجبات کی مد میں کتنی ریکوری کی گئی ہے اور سیلز ٹیکس واجبات میں کتنی،فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں کتنے واجبات ریکور کیے گئے ہیں اور یہ کہ ود ہولڈنگ ٹیکس کے واجبات کی مد میں کتنی ریکوری کی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر نے فیلڈ فارمشنز کو ٹیکس واجبات کی مد میں 125 ارب روپے سے زائد کی ریکوری کرنے کا ہدف دیا ہے جبکہ انٹیگریٹڈ انفورسمنٹ ایکشن پلان 2012-13 کے تحت ریجنل ٹیکس آفسز کو غیر فعال ٹیکس دہندگان ،نان فائلرز،شارٹ فائلرز ،نان رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کا سُراغ لگانے کی ہدایت کی گئی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریجنل ٹیکس آفسز کو اپنی کارکردگی رپورٹ میں بتانا ہوگا کہ کس آر ٹی او کی طرف سے کتنے غیر فعال ٹیکس دہندگان کا سُراغ لگایا گیا ہے اور کتنے نان فائلرز کا سُراغ لگا گیا اور کتنے نان فائلرز کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں فیلڈ فارمشنز کو یہ بھی بتانا ہوگا جن نان فائلرز کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ ان میں سے کتنے نان فائلرزنے نوٹس کے جواب میں ٹیکس گوشوارے جمع کروانا شروع کیے ہیں۔

اسی طرح یہ بھی بتانا ہوگا کہ کتنے شارٹ فائلرز کو سُراغ لگا کر نوٹس جاری کیے گئے ہیں اور جنہیں نوٹس جاری کیے گئے ہیں اور ان میں سے کتنے شارٹ فائلرز نے نوٹس جاری ہونے کے بعد مطلوبہ صلاحیت کے مطابق ٹیکس جمع کروایا ہے۔ اس بارے میں جب ایف بی آر حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ مذکورہ پلان کے تحت رواں مالی سال کے آخر تک ڈیڑھ لاکھ نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائیگا اور پچاس ارب روپے سے زائد کا اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے۔

مقبول خبریں