کویت اور ایران کے درمیان سفارتی محاذ آرائی

کویت نے15 ایرانی سفارتکاروں کو ملک بدر کرتے ہوئے ملک میں موجود ایران کےثقافتی، فوجی اورتجارتی مشن بندکردیے


Editorial July 22, 2017
کویت نے15 ایرانی سفارتکاروں کو ملک بدر کرتے ہوئے ملک میں موجود ایران کےثقافتی، فوجی اورتجارتی مشن بندکردیے ۔ فوٹو : فائل

MADRID: کویت نے15 ایرانی سفارتکاروں کو ملک بدر کرتے ہوئے ملک میں موجود ایران کے ثقافتی، فوجی اور تجارتی مشن بند کر دیے ہیں۔ کویتی وزارت اطلاعات کے مطابق ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کے معاملے میں بعض تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔ کویت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ملک میں ایران کا ثقافتی مشن اور اس سے متعلقہ دفاتر کو بند اور ایرانی سفارت کاروں کی تعداد کو کم کر رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اس اقدام کا تعلق 2015ء میں دہشتگردوں کے سیل توڑے جانے کے اس کیس سے ہے، جس میں کویتی انتظامیہ کی جانب سے الزام لگایا گیا تھا کہ سیل توڑنے والوں کے ایران اور دہشتگرد گروپ حزب اللہ سے روابط تھے۔ کویت کے قائم مقام وزیر اطلاعات شیخ محمد المبارک نے کہا کہ عدالت کی جانب سے دہشتگرد گروہ کو سزا سنائے جانے کے بعد ایرانی سفارت کاروں کی ملک بدری کا فیصلہ کیا گیا۔ ذرایع کے مطابق کویت نے ایرانی سفارت کاروں کی تعداد بھی کم کر کے 9 کر دی ہے اور اضافی سفارتی عملہ کو ڈیڑھ ماہ میں ملک سے چلے جانے کی ہدایت کی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق ایران نے کویت کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات کی شدید مذمت کی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام گاسمی نے دھمکی دی کہ وہ کویت کو سخت جواب دے گا۔ انھوں نے کہا کہ ایران جوابی عمل کا حق رکھتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے ایران میں کویتی نمائندے کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی شدید بحران ہے' اب اس نئے تنازع سے عربوں اور ایران کے تعلقات مزید بگڑیں گے' بدقسمتی سے مشرق وسطیٰ میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے' اس کے پس پردہ امریکا' روس اور دیگر بڑی طاقتوں کی سازشیں ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک کے حکمران اور پالیسی ساز بھی اس میں برابر کے شریک ہیں' کویت اور ایران کے درمیان جو سفارتی جنگ شروع ہوئی ہے' یہ دونوں ملکوں کے لیے اچھا نہیں ہے' مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے اس خطے کے مسلم ملکوں کی قیادت پر ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے مفادات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کریں' فرقہ واریت اور نسل پرستی کے رجحانات کو ختم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں کیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ پورا خطہ انارکی اور خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔