ایک اور ڈرون حملہ

پاکستان کو ڈروم حملوں پر واضح اور دوٹوک موقف اختیار کرنا چاہیے تاکہ عوام کو پتہ چل سکے کہ اصل صورتحال کیا ہے۔


Editorial February 07, 2013
پاکستان کے مسلسل احتجاج کے باوجود امریکا نے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملے مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فوٹو: فائل

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکا کے بغیر پائلٹ کے اڑنے والے پریڈیٹر ڈرون طیاروں کے ذریعے کیے جانے والے میزائل حملوں کے خلاف پاکستان کی طرف سے مسلسل احتجاج کے باوجود امریکا نے اپنی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور پاک افغان سرحد سے متصل پاکستانی قبائلی علاقوں پر ڈرون حملے مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تازہ اطلاع کے مطابق شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے میں5 افراد ہلاک ہو گئے۔

بتایا گیا ہے کہ بدھ کو میر علی کی تحصیل اسپن وام میں ایک گھر میں امریکی جاسوس طیارے سے 6 میزائل داغے گئے جس کے نتیجے میں گھر میں آگ لگ گئی، واقعہ کے بعد مقامی افراد نے لاشوں اور زخمیوں کو میرانشاہ منتقل کیا جہاں پر متعدد زخمیوں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے اور جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے، حملے کے بعد بھی امریکی جاسوس طیارے کئی گھنٹے فضا میں پروازیں کرتے رہے جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ڈرون حملوں کے حوالے سے پاکستان کو ایک واضح اور دوٹوک موقف اختیار کرنا چاہیے تاکہ عوام کو پتہ چل سکے کہ اصل صورتحال کیا ہے۔ڈھلمل موقف سے حکومت کو بھی مشکل کا سامنا ہے اور عوام بھی حقائق سے لاعلم ہیں۔ اس صورتحال سے ملک میں کنفوژن پھیل رہی ہے۔ اس کا خاتمہ کرنا حکومت کی ذمے داری ہے۔