شہزاد احمد بھی رخصت ہوئے

ان کی وفات سے اردو ادب میں پیدا ہونے والا خلا تادیر پُر نہیں ہو سکے گا


Editorial August 03, 2012

اردو زبان کے نامور شاعر' ادیب اور نقاد شہزاد احمد کو جمعرات کی سہ پہر ان کے سیکڑوں مداحین کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ان کا بدھ کو لاہور میں اسی سال کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ شہزاد احمد بدھ کو معمول کے مطابق اپنے دفتر گئے اور وہاں روزمرہ کے کام سرانجام دیتے رہے' سہ پہر چار بجے کے قریب انھیں دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔

مرحوم شہزاد احمد کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ وہ موجودہ دور کے اپنے ہمعصر شعرائے کرام میں سب سے زیادہ پڑھے لکھے شخص تھے' جن کی دلچسپیوں میں شعر و ادب کے علاوہ فلسفہ' نفسیات اور پیور سائنسز کا عمیق مطالعہ بھی شامل تھا' تو بے جا نہ ہو گا۔ انھیں بچپن سے ہی شعر و شاعری کا گہرا شوق تھا۔ امرتسر کے مردم خیز شہر میں 1932 میں پیدا ہونے والے شہزاد احمد قیام پاکستان کے وقت تک میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کر چکے تھے جس کی بنا پر انھیں لاہور کے گورنمنٹ کالج میں فرسٹ ایئر میں داخلہ مل گیا۔

اس کالج سے انھوں نے پہلے نفسیات اور پھر فلسفے میں ایم اے کیا۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد انھوں نے عملی زندگی میں متنوع پیشے اختیار کیے جن میں نیلے گنبد کی ایک سائیکل کمپنی کی منیجری کے علاوہ روٹی پلانٹ کی افسری اور آخر میں مجلس ترقی ادب کی ڈائریکٹری بھی شامل ہے۔ شہزاد احمد نے اردو شاعری کو ایک نیا لہجہ اور ایک نیا رنگ دیا۔ وہ جتنے اچھے شاعر تھے اتنے ہی اچھے نثرنگار بھی تھے۔ انھوں نے متعدد انگریزی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا جو اردو ادب کے لیے ان کی گراں قدر خدمات میں سے ایک ہے۔ ان کی غزلوں کا پہلا مجموعہ صدف کے نام سے 1958 میں شایع ہوا تھا۔

1997 میں ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت نے انھیں تمغہ حُسن کارکردگی سے نوازا۔ انھیں احمد ندیم قاسمی کے انتقال کے بعد مجلس ترقی ادب کا ڈائریکٹر تعینات کیا گیا۔ ان کی وفات سے اردو ادب میں پیدا ہونے والا خلا تادیر پُر نہیں ہو سکے گا۔ ہماری دعا ہے کہ پروردگار انھیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔

مقبول خبریں