پشاور میں ایف سی کی گاڑی پر خود کش حملہ

آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعد کچھ عرصہ تک دہشت گردی کی کارروائیوں میں نمایاں کمی آ گئی تھی


Editorial July 19, 2017
آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعد کچھ عرصہ تک دہشت گردی کی کارروائیوں میں نمایاں کمی آ گئی تھی ۔ فوٹو :فائل

لاہور: پشاور کے علاقے حیات آباد میں ایف سی کی گاڑی پر خود کش حملے کے نتیجے میں پاک فوج کا میجراور ایک اہلکار شہید اور ایف سی کے 4اہلکاروں سمیت 10افراد زخمی ہو گئے' ایف سی کی دو گاڑیاں تباہ ہو گئیں' تحریک طالبان پاکستان نے حملے کی ذمے داری کا دعویٰ کیا ہے۔ چمن میں بھی چیک پوسٹ کے قریب بارودی مواد کے دھماکے میں ایک سیکیورٹی اہلکار شہید ہو گیا۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف' وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف' وزیر داخلہ چوہدری نثار اور گورنر خیبرپختونخوا کے گورنر اقبال ظفر جھگڑا نے خود کش حملے اور دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد قوم کے حوصلے متزلزل نہیں کر سکتے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے مذمتی بیان میں کہا کہ ایسی گھناؤنی کارروائیوں کے مرتکب عناصر جلد اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کے حملے معمول بنتے جا رہے ہیں جو اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ اس علاقے میں دہشت گردوں کا نیٹ ورک ایک بار پھر متحرک ہو گیا ہے۔

آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعد کچھ عرصہ تک دہشت گردی کی کارروائیوں میں نمایاں کمی آ گئی تھی جس سے یہ تاثر ابھرا کہ دہشت گردوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ ہو گیا اور ان کا نیٹ ورک کمزور ہونے کے باعث اب وہ بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی کارروائیوں کے قابل نہیں رہے، اس صورت حال پر شہریوں نے سکون کا سانس لیا۔ اندرون ملک مختلف علاقوں میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے آپریشن ردالفساد شروع کیا گیا جس میں سیکیورٹی اہلکاروں کو کافی حد تک کامیابی ملی' دہشت گردوں کی ایک تعداد کو گرفتار کر لیا گیا۔

اب پھر کچھ عرصہ سے دہشت گرد آئے دن بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پیدا کرنے اور اپنے وجود کا احساس دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دہشت گردوں کے ایک بار پھر متحرک ہونے سے اس گمان کو تقویت ملتی ہے کہ غیرملکی خفیہ ایجنسیاں ان کے کمزور ہوتے ہوئے نیٹ ورک کو ایک بار پھر سنبھالنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ یہ صورت حال پاکستان کے لیے پریشان کن ہے' سیکیورٹی اداروں کو ایک جانب داخلی سطح پر دہشت گردوں سے نمٹنا پڑ رہا ہے تو دوسری جانب سرحد پار سے انھیں ملنے والی امداد روکنے کے لیے اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں۔ بڑی قربانیاں دینے کے بعد یہ سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور انھوں نے اس ناسور کے خاتمے کا تہیہ کر رکھا ہے۔