خیبر ایجنسی میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن

پاکستان متعدد بار افغانستان کو دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ آپریشن کی پیشکش کر چکا ہے


Editorial July 22, 2017
پاکستان متعدد بار افغانستان کو دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ آپریشن کی پیشکش کر چکا ہے ۔ فوٹو : فائل

خیبر ایجنسی کی وادی راجگال میں پاک فوج کے آپریشن خیبر فور کے دوران 13دہشت گرد ہلاک اور ان کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے جب کہ جھڑپ کے دوران پاک فوج کا ایک سپاہی شہید ہوگیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اسپیشل سروسز گروپ کے خصوصی دستوں نے 90کلو میٹر کا علاقہ دہشت گردوں سے آزاد کرواتے ہوئے ان کے گرد گھیرا مزید تنگ کر دیا' دہشت گردوں کی جانب سے نصب بارودی اور دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ آپریشن خیبر فور آپریشن ردالفساد ہی کا ایک حصہ ہے۔

پاک فوج نے خیبر ایجنسی میں حالیہ آپریشن کے دوران بڑی کامیابی حاصل کی ہے' 90کلو میٹر کا علاقہ دہشت گردوں سے چھین کر ان کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جا رہا ہے اور امید ہے کہ جلد تمام علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کر دیا جائے گا۔ اس سے پیشتر شمالی وزیرستان میں پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب میں بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی اور سارے علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کر کے وہاں نہ صرف امن و امان بحال کیا بلکہ بہت سے ترقیاتی منصوبے بھی مکمل کیے۔ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان کو بہت بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے اور اب بھی اس کا تسلسل جاری ہے۔

یہ جنگ کب تک جاری رہتی ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا یہ ایک طویل اور صبر آزما مرحلہ ہے جس میں صرف پاک فوج ہی کو نہیں سیاسی قیادت اور پوری قوم کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ پاکستان نے اس جنگ میں جو قربانیاں دی ہیں امریکا سمیت پوری دنیا نے اس کا اعتراف کیا ہے لیکن حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اس اعتراف کے ساتھ ساتھ امریکا پاکستان پر دہشت گردی کے حوالے سے مختلف الزامات عائد کرنے سے بھی باز نہیں آتا' کبھی ڈو مور کا مطالبہ کرتا ہے تو کبھی آپریشن کو مخصوص طبقے کے خلاف کارروائی قرار دے کر دباؤ ڈالنا شروع کر دیتا ہے۔

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے دہشت گردی کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں الزامات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے ایک مخصوص گروہ کے خلاف کارروائی کر رہا ہے اس نے افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف موثر کارروائی نہیں کی' اس رپورٹ میں مزید الزامات عائد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں جہادی گروپ اب بھی چندہ اکٹھا کر رہے ہیں اور انتظامیہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں امریکی رپورٹ میں عائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پرعزم ہیں اور تمام گروہوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جا رہی ہے۔

امریکا اس حقیقت سے نظریں چرا رہا ہے کہ پورا خطہ دہشت گردی سے متاثر ہے اور اس عفریت کا نیٹ ورک پاکستان اور افغانستان سمیت دیگر علاقوں تک پھیلا ہوا ہے، صرف پاکستان پر الزامات عائد کرنے یا ڈومور کا مطالبہ کرنے سے معاملات بہتر نہیں ہوں گے اگر دہشت گردی کے ناسور کو جڑوں سے ختم کرنا ہے تو پھر افغانستان سمیت پورے خطے کے بارے میں حکمت عملی طے کرنا ہو گی۔ صورت حال یہ ہے کہ افغانستان میں امریکی' نیٹو فورسز اور افغان افواج کی موجودگی کے باوجود وہاں دہشت گردوں کے اڈے موجود ہیں وہ مسلسل اتحادی اور افغان افواج پر حملے کر رہے ہیں' افغانستان کے بہت سے علاقے ابھی تک جنگجوؤں کے قبضے میں ہیں جنھیں امریکی اور نیٹو فورسز آزاد کرانے میں ناکام ہو چکی ہیں، پاکستان سے فرار ہونے والے دہشت گردوں نے افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں' پاکستان کے بار بار مطالبے کے باوجود امریکی اور افغان فورسز ان دہشت گردوں کو گرفتار نہیں کر رہیں۔ جب تک افغانستان میں دہشت گردوں کے اڈے موجود ہیں پاکستان پر ڈومور کا جتنا بھی دباؤ ڈال لیا جائے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔

پاکستان متعدد بار افغانستان کو دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ آپریشن کی پیشکش کر چکا ہے لیکن ابھی تک اسے کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔ خطے میں دہشت گردوں کے بے چہرہ اور بے شناخت حامی اور سہولت کار بڑی تعداد میں موجود ہیں جو نہ صرف دہشت گردوں کو فنڈنگ کرتے ہیں بلکہ ان کی کارروائیوں میں انھیں تمام سہولتیں بھی بہم پہنچاتے ہیں' اس لیے ناگزیر ہے کہ دہشت گردوں کی عملی طور پر حمایت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔