امریکی امداد طالبان کے خلاف جنگ سے مشروط

یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ پاکستان تو افغانستان میں بہتر حالات کا خواہاں ہے


Editorial July 16, 2017
یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ پاکستان تو افغانستان میں بہتر حالات کا خواہاں ہے ۔ فوٹو : فائل

امریکی کانگریس کے ایک اہم پینل نے پاکستان کے لیے امریکی سول اور عسکری امداد کو افغان طالبان کے خلاف جنگ سے مشروط کرنے کے حوالے سے بل کی سماعت کا آغاز کردیا ہے۔ 2018 کے لیے اسٹیٹ فارن آپریشنز اپروپریشن ڈرافٹ بل کے ایک حصے کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیا گیا ہے، اس ڈرافٹ میں پاکستان کی امداد کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے لیکن سیکریٹری آف اسٹیٹ کو قومی سلامتی کو مدنظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

9/11 کے بعد دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان کے فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کرنے کے باوجود یہ بات لائق تعزیر ہے کہ مذکورہ بل میں پاکستان کی جانب سے پاک افغان خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عزم پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، کمیٹی کو اب بھی خطے کے حوالے سے امریکی حکمت عملی کے لیے پاکستانی عزم سے متعلق تشویش ہے جس میں دہشت گردی بھی شامل ہے۔ جب کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مخلصانہ کوششوں سے اب کسی کو انکار نہیں ہونا چاہیے۔

گزشتہ دنوں میں سینئر امریکی حکام اور قانون سازوں نے مشترکہ طور پر پاکستان کو واضح پیغام دیتے ہوئے زور دیا تھا کہ وہ طالبان کو شکست دینے میں امریکا اور افغان حکومت کی مدد کرے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسا کرنے میں ناکامی کی صورت میں امریکا پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کے حوالے سے دوبارہ غور کرے گا۔

یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ پاکستان تو افغانستان میں بہتر حالات کا خواہاں ہے لیکن خود افغانستان امن مخالف ڈگر پر چل رہا ہے، پاکستان کی بارہا مطلوب افراد کی حوالگی اور سرحد پار سے دراندازی کرنے والے دہشت گردوں کی شکایت کے باوجود افغانستان نے اب تک کوئی صائب اقدام کرنا تو درکنار الٹا افغان حکومت نے پاکستان پر الزام تراشیوں کے پہاڑ گرا رکھے ہیں۔ نیز بھارت کی سازشیں بھی عیاں ہیں جو خطے کے امن و امان کو سبوتاژ کرنے میں اہم محرک ہیں لیکن امریکا کا صرف پاکستان کی جانب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ''ڈو مور'' کا تقاضا سمجھ سے بالاتر ہے۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو نقصانات اٹھائے ہیں امریکی امداد اس کے مقابل کوئی حیثیت نہیں رکھتی، لیکن پھر بھی امریکی امداد کو مشروط کرنا جائز نہیں۔ آخر پاکستان کی مزید کتنی قربانیاں امریکا کو اپنی جانب راغب کرسکیں گی؟ امریکا کو سمجھنا ہوگا کہ پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو دہشت گردی کے خلاف حقیقی جنگ لڑ رہا ہے۔