بارش سے شہر قائد ’’وینس‘‘ میں تبدیل

یوں لگتا ہے کراچی کے شہری سیاسی یتیم ہوچکے ہیں جن کے مسائل سے کسی بھی تنظیم کو کوئی سروکار ہی نہیں ہے۔


Editorial July 21, 2017
یوں لگتا ہے کراچی کے شہری سیاسی یتیم ہوچکے ہیں جن کے مسائل سے کسی بھی تنظیم کو کوئی سروکار ہی نہیں ہے۔ فوٹو : آن لائن

PESHAWAR: پاکستان کے معاشی ہب اور قائد کی جنم بھومی کو ''پیرس'' بنانے کے بلند بانگ دعوے تو ہر حکومت نے کیے تھے لیکن مون سون کی حالیہ بارشوں نے کراچی کو اٹلی کے شہر وینس میں ضرور تبدیل کردیا ہے۔ بدھ کی شام شہر قائد میں چند ملی میٹر بارش کیا ہوگئی،کچے اور مضافاتی علاقے تو دور کی بات شہر کے پوش علاقوںِ کی سڑکیں بھی زیر آب آگئیں، جب کہ بیشتر علاقوں میں نالے ابل پڑے۔ حالیہ بارشوں نے بلدیاتی اداروں کی ناقص کارکردگی کا پول سب سے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے۔

یہ وہی شہر ہے جہاں کی سڑکیں روز پانی سے دھوئی جاتی تھیں اور آج یہ حال ہے کہ برساتی نالوں کی بروقت صفائی نہ ہونے کے باعث بارش کے پانی کی نکاسی نہیں ہوپارہی ہے، اس پر مستزاد نالوں اور گٹر کی صفائی نہ ہونے سے گندا پانی مختلف علاقوں میں ابل رہا ہے۔کراچی کے عوام نوحہ کناں ہیں کہ آخر اس شہر کا کون ''اون'' کرے گا؟ اﷲ اﷲ کرکے بلدیاتی انتخابات ہوئے بھی تو اب تک اس بلدیاتی نظام کے ثمرات سامنے نظر نہیں آئے، اختیارات کی جنگ اور فنڈز کی کمی کا رونا جاری ہے یا پھر دیدہ و دانستہ شہریوں کے مسائل سے پہلوتہی برتی جارہی ہے۔

یوں لگتا ہے کراچی کے شہری سیاسی یتیم ہوچکے ہیں جن کے مسائل سے کسی بھی تنظیم کو کوئی سروکار ہی نہیں ہے۔ بدھ کی بارش کے بعد شاہراہوں اور چورنگیوں پر جو بدترین ٹریفک جام نظر آیا وہ انتظامیہ کے اپنی ذمے داریوں سے انحراف کا شاخسانہ ہے۔ دوسری جانب نشیبی علاقوں میں برساتی پانی تالاب کا منظر پیش کرنے لگا، شہر میں جاری ترقیاتی کاموں کے مقامات پر بارش کے بعد کیچڑ پھیل گیا، جس سے لوگوں کو پیدل چلنے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑا، درجنوں موٹر سائیکل سوار گر کر زخمی ہوگئے۔

جو ریاست اپنے قیام کے ستر سال بعد بھی اپنے سب سے بڑے اور ریونیو دینے والے شہر کی صحیح منصوبہ بندی نہ کرسکی اس کی ترقی پذیر ملکوں کی دوڑ میں شمولیت مشکوک ہوجاتی ہے۔ اور یہ صرف شہر قائد کا ہی نوحہ نہیں بلکہ اندرون سندھ اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھی بارش کے بعد یکساں صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سیاسی میدانوں میں آج کل پانامہ کیس اور جے آئی ٹی کا شہرہ ہے، شہر قائد کی تباہ حال صورتحال پر بھی کوئی جے آئی ٹی بننی چاہیے۔ اداروں کی غفلت اور اپنی کوتاہیاں دوسروں کے سر ڈالنے کا وطیرہ اب ختم ہونا چاہیے۔