مسئلہ کشمیر پر خفیہ مذاکرات کی تجویز

چین آج بھی اپنے موقف پر اسی طرح قائم ہے کہ یہ بھارت کی ہٹ دھرمی ہے


Editorial July 20, 2017
چین آج بھی اپنے موقف پر اسی طرح قائم ہے کہ یہ بھارت کی ہٹ دھرمی ہے . فوٹو : فائل

امریکا نے پہلی بار مسئلہ کشمیر پر پیش رفت کے لیے خفیہ مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر دونوں ملکوں کو علانیہ طور پر مذاکرات کی بحالی میں کوئی مجبوری ہے تو پھر خفیہ سفارت کاری کے ذریعے ہی اس مسئلے کے حل کی طرف بڑی پہل initiativeکے لیے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے تاکہ خطے میں استحکام آئے، خطے میں قیام امن و استحکام پاکستان اور بھارت کی مشترکہ ذمے داری ہے۔

امریکی پیشکش اس وقت سامنے آئی ہے جب لائن آف کنٹرول کے سماہنی سیکٹر میں بھارت نے ایک بار پھر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک عورت اور بچہ شہید جب کہ 10 افراد زخمی ہوگئے، نجی ٹی وی کے مطابق بھارت نے لائن آف کنٹرول کے سماہنی سیکٹر میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چاہی، بروہ، ڈل کھمبہ میںشہری آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں ایک جوان سال خاتون یاسرہ بی بی اور 10سالہ بچہ محمد عامر شہید ہوگئے جب کہ بچے کا والد منصف داد شیل لگنے سے شدید زخمی ہوگیا، فائرنگ سے مزید 9افراد بھی زخمی ہوئے۔

بادی النظر میں ٹرمپ انتظامیہ نے عندیہ تودے دیا کہ مذاکرات کی جانب پیش رفت ناگزیر ہے مگر کیا یہ بہتر نہیں کہ امریکا کشمیر کے تنازع کے حل کے لیے سفارتکارانہ احکامات دینے کے بجائے ثالثی یا بات چیت کے ایک جامع میکنزم میں کلیدی کردار قبول کرلے تاکہ کشمیری عوام، بھارت اور پاکستان مل کر اس دیرینہ مسئلہ کا کوئی باوقار، پائیدار اور منصفانہ حل نکال لیں۔اس وقت ساری دنیا مسئلہ کشمیر کی صداقت اور کشمیریوں کے جائز کاز پر مبنی جدوجہد سے واقف ہے اور جانتی ہے کہ پاک بھارت تعلقات اس وقت تک معمول پر نہیں آ سکتے جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوجاتا۔ اسے برسوں سے لٹکائے رکھنے میں بھارتی سفارتی بد نیتی اور کہہ مکرنیوں کا ہی عمل دخل ہے ورنہ امریکا سمیت اقوام متحدہ کے لیے کشمیر کے تنازع کو نظر انداز کیے رکھنے کی تاریخ الم ناک نہیں تو اور کیا ہے۔

ادھر بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا پاکستان اور بھارت کو قریب لانے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات پھر سے بحال ہوں، انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے علانیہ مذاکرات کے بجائے خفیہ مذاکرات کا راستہ بھی اختیار کرسکتے ہیں اور وقت آنے پر اس کا کھل کر اظہار بھی کیا جا سکتا ہے، امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ علانیہ طور پر مذاکرات کی بحالی کے لیے امریکا بھی کوششیں جاری رکھے گا تاہم دونوں ممالک کو خفیہ سفارت کاری کو بھی جاری رکھنا ہو گا، لیکن اسی نکتہ پر جسے امکانی بریک تھرو پوائنٹ کہنا چاہیے امریکا ثالثی یا مجوزہ مذاکرات میں اپنے کلیدی رول کی حکمت عملی بھارت کو پیش کردے اور اس پر زور دے کہ کشمیر پر حتمی بات کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ، یوں بھارت کے لیے گریز یا ٹال مٹول کا کوئی آپشن نہیں رہے گاکیونکہ مودی حکومت کا سارا زور ٹرمپ انتظامیہ کی مہربانیوں اور نظر التفات کا حصول ہے۔

وہ دنیا کو جمہوریت ، سیکولرازم کی نام نہاد فعالیت اور دہشتگردی کے خاتمہ کا ڈھونگ رچاکر چین سے بھی جنگ چھیڑنے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے، لڑائی اگرچہ بھوٹان اور چین کے درمیان ہے مگر بھارتی فوجی اس میں شامل ہونے کی کوشش کررہے ہیں، انڈین ایکسپریس نے اس ضمن میں اشارتاً کہا ہے کہ بھوٹان کو ایک ''مسکراتے ڈریگن'' کا سامنا ہے ، جب کہ ہندوستان ٹائمز کے مضمون نگار سشیل ارون نے لکھا ہے کہ بھارت تنزلی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کو دیکھتے ہوئے چین اس کی عسکری اور معاشی بالادستی کو چیلنج کررہا ہے جب کہ بھارتی جنگی سرگرمیوں پر چین کا پیمانہ صبر لبریز ہونے کے قریب ہے۔ جہاں تک امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑیں تاکہ بہتر نتائج برآمد ہو سکیں تو پاکستان اس موقف پر آج بھی قائم ہے اور دہشتگردی کے خلاف اس کی قربانیاں بھارت سمیت پوری دنیا پر آشکار ہیں، امریکا کو پاکستانی سیاست، سماج اور معیشت پر نائن الیون کے بعد کے اندوہ ناک اثرات سے کماحقہ آگہی ہے۔

اس میں پاکستان سے کچھ شکوے گلے کی ضرورت ہی نہیں کہ دونوں مل کر دہشتگردی کا مقابلہ کریں، پاکستان خطے میں امن و استحکام کے مفاد میں ہر اقدام کے لیے تیار ہے تاہم عالمی برادری اور ٹرمپ انتظامیہ انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور کشمیر میں بھارتی رویے، ظلم و بربریت ، دھونس ، دھمکی اور کنٹرول لائن پر مستقل خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں، امریکا تسلیم کرے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان صورت حال کشیدہ ہے اسی لیے مذاکرات کی بحالی پر تعطل ہنوز برقرار ہے جس کا خاتمہ کرنے کے لیے امریکا مداخلت کرے۔ واضح رہے چین حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس کے صبر کے پیمانے کو لبریز نہ کیا جائے، چین کا بھارت کے سرحدی تنازعہ پر موقف نہایت واضح ہے ، کشیدگی پر کسی بھی قسم کی بات چیت سے قبل بھارت کو اپنی افواج واپس بلانا ہوں گی۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لوکانگ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو عقل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی افواج کو واپس بلانا چاہیے، چین کے صبر و تحمل کو کمزوری خیال نہ کیا جائے۔

چین آج بھی اپنے موقف پر اسی طرح قائم ہے کہ یہ بھارت کی ہٹ دھرمی ہے اصل میں یہ سرحدی علاقہ چین کا تھا اور رہے گا، صحافیوں سے گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ اس کشیدگی کے حل کے لیے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے قبل بھارت کو اپنی افواج واپس بیرکوں میں لے جانا ہوگی۔ دفترخارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے کہا ہے کہ کشمیر پاکستان کا اہم ترین حصہ ہے۔ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق ملنا چاہیے۔ کشمیر میں ہونے والے مظالم کو دنیا بھر میں اجاگر کرنا ہو گا۔ نیشنل پریس کلب کے زیر اہتمام پریس کلب راولپنڈی کیمپ آفس میں مسئلہ کشمیر کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مذہبی اور ثقافتی لحاظ سے بھی کشمیر پاکستان کا حصہ ہے، خواتین کی حالیہ تحریک کشمیرکے لیے تاریخی قربانیاں ہیں۔ حکومت مسئلہ کشمیرکوکسی صورت پس پشت نہیں ڈال سکتی، سابق صدر آزاد کشمیرسرداریعقوب خان نے کہاکشمیری آزادی حاصل کرکے رہیں گے۔ بھارت جو کر رہا ہے وہ اسے بھگتنا پڑے گا، آزادی کے لیے ہماری خواتین بچے بھی جلد اسلحہ اٹھا لیں پھر آزادی ہو کر رہے گی۔ ہم نے دنیاکودیکھ لیا، جب ہمارا کوئی نیا شہید ہوتاہے تو تحریک میں جذبہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

حریت پسند رہنمایاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا کہ پاکستان کا ہر بچہ بوڑھا کشمیرکی آزادی چاہتا ہے۔ پاکستان میں بھارتی ایجنٹوںکی دہشت گردی مسئلہ کشمیرسے توجہ ہٹانے کے لیے ہے، سی پیک منصوبے کو سبوتاژکرنے کے لیے کلبھوشن یادیوکو بھیجا گیا۔ را کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردی کی جا رہی ہے تاکہ پاکستان پردہشت گردی کا دھبہ لگایا جا سکے۔ یہ آواز جرس کارواں ہے، عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجوڑنے کے لیے کافی ہے، پاک بھارت مذاکرات کے لیے امریکا عملی کردار کے لیے تیار ہوجائے تب بھارت مانے گا۔