ڈومیسٹک کرکٹ سے چھیڑچھاڑ آخر کب تک

اگر سارے سفارشی ڈومیسٹک کرکٹ کھیل رہے ہوتے تو فخر زمان، شاداب و دیگر کیسے اسکواڈ کا حصہ بنتے


Saleem Khaliq July 15, 2017
اگر سارے سفارشی ڈومیسٹک کرکٹ کھیل رہے ہوتے تو فخر زمان، شاداب و دیگر کیسے اسکواڈ کا حصہ بنتے۔ فوٹو: فائل

BAHAWALPUR: کتنا عجیب لگے جب کراچی کی ٹیم قائد اعظم ٹرافی جیتے، اس کا بہترین بیٹسمین کامران اکمل اور بیسٹ بولر عمر گل ہو،یا لاہور کی چیمپئن ٹیم کا ٹاپ پلیئر کراچی کا فواد عالم ہو، قومی یکجہتی یقیناً بہت اچھی بات ہے لیکن یہ پاکستانی ٹیم یا پی ایس ایل میں ٹھیک لگتا ہے، اگر ہر جگہ ہم ڈرافٹ سسٹم اپنائیں گے تو مقامی کھلاڑی کہاں کھیلیں گے، مگر پی سی بی نے سوچے سمجھے بغیر یہ بڑا قدم اٹھا لیا،اب ریجنل ٹیموں میں8 مقامی اور 12 ڈرافٹنگ سے منتخب شدہ کھلاڑی شامل ہونگے، کراچی کی آبادی2جبکہ لاہور کی تقریباً ایک کروڑ ہے،ان میں سے ہزاروں کرکٹ کھیلتے ہوں گے۔

اب سوچیں کہ صرف8 فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلیں تو دیگر کیا کریں؟ ویسے ہی محدود وسائل کی وجہ سے اب ماضی کی طرح زیادہ لڑکے کھیل میں نہیں آ رہے،ایسے میں اب کم از کم فرسٹ کلاس کرکٹ تو کھیلنے والا خواب بھی توڑنے کا منصوبہ بنا لیا گیا ہے، ہر ٹیم جیتنے کیلیے ظاہر ہے دیگر شہروں کے بہترین کھلاڑی بھی شامل کرے گی، پھر ڈومیسٹک کرکٹ کا کیا فائدہ رہ جائے گا، بورڈ آفیشلز کا خیال ہے کہ ایسوسی ایشنز سیاست کر رہی ہیں اور یہ فیصلہ ذاتی پسند ناپسند کا سلسلہ ختم کرنے کیلیے کیا گیا ہے۔

ایسی بات پر تو صرف ہنسا ہی جا سکتا ہے، جس ملک میں سینٹرل کنٹریکٹ بھی من پسند پلیئرز اور بھانجے بھتیجوں کو دیا جائے وہاں ریجنل ٹیموں میں کیا ہو گا وہ سب جانتے ہیں، ایسوسی ایشنز کا عمل و دخل پہلے ہی محدود کیا جا چکا تھا اب رہا سہا کردار بھی ختم ہو جائے گا، ریجنل چیف اور کوچ کیا کر سکیں گے یقیناً انھیں اکثریت کے ساتھ جانا ہوگا، افسوس ہماری ڈومیسٹک کرکٹ کا حال بھی ایسی خواتین جیسا ہو چکا جنھیں مارننگ شوز میں بلا کر مختلف بیوٹیشنز چہرے پر تجربات کرتی ہیں اور میک اپ سے لدی پھندی اچھی خاصی شکلیں بھی عجیب ہو جاتی ہیں، یہاں بھی ہر سال ڈومیسٹک سیٹ اپ میں تبدیلیاں ہوتی ہیں جس سے حال خراب ہو چکا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ سسٹم بناتے ہیں اگلے برس انہی کواس میں خامیاں دکھائی دیتیں اور پھر کچھ نہ کچھ تبدیل کر دیتے ہیں، واہ کیا ویژن ہے ان کا، موجودہ سسٹم سے ہی نئے کھلاڑی سامنے آئے اور قومی ٹیم کی نمائندگی بھی کر رہے ہیں۔

اگر سارے سفارشی ڈومیسٹک کرکٹ کھیل رہے ہوتے تو فخر زمان، شاداب و دیگر کیسے اسکواڈ کا حصہ بنتے، یقیناً نظام میں خامیاں ہیں لیکن اسے ماہرین کو دور کرنا چاہیے، بڑے بڑے کھلاڑیوں کو بلائیں وہ ساتھ بیٹھیں اور تجاویز دیں، پی سی بی پھر ان کا جائزہ لے اور جو تبدیلیاں کرنا ہوں وہ کرے،اس کے بعد آئندہ پانچ سال اس سسٹم کو نہ چھیڑا جائے، جب وقت مکمل ہو تو پھر جائزہ لیں اور ضرورت محسوس ہو تو تبدیلی بھی کریں۔

ایسے ہر سال نئے نئے شوشے چھوڑنے سے کچھ نہیں ملنے والا، پی ایس ایل ایک ٹی ٹوئنٹی لیگ ہے اس میں ڈرافٹ سسٹم چل جاتا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے فرسٹ کلاس میں بھی رائج کر دیں، یہ مقامی ٹیلنٹ کی حق تلفی ہے، رہی بات ڈپارٹمنٹل ٹیموں کی تو وہ تو مضبوط رہیں گی کیونکہ کھلاڑیوں کو تنخواہیں ادا کرتی ہیں، بیچارہ ریجنل کرکٹر سال کا کتنا کما لیتا ہو گا؟

یہ سوچ کہ ڈرافٹنگ سے مقابلے کی فضا بڑھے گی درست نہیں ہے، اس طرح تو آپ فرسٹ کلاس کرکٹ میں بھی غیرملکی پلیئرز لے آئیں اس سے اور اچھے میچز ہوںگے، ڈومیسٹک کرکٹ پر مقامی کھلاڑیوں کا ہی حق ہے وہ ان سے نہ چھینیں، سلیکشن پر اعتراض ہے تو خود نظر رکھیں، ایسے اقدامات سے لوگوں کی قائد اعظم ٹرافی میں رہی سہی دلچسپی بھی ختم ہو جائے گی۔

لاہور میں منعقدہ حالیہ میٹنگز میں یہ بھی فیصلہ ہواکہ پچز پر مٹی کی تہہ7 میٹر تک لائی جائے گی کیونکہ وہ برسوں سے11 سے 13 تک ہے، شکر ہے اتنے برسوں بعد بورڈ کو اس حقیقت کا علم ہو گیا جس نے یہ مسئلہ ''دریافت'' کیا اس کا نام بھی ''پرائڈ آف پرفارمنس'' کیلیے پیش کرنا چاہیے،قائد اعظم ٹرافی کیلیے انگلینڈ سے گیندیں منگوائی جائیں گی،اس سے اخراجات تو بڑھیں گے دیکھتے ہیں میچز میں کیا فرق نظر آتا ہے،گراؤنڈز کو اپ گریڈ کرنے پر بھی پی سی بی بھاری رقم خرچ کررہا ہے، نیشنل اسٹیڈیم سے گھاس صاف کر دی گئی، پورا گراؤنڈ نیا بنے گا،کراچی اور لاہور جیسے بڑے سینٹرز جہاں آئندہ سال پی ایس ایل میچز ہونے کا امکان ہے ان کی حالت ضرور بہتر بنانی چاہیے۔

مگر دیگر تمام سینٹرز پر بہت زیادہ رقم اڑانے کا فائدہ کیا ہونا ہے؟ ویسے ہی بورڈ حکام غیر ملکی ٹورز اور دیگر مد میں کروڑوں روپے پھونک دیتے ہیں،یا تو یہ بات یقینی ہو کہ اس سال ملک میں انٹرنیشنل ٹیمیں آنے لگیں گی تو ضرور تمام سینٹرز کو اپ گریڈکریں ورنہ اس سے بس چند لوگوں کے بینک اکاؤنٹس میں ہی رقم بڑھے گی، اسی کے ساتھ جو اصل کام ہیں ان کا بھی سوچیں،کئی ماہ گزر چکے کراچی میں بڑی شان سے ادھوری ریجنل اکیڈمی کاافتتاح کیا گیا، تمام افسران یہاں تشریف لائے تقاریر بھی کیں مگر فوٹو سیشن کے بعد اب تک خاموشی ہے، اشتہار دینے کے باوجود کسی آفیشل کا تقرربھی نہیں کیا گیا، اکیڈمی فعال کریں تو بچے آکر کچھ سیکھیں مگر حکام کچھ سوچتے ہی نہیں،ان کی دلچسپی دیگر کاموں میں زیادہ ہے۔

آج کل تو چیئرمین بورڈ بننے کیلیے نجم سیٹھی جوڑ توڑ کر رہے ہیں حالانکہ ان کی راہ میں سوائے حکومت کی تبدیلی کے کوئی رکاوٹ نہیں ہے،بقول ان کے پی ایس ایل قدموں پر کھڑی ہو چکی، مالی فائدہ بھی ہونے لگا، یہ اور بات ہے کہ آڈٹ رپورٹ سامنے نہیں آ رہی، پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس زیادہ پیسہ آنہیں رہا البتہ خرچ خوب ہو رہا ہے اس لیے اخراجات میں احتیاط سے کام لینا چاہیے، اسٹیڈیمز کی تزئین وآرائش، تنخواہوں میں اضافے سمیت تمام معاملات میں پیسہ پانی کی طرح بہانا درست نہ ہوگا۔

آخر میں لاہور کی میٹنگ کا کچھ اور ذکر کر دوں، اس کی ایک تصویردیکھ کر عجیب سا احساس ہوا کہ سابق کپتان اور ٹیسٹ کرکٹ میں 8830، ون ڈے میں 11739 رنز بنانے والے موجودہ چیف سلیکٹر انضمام الحق اب ایک نان ٹیسٹ کرکٹر شکیل شیخ کی زیرسربراہی ہونے والے اجلاس میں شریک ہوئے، ''مشہور زمانہ'' سلمان بٹ بھی بطورڈپارٹمنٹل ٹیم کپتان پاکستانی ڈومیسٹک کرکٹ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والوں میں شامل تھے، دل میں یہ خیال آیا کہ یہ وہی انضمام ہیں جو بطور کپتان ڈریسنگ روم میں چیئرمین پی سی بی تک کو نہیں آنے دیتے تھے مگر اب وہ دور کہاں گیا، ہر ماہ محنت کے بغیر جب لاکھوں روپے مل رہے ہوں تو انا کو چیک دکھا کر تھپکی دینا آسان ہو جاتا ہے۔