مودی کا دورہ اسرائیل
بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ سرکاری دورہ پاکستان دشمنی کا مظہر بن گیا۔
بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی پچھلے دنوں اسرائیل کا دورہ کرچکے ہیں اور دنیا کی سیاسی روایات کے مطابق دونوں ملکوں کے مفادات کے مطابق بات چیت بھی ہوتی رہی لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ سرکاری دورہ پاکستان دشمنی کا مظہر بن گیا۔ اسرائیلی ریاست اپنے وجود کے پہلے دن سے پاکستان مخالف رویے کی حامی رہی ہے ۔ مودی کے دورے کے دوران بھی اس نے اسی رویے کا اظہار کیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے پاکستان کے خلاف بھارت کی غیر مشروط مدد کا اعلان کیا اور کئی دفاعی معاہدوں پر دستخط کیے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ حماس اور لشکر طیبہ میں کوئی فرق نہیں۔
اسرائیلیوں کو اپنے لیے ایک وطن کی ضرورت تھی اور انھیں وطن دلانے میں سامراجی ملکوں نے بھرپور مدد کی لیکن اسرائیل کو باوطن بنا کر فلسطینیوں کو بے وطن کردیا گیا یہی نہیں بلکہ انھیں دنیا بھر میں خوار ہونے کے لیے چھوڑ دیا گیا ۔ فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم ہی کے نتیجے میں حماس وجود میں آئی اسی طرح بھارت میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کی وجہ سے وہاں کئی مذہبی انتہا پسند تنظیمیں بن گئیں، نیتن یاہو حماس کے خلاف ہیں، نریندر مودی لشکر طیبہ جیسی تنظیموں کے خلاف ہیں لیکن یہ محترمین اس بات پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں کہ یہ سب کچھ فلسطینیوں اور کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کا نتیجہ ہیں اور جب تک فلسطینیوں اور کشمیریوں کا مسئلہ حل نہیں ہوگا حماس اور لشکر طیبہ موجود رہیں گی۔
مختلف ملکوں کے درمیان اختلافات ایک عمومی بات ہے لیکن ہمارے جمہوری نظام کا المیہ یہ ہے کہ اس قسم کے اختلافات دشمنیوں میں اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ بات جنگوں تک پہنچ جاتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسانی معاشرے اس حد تک جہل میں غرق ہوگئے ہیں کہ اختلافات کو خواہ ان کی نوعیت کتنی ہی سنجیدہ کیوں نہ ہو بات چیت کے ذریعے حل نہ کیا جاسکے۔
دنیا کی مخلوقات میں انسان کو اشرف المخلوقات اس لیے ہی کہا گیا ہے کہ اس میں عقل، شعور، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہے، وہ نفع نقصان کو سمجھتا ہے اس میں اچھے برے کی تمیز ہوتی ہے لیکن آج کے انسان پر نظر ڈالیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسان اشرف نہیں رہا بلکہ بدترین ہوکر رہ گیا ہے۔ اگرچہ اس کا اصل سبب ذاتی اور جماعتی و ملکی مفادات ہیں لیکن یہ مفادات اس غلیظ نظام کے پیدا کردہ ہیں جسے دنیا سرمایہ دارانہ نظام کے نام سے جانتی ہے۔
بھارت دنیا کا آبادی کے حوالے سے دوسرا بڑا ملک ہے لیکن اس کے حکمرانوں میں انسانیت کے بجائے قبائلی مزاج پایا جاتا ہے۔ 1947 میں انگریزوں کی سازش اور کچھ دیہاڑی دار لوگوں کی بے ایمانی سے فرقہ وارانہ ذہنیت کو فروغ حاصل ہوا اور اس کے نتیجے میں 22 لاکھ بے گناہ انسانوں کے قتل عام کی شکل میں ظاہر ہوا لیکن یہ تقسیم وقت کے ساتھ گہری ہوتی چلی گئی اور مذہبی انتہا پسندی فروغ پاتی رہی۔ اسرائیل اور بھارت میں ایسے بے شمار لوگ اور تنظیمیں موجود ہیں جو فلسطین اورکشمیر کے مسئلوں کو ان ملکوں کے عوام کی مرضی کے مطابق حل کرنے کی حامی ہیں لیکن نفرت اور تنگ نظریوں کے ان نقار خانوں میں طوطیوں کی آواز کون سنتا ہے۔
بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کا تعلق نچلے اور انتہائی غریب طبقے سے ہے اور دنیا کی یہ امید بجا ہے کہ غریب طبقے کا وزیر اعظم غریب طبقات کے نقصان سے واقف ہوتا ہے لیکن جب کوئی شخص خواہ اس کا تعلق غریب طبقے ہی سے کیوں نہ ہو ،کسی ملک کا سربراہ بن جاتا ہے تو غربت سے اس کا رشتہ ختم ہوجاتا ہے اور وہ ریاستی ضرورتوں کا اسیر ہوکر رہ جاتا ہے اور سرمایہ دارانہ نظام میں ریاستی ضرورتوں میں سب سے بڑی ضرورت ''قومی مفاد'' ہوتا ہے۔ قومی مفاد اگرچہ سرمایہ دارانہ نظام کا بنیادی فلسفہ اور اسلحے کی تیاری اور تجارت کا بڑا وسیلہ ہے لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے مفکروں نے اس فلسفے کو اس قدر متبرک بناکر رکھ دیا ہے کہ کوئی شخص قومی مفاد کے خلاف زبان نہیں کھول سکتا۔
جنوں کا نام خرد اور خرد کا نام جنوں
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
ہتھیاروں کی تیاری اور تجارت دونوں ہی عوام دشمن عنصر ہیں لیکن سرمایہ دارانہ نظام میں ملکوں کے درمیان اختلافات کو ''ماہرین'' جنگوں تک پہنچاکر اسلحے کی صنعت کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔کیا فلسطین اور کشمیر کے مسائل اتنے پیچیدہ ہیں کہ وہ بات چیت کے ذریعے حل نہیں ہوسکتے؟
ایسا بالکل نہیں ہے دونوں مسائل نیت نیک ہو اور ان مسئلوں کو حل کرنے والے ان مسئلوں کو انسان کی حیثیت سے حل کرنا چاہتے ہوں تو یہ مسئلے گھنٹوں میں حل ہوسکتے ہیں لیکن سرمایہ دارانہ نظام نے انسان کو حیوان بنادیا ہے پھر یہ مسئلے کیسے حل ہوسکتے ہیں اگر نریندر مودی ہندو کے بجائے انسان نیتن یاہو یہودی کے بجائے صرف انسان بن کر یہ مسائل حل کرنا چاہیں تو انھیں حل ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا، لیکن کیا یہ ممکن ہے؟