پولیس اہلکاروں پر دہشتگردانہ حملے قابل مذمت

گزشتہ 3 ماہ میں متعدد بار پولیس موبائلوں پر حملوں کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔


Editorial July 23, 2017
گزشتہ 3 ماہ میں متعدد بار پولیس موبائلوں پر حملوں کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔۔ فوٹو : فائل

ملک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، رینجرز اور پولیس پر دہشتگردوں کے قاتلانہ حملے جاری ہیں، جن کا سدباب ہونا ضروری ہے۔ جمعہ کے روز بھی کراچی کے علاقے کورنگی میں دارالعوام کے قریب دہشتگردوں نے عوامی کالونی تھانے کی پولیس موبائل پر اندھادھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں موبائل افسر سمیت 3 اہلکار جاں بحق ہوگئے، جب کہ فائرنگ کی زد میں آ کر ایک راہگیر بچہ جاں بحق اور ایک لڑکا شدید زخمی ہو گیا۔ تین موٹر سائیکلوں پر سوار 6 دہشتگردوں نے سیاہ رنگ کے ہیلمٹ پہنے ہوئے تھے جنھوں نے پولیس موبائل پر سامنے اور عقب سے فائرنگ کی۔

یہ امر قابل توجہ ہے کہ پولیس اہلکاروں نے اپنی حفاظت کے لیے بنائی جانے والی ایس او پی پر عملدرآمد نہیں کیا جس کی وجہ سے دہشتگردوں کو موقع ملا، جاں بحق ہونے والے تینوں اہلکاروں نے نہ تو بلٹ پروف جیکٹ پہنے ہوئے تھے اور نہ ہی ہیلمٹ۔ شہر کے مختلف علاقوں میں رواں سال کے دوران اب تک پولیس پر کیے جانے والے حملوں میں 4 پولیس افسران سمیت 13 اہلکار جاں بحق ہوئے ہیں، ان حملوں کے دوران کوئی بھی پولیس افسر یا اہلکار بلٹ پروف جیکٹ نہیں پہنے ہوا تھا۔

یوں لگتا ہے شہر میں دہشتگرد و شرپسند عناصر کو کھلی آزادی دے دی گئی ہے جو وہ یوں باآسانی ایک مصروف شاہراہ پر پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے بعد فرار ہوجاتے ہیں۔ شہر میں جگہ جگہ ناکہ بندی اور پولیس موبائلوں کے گشت کے باوجود مسلح ملزمان کا یوں دندناتے پھرنا تشویشناک امرہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانا شہر کے امن کے خلاف سازش ہے۔

مسلح دہشتگردوں کی جانب سے پولیس موبائلوں پر حملے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو شہر میں قائم امن و امان کی فضا کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے اور جس سے نہ صرف پولیس اہلکاروں بلکہ شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔ گزشتہ 3 ماہ میں متعدد بار پولیس موبائلوں پر حملوں کے واقعات رونما ہو چکے ہیں تاہم ابھی تک کوئی ایک بھی دہشتگرد گرفتار نہیں کیا جا سکتا ہے جو کراچی میں امن و امان کے دعوؤں کی کھلی نفی ہے۔

حکومت سندھ شہر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی دہشتگردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے پولیس کے محکمے کو مطلوبہ وسائل فراہم کرے اور ادارے کو سیاست سے پاک کر کے میرٹ کی بنیاد پر سندھ پولیس سمیت دیگر حکومتی امور چلائے جائیں۔ نیز پولیس اہلکاروں کو بھی اپنے حفاظتی پلان پر عمل کرتے ہوئے ہر وقت چوکس رہنا چاہیے۔