بلغاریہ کا حزب اللہ پرخودکش حملے میں ملوث ہونے کاالزام

لبنان نے حزب اللہ کیخلاف بلغاریہ کے الزام کی مشترکہ تحقیقات کی پیشکش کردی


APP February 07, 2013
حزب اللہ ایران کی سرپرستی کارروائیاں کررہی ہے، اسرائیل، ایران نے الزام مستردکردیا. فوٹو: رائٹرز

بلغاریہ کی حکومت نے لبنان کی شیعہ ملیشیاحزب اللہ پرملک میں جولائی2012میں بس پرخودکش بم حملے میں ملوث ہونے کاالزام عائدکیاہے۔

جس میں5اسرائیلی سیاح اوران کابلغاری ڈرائیور ہلاک ہوگیا تھاجبکہ لبنان کاکہناہے کہ وہ بلغاریہ کے ساتھ اس واقعے کی تحقیقات میںتعاون کوتیارہے۔لبنانی وزیراعظم نجیب میقاتی نے ایک بیان میں کہاہے کہ لبنان کواس بات کااعتمادہے کہ بلغاری حکام واقعے کے تحقیقاتی نتائج کاسنجیدگی سے جائزہ لیں گے۔اسرائیل اورامریکانے واقعے سے متعلق بلغاریہ کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعدیورپی یونین سے مطالبہ کیاہے کہ وہ حزب اللہ کے خلاف کارروائی کرے۔

5

امریکی صدربارک اوباماکے انسداددہشت گردی کے مشیر اور مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کے نامزدسربراہ جان برینان نے ایک بیان میں یورپی ممالک سے مطالبہ کیاہے کہ وہ حزب اللہ کے ڈھانچے،مالی وسائل اورآپریشنل نیٹ ورک کوبے نقاب کرنے کیلیے فعال اندازمیں کارروائی کریں۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہونے بلغاریہ میں بس پرخودکش بم حملے کی تحقیقاتی رپورٹ کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ لبنانی جنگجوگروپ اوراس کے اتحادی ایران نے عالمی دہشتگردی کی مہم شروع کررکھی ہے۔

این این آئی کے مطابق بلغاریہ کے وزیرداخلہ ٹیٹانوف نے میڈیاکوبتایاکہ ان کے پاس یہ اطلاعات ہیںکہ2افرادجوکہ کینیڈین اور آسٹریلین پاسپورٹ رکھتے ہیں اور وہ 2006 سے 2010 تک لبنان میں رہائش پذیرتھے،وہ حزب اللہ کے ممبر ہیں اورانہیں حزب اللہ کی جانب سے مالی معاونت حاصل ہے۔دوسری جانب ایران نے بلغاریہ کے اس دعوے کومسترد کرتے ہوئے اس کی تردیدکی ہے۔